Chitral Times

Jan 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بادشاہت، فرعونیت یا جموریت؟؟؟ ….. پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:


 سیاہ کو سفید میں بدلنے کی صلاحیت وکلاء اور رنگ سازوں کے علاوہ سیاستدانوں کے پاس بھی موجود ہے۔قانون کو عوامی ضمیر سمجھا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں قانون کو ضمیر کے بجائے وزیر سمجھا جا تا ہے۔ ایسا نظام جو انصاف مہیا کرنے میں ناکام ہو جائے وہ اپنی وقعت کھو دیتا ہے۔جب قانون بنانے والے قانون اڑانے والے بن جائیں تو کس سے شکوہ کیا جائے۔ عجب جمہوریت ہے جہاں غریب کے قوانین امیر، عورتوں کے مرد اور نوجوانوں کے بوڑھے بناتے ہیں۔ قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں صرف غریب ہی پھنستے ہیں۔چند خاندانوں کی موروثیت، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کے لیے قانونی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ہر محکمے میں ریٹائرمنٹ کی عمر مقرر ہے تو پھر ہمارے ارکان اسمبلی اور سینیٹ کے لیے کیوں نہیں؟اپنے اور عوام کے لیے یہ دہرا میعار کونسی جمہوریت ہے؟ ممبر پارلیمنٹ کس بات کی پنشن اور دیگر مراعات لیتے ہیں جبکہ وہ کسی محکمے کے ملازم نہیں ہیں بلکہ عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت منتخب کیے جاتے ہیں جس میں ریٹائرمنٹ اور ملازمت کا ذکر نہیں ہے۔ ستم ظریفی دیکھیں ایک بار ریٹائر ہو نے کے بعد دوبارہ منتخب ہو جاتے۔

یوں لگتا ہے جیسے یہ ملک یا تو کرنلوں، برگیڈیئرروں، جنرلوں اور سیاستدانوں کے لیے ہی بنا ہے اور ہم صرف ان کی توندیں بڑی کرنے کے لیے موجود ہیں۔ موجودہ قوانین کے مطابق رکن پارلیمنٹ پانچھ سال کے بعدپنشن اور دیگر مراعات لیتا ہے جو غیر قانونی اور سراسر ظلم ہے۔ارکان اسمبلی اور ممبر پارلیمنٹ کی تنخواہوں کا تعین اور ان میں اضافہ سنٹرل پے کمیشن کے تحت ہوناچاہیے جبکہ موجودہ قوانین اور نظام کے تحت وہ اپنے لیے خود ووٹ ڈال کر اپنی تنخواہ جتنی چاہیں بڑھا لیتے ہیں۔یہ بادشاہت ہے؟جمہوریت ہے یافرعونیت؟ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ اپنے لیے الگ قوانین بناتے ہیں جبکہ عوام کے لیے الگ کیا یہ جمہوریت ہے؟ ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ اپنی موجودہ صحت کی مراعات سے دستبردار ہوں اور عام عوام کو ملنے والی صحت کی سہولیات میں شامل ہوں اور یہ وہ واحد حل ہے جس کے زریعے ہم اپنی ملکی صحت کی بگڑتی صورتحال کو درست کر سکتے ہیں۔اگر عام آدمی کو مفت سالانہ سفری سہولیات، بجلی، پانی، گروسری، ٹیلی فون بلزکی سہولیات میسر نہیں ہیں تو ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ کیا آسمان سے ٹپکے ہیں جو ان کو عوام کے ٹیکسوں پر پالا جا رہا ہے۔ ان کی یہ سب مراعات بھی ختم کر دینی چاہیے۔یہ عوامی خدمت کے من گھڑت اور دوغلے نعروں کے ساتھ عوام پر فرعونیت مسلط کیے ہوئے ہیں۔ ارکان اسمبلی و پارلمینٹ نہ صرف من مرضی سے یہ مراعات لینا اپنا حق سمجھتے ہیں بلکہ انتہائی بے شرمی، بے حسی، دھونس او ر طاقت کے زریعے ان میں مسلسل اضافہ بھی کر تے چلے جاتے ہیں۔مختلف مقدمات اور قانون شکن سرگرمیوں میں ملوث ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ پر کسی بھی قسم کا الیکشن لڑنے یا عوامی عہدے پر پابندی لگانی چاہیے۔

عام آدمی پر ایک بھی ایف آئی آر کٹ جائے تو اسے سرکاری ملازمت کا اہل نہیں سمجھا جاتا تو جن پر درجنوں اور سینکڑوں ایف آئی آر اور مقدمات ہوں وہ رکن اسمبلی و پارلیمنٹ بن جا تے ہیں۔ یہ ظلم کا نظام ہے۔ کفر کا نظام تو چل سکتا ہے مگر ظلم کا نظام نہیں چل سکتا۔ ارکان اسمبلی و پالیمنٹ کی وجہ سے قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کو ان کی جائیدادیں بیچ کر یا ان کے قریب رشتہ داروں سے وصول کیا جائے اور ان کی جائیدادیں ضبط کر لی جائیں۔ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ کو عام آدمی کی طرح قوانین کی نہ صرف پابندی کرنے پر مجبور کیا جائے بلکہ ان کے ساتھ عام آدمی جیسا سلوک کیا جائے۔یہ دہرے میعار اور دہرے قوانین کہاں کی انسانیت اور جمہوریت ہے؟ ارکان اسمبلی و پالیمنٹ بھی انہیں سڑکوں پر عام آدمی کی طرح سفر کریں اور عوام کے لیے سڑکیں بند کر نے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ مگر جب نوکر آقا بنا دیا جائے پھر مالک یعنی عوام رلتی رہتی ہے اور عوام کی خدمت کے نام پر وزیر بننے والے فرعون بن جا تے ہیں۔ ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ کو سب سے پہلے پہنچنا چاہیے مگر ایسا ہو تانہیں ہے۔ ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ اپنے اثاثہ جات سامنے لائیں اور ان سے ان اثاثہ جات کا زریعے آمدن طلب کیا جائے نہ کے سرمایہ داروں کو غریبوں پر حکمران بنانے کے قوانین بنائے جائیں۔ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ کا سالانہ بنیادوں پرآزادنہ آڈٹ ہونا چاہیے۔جیسے ہی کوئی ممبر استعفی دے یا دستبردار ہو اس کافوری آزادانہ آڈٹ ہونا چاہیے۔ ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ جس پارٹی سے منتخب ہوں وہ اسی پارٹی کاحصہ رہ کر نظام میں شامل ہوں تا کہ ہارس ٹریڈینگ کو ختم کیا جا سکے۔ خفیہ کے بجائے اوپن ووٹ کا قانون لاگو کیا جائے۔ ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھائیں نہ کے اپنی مرضی کے اداروں اور بیرون ملک۔ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں تاکہ انہیں عام آدمی کی مشکلات کا اندازہ ہو۔ انکے لیے تمام مخصوص کوٹے ختم کیے جائیں۔

جس ملک میں نائب قاصد کے لیے تو عمر اور تعلیم کی حد مقررہو مگر رکن اسمبلی و پالیمنٹ کے لیے نہ ہو اس ملک میں جمہوریت نہیں بادشاہت اور فرعونیت ہے۔ جس ملک میں انڈر میٹرک کو باورچی بھی نہیں رکھا جاتا اس ملک میں رکن اسمبلی کے لیے میڑک کی شر ط بھی ختم کر دی جائے تو یہ راجہ جی کی راجنیتی ہے وہ جو مرضی کریں۔ تمامحکموں میں نوکری کرنے کے لیے مقابلے کے امتحان ہیں مگر رکن اسمبلی و پارلیمنٹ بننے کے لیے کوئی ٹیسٹ یا امتحان ہی نہیں ہے۔ جس نے ایک محکمہ چلانا اس کے لیے تو امتحان ہے مگر جس نے قوم وملک کی باگ ڈور سنبھالنی اس کے لیے کوئی ٹیسٹ انٹرویو اور امتحان نہیں ہے۔ ہمارے سپیکر صاحب فرماتے آپ کا بچہ این ٹی ایس پاس نہیں کر سکتا نوکری کیسے دوں تو جناب سپیکر پہلے آپ خود تو این ٹی ایس پاس کر کے دکھا دیں۔ نوجوان اور سول سوسائٹی اس ملک میں آئینی اصلاحات لانے کے لیے آگے بڑھیں تاکہ عوام کوان سرمایہ داروں، موروثی حکمرانوں اور جاگیرداروں کے چنگل سے نجات دلائی جا سکے۔ ظلم کے اس نظام کے خلاف جدوجہدمیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور غلام ابن غلام سے نکل کر اپنے حقوق کی آواز بلند کریں۔


شیئر کریں: