Chitral Times

Jan 17, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میرے کپتان کی اچھی حکمت عملی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد آمین:

شیئر کریں:

جب  سے کپتان نے حکومت سنبھالا ہے تب سے اس سے مختلف مسائل کا سا منا کرنا پڑاہے،یعنی کہ پہلے ہی دن سے اس سے قومی خزانہ خالی ملا۔بیرونی اور ندرونی قرضون کا بوجھ سر پر موجود تھا،بیروکریسی کا مسلہ الگ تھا جو سٹاس کو سے باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں تھے۔سیاستدانوں کی غیر سنجیدہ پالیسیوں اورملی آو بگھت سے سیاسی عدم استحکام ہر طرف نظر اتا تھا،ساتھ ہی ملکی خارجہ پالیسی بھی درست سمت میں کام نہیں کر رہی تھی،دہشت گردی بھی ملکی ہم اہنگی اور ریاستی اداروں کے لیئے سر درد بنا ہو اتھا۔


ان حالات میں میرے کپتان کے سامنے دو اہم اہداف تھے،کرپشن سے پاک پاکستان اور انصاف کی صحیح معنوں میں عوام کی دہلیز تک رسائی۔لیکن یہ دونوں ٹارگٹ اساں نہیں تھے کیونکہ جہان تک کرپشن کا تعلق ہے ریاست کے کوئی ادارے اور افراد اس سے پاک نہیں ہیں جو پورے معاشرے کو دہمک کی طرح کھا رہی ہے۔اور دوسر ی طرف کرپٹ مافیا کا مقابلہ بھی اسان نہیں ہے جو اس راستے میں نت نئے طریقے اختیار کرتے ہیں اور رکاوٹیں کھڑے کرتے ہیں جن کی مثالین ہمارے سامنے مختلف تحریکوں کی شکل میں موجود ہیں  کہ مفادات کی اس جنگ میں کس طرح سیاسی حریف کندھے ملا کر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور مفادات کو بچانے کے خاطر کس طرح اگے جاتے ہیں۔دوسری انصاف کی صحیح معنوں میں فراہمی بھی ایک چیلنچ سے کم نہیں ہے اور اس سلسلے میں موجودہ حکومت نے کئی جوڈیشل اصلاحات کررہے ہیں اور کچھ کے مثبت نتایئج بر امد ہورہے ہیں۔


کہتے ہیں بد قسمتی اکیلے نہیں اتی ہے اور کورونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور بڑے سے بڑے پہلواں ممالک کی بھی چیخین نکل پڑی اور یقینی طور پر پاکستان جیسا کمزور ملک اس کی مہلک شکنجے سے کیسے بچ سکتا۔لیکن موجودہ حکومت کی مدابرانہ  اور بروقت فیصلوں نے پاکستان کو اس جان لیوا عالمی وبا سے کسی حد تک محفوظ رکھا۔پھر ٹڈی دل کے حملوں سے بھی ہمارے زرعی سسٹم کو بہت نقصان پہنچا۔ان تمام چیلنجز کے علاوہ نو سیاسی جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ حکومت کے لیئے نئے مسائل پیدا کررہی ہے اور حکومت کو گھر بیجنے کے لیئے ہر دن نئے حربے استعمال کرنے پر تلہ ہوا ہے۔تعجب کی بات یہ ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام سیاسی جماعتوں کا مائینڈ سیٹ ایک جیسا نہیں،منزلین الگ الگ ہیں اور پارٹی منشور وں میں بڑی تضاد موجود ہیں۔ماضی میں ایک دوسرے کے گلہ دبوچ اور سیاسی فتوے بھی کسی سے چھپے نہیں ہیں لیکن مفادات اور اقتدار کی حواس نے ان کو ایک جگہ جمع کرنے پر مجبور کیا ہے اور سبھی جانتے ہیں کہ مستقبل میں ان کی کوئی وجود نہیں لیکن بس صرف ایک تمنا ہے کہ عمران خان کی حکومت کو گرانا۔


حال میں سینٹ کے الیکشن کے دوران جو تماشہ دیکھنے کو ملا اس سے ہمارے سیاسی کردار کا بخوبی پتہ چل سکتا ہے کہ ہمارے ہان ووٹ اور نوٹ کے اپس کے رشتے کتنے مضبوط ہیں  اور جس کے پاس زیادہ نوٹ ہوں وہ تمام اخلاقی ا قدار سے بلاتر ہو کر کسی دوسری جماعت کے رکن کو خرید سکتا ہے جو کہ غیر ائینی  ہے۔ساتھ ہی سندہ اسمبلی کا وہ واقعہ بھی ہماری سیاسی اصولوں کی ترجمانی کرتی ہے کہ صرف ایک ووٹ کے خاطر کس طرح چیل کی طرح ایک ممبر کو دبوچ دیا جاتا ہے  اور پھر علی حیدر گیلانی کا وہ وڈیو جس کو دیکھ کر ہمیں اپنی سیای سوچ پر شرم محسوس ہوتی ہے۔یہ ساری چیزین حکومت کو پہلے ہی سے معلوم تھا کہ ایک ووٹ کی قیمت کیا ہوسکتی ہے اور اس حقیقت کے پیش نظر اوپن بیلٹ کے لیئے حکومت سر توڑ کوشش کر رہا تھا کہ ووٹنگ میں شفافیت کو بہتر بنایا جا سکیں اور قانوں کی پاسداری بھی ہوسکیں۔

یہی وجہ تھی کہ حکومت نے ووٹ خریدنے کی کوشش بالکل نہیں کی اور جمہوری روایت کو پروموٹ کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔لیکن جو سیاسی نقصان جمہوریت کو ہوا اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ حکومت اور اتحادیوں کے پاس 180 واضح ووٹ ہونے کے باوجود حکومتی امیدوار اسلام اباد کی سیٹ جیت نہ سکا۔لیکن جو جرات کپتان نے کیا اسکی مثال ملک کی تاریخ میں کہیں ہمیں نہیں مل سکتی ہے کہ آپ نے ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ واضح ہوسکیں کہ مقررہ ووٹ حاصل نہ کرنے کی صورت میں حکومت کوجانا تھا۔چونکہ اس سلسلے میں اوپن بیلٹ ہونا تھا اور اپوزشین کو بخوبی معلوم تھا کہ وہ سکریٹ بیلٹ کی حالت میں وکٹ پر اچھے کھیل سکتے ہیں لہذا انہوں نے اسے غیر ائینی کہہ کر اعتماد کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لینے کا فیصلہ کیا جس سے ان کی عزائم کا پتہ چل سکتا ہے۔لیکن اس ووٹنگ میں کپتان نے پہلے کے مقابلے میں پانچ ووٹ زیادہ حاصل کیا۔اور سینٹ کے چیرمین اور ڈپٹی چیرمین کے ایلکشن میں بھی حکومت کو کامیابی نصیب ہوئی۔


کپتان کا اعتماد کا ووت لینا اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ شفافیت اور جوابدہی کو بہتر بنانے میں کتنا سنجیدہ ہے اور دقیانوسی سیاست کو دفنانے کا عزم  رکھتا ہے۔ جبکہ اس کے بر عکس اپوزیشن پرانے سیاسی روایات کو برقرار رکھنے میں کوشاں ہے،اور دونوں طرف کے مائینڈ سیٹ میں زمین و اسمان کا فرق نظر اتا ہے۔نیز اپوزیشن کو اوپن بیلٹ کی طرف راغب کرنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ اپ ہمیشہ سے شفافیت پریقین رکھتا ہے،لیکن کاش کوئی سمجھ سکین۔اسی کا نام حقیقی معنوں میں تبدیلی ہے۔


شیئر کریں: