Chitral Times

May 13, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحت عباس شاہ کا پر چم۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

فر حت عباس شاہ اردو شاعری کے مو جودہ عہد کا معتبر شاعر ہے ان کا منشور مزا حمت ہے، جا گیر دار، زردار اور سردار سے لیکر سیا ست اور باد شا ہت کے بڑے سے بڑے عہدیدار تک ہر ظا لم کی مزا حمت اور اسی مزاحمت نے ان کو تر قی پسند ادب کے اس گروہ میں شا مل کیا ہے جس کے سر خیل سجاد ظہیر تھے پھر ساحر لد ھیا نوی اور علی سردار جعفری سے لیکر فیض، فراز اور حبیب جا لب تک بڑے بڑے نا م اس میں شا مل ہوئے  ؎
میں رو ز اٹھا تا ہوں کسی خواب کی میت
اور آپ یہ کہتے ہیں کہ ما تم نہ کروں میں
صد حیف جو مظلوم کی آواز نہ بن جاوں
صد حیف اگر شعر کو پر چم نہ کروں میں
فرحت میں حسین ابن علی والا ہوں سن لو
مر جاوں مگر مر کے بھی سر خم نہ کروں میں
باطل اور سامراج کے سامنے یہ للکار 1930کے عشرے میں سنا ئی دینے لگی تو اس کو کمیو نسٹ کی آواز سے تعبیر کیا گیا 1940کے عشرے میں اس آواز کو تر قی پسند کا نا م دیا گیا یہ سرد جنگ کے زما نے کی بات ہے جب ترقی پسند وں پر زند گی تنگ کر دی گئی امریکی ایجنسیوں نے ترقی پسندوں کو چُن چُن کر نشا نہ بنا یا کچھ لو گ ملک چھوڑ کر چلے گئے کچھ لو گوں کا روز گار اور کاروبار چھین لیا گیا کیونکہ ترقی پسند وں کی آواز اُن کے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتی تھی فرحت عباس شاہ کہتا ہے  ؎
ہر لمحہ مسلط رہا تکلیف کا سسٹم
آیا ہی نہیں ملک میں ریلیف کا سسٹم
مزدور پہ انسان خدا بن کے رہا ہے
یاں باس کا سسٹم  وہاں چیف کا سسٹم
مو جو دہ دور تر قی پسندوں کے لئے ابتلا، آز ما ئش اور سختی کا دور ہے اس دور میں جا بر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے والوں پر لا زم ہے کہ جا بر سلطان سے کلمہ حق کہنے کی با قاعدہ اجا زت لے لیں ورنہ کلمہ حق زبان پر لے آئے تو زبان کھینچ لی جا ئے گی سر قلم کیا جا ئے گا فرحت عباس کی آواز آج کے دَور کی توا نا آوازہے اور عالمگیر پیغام ہے  ؎
اے دنیا بھر کے انسا نو پہچا نو اپنے دشمن کو
اے بے خبر و! اے انجا نو! پہچانو اپنے دشمن کو
سر ما ئے کا عفریت تبا ہی لے آیا دہلیز وں تک
حا لا ت سے یکسر بیگانو! پہچا نو اپنے دشمن کو
فرحت عباس شاہ کی نئی کتاب ”مزا حمت کرینگے ہم“ اس طرح کی مزاحمتی شاعری  سے بھری ہوئی ہے یہ نو جوانوں کا دل گر ما نے والی شاعری ہے۔


شیئر کریں: