Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے میں 65 غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز سیل، 6 میں غیر قانونی تعمیرات مسمار، 235 کو نوٹسز جاری ۔وزیراعلیٰ

شیئر کریں:

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبرپختونخوا حکومت نے صوبہ بھر میں زرعی زمینوں کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں ان زمینوں پرغیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے تحت اب تک صوبے کے مختلف اضلاع میں 65 غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کو سیل کیا گیا جبکہ 6 سو سائٹیز میں غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کیا گیا ہے۔ 235 غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کو نوٹسز جاری کیے گئے جبکہ 196 کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کرائی گئی ہیں۔ یہ بات گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت زرعی زمینوں پر غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کی روک تھام کے حوالے سے منعقدہ ایک اجلاس میں بتائی گئی۔صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑا، اکبر ایوب ، امجد علی خان اور چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔


اجلاس کو زرعی زمینوں پر غیر قانونی تعمیراتی سرگرمیوں کے خلاف اُٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ غیر منظور شدہ ہاوسنگ سوسائٹیز میں جائیداد کی ملکیت کے انتقالات پر پابندی عائد کرنے کے لیے محکمہ مال اور متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو ہدایت جاری کی گئیں ہیں جبکہ مذکورہ ہاوسنگ سوسائٹیز کو بجلی اور گیس کی سہولیات فراہم نہ کرنے کے لیے بھی متعلقہ حکام کو مراسلے ارسال کئے گئے ہیں ۔ مزید بتایا گیا کہ غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کے دفاتر سیل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر قانونی کارروائی بھی کی جارہی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عوامی آگہی کے لیے منظور شدہ اور غیر منظور شدہ ہاوسنگ سوسائٹیز سے متعلق تمام معلومات پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور متعلقہ تحصیل میونسپل ایڈ منسٹریشن کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کر دی گئی ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کی تشہیر اور مارکیٹنگ پر پابندی لگانے کے لیے محکمہ اطلاعات کو فہرست فراہم کر دی گئی ہے۔اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زرعی اراضیوں پر پہلے سے قائم غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹیز کے حوالے سے متعلقہ محکموںکے غفلت برتنے والے ذمہ داروں کا تعین کرکے ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔اجلاس کو ہاوسنگ سوسائٹیز سے متعلق قوانین کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پراونشل ہاوسنگ سوسائٹیز قوانین کے مسودے کا جائزہ لینے اور سفارشات مرتب کرنے کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس کی سفارشات بھی مسودے میں شامل کی گئی ہیں اور جلد مسودے کو کابینہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔صوبے میں موجود ہاوسنگ سوسائٹیز کے اعداد و شمار کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پشاور، مردان، چارسدہ، نو شہرہ، بٹگرام اور ہری پور میں کل 258 ہاوسنگ سوسائٹیز قائم ہیں جن میں23 منظور شدہ، 50 غیر منظور شدہ اور 185 غیر قانونی ہیں۔
<><><><><>

کرک سمادھی واقعے کے سلسلے میںقائم جرگے کے ممبران کی وزیراعلی سے ملاقات


پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )کرک سمادھی واقعے کے سلسلے میںقائم جرگے کے ممبران نے ہفتے کے روزوزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان سے ملاقات کی اور اس افسوسناک واقعے کے بعد کی صورتحال اور معاملات کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کیلئے جرگے کی کوششوں اور ان کے مثبت نتائج سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا ۔ جرگے میں شامل علاقے کے عمائدین ، علمائے کرام اور ہندو کمیونٹی کے عمائدین کے علاوہ اقلیتی ایم این اے رمیش کمار، کرک سے منتخب ایم این اے شاہد خٹک، وزیراعلیٰ کے مشیر ضیاءاﷲ بنگش، ایم پی اے میاں نثار گل اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ جرگہ ممبران سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے کہاکہ کرک سمادھی واقعہ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے، یہ علاقے کے امن کو خراب کرنے کی سازش تھی جو ناکام ہو گئی ۔ اس ناخوشگوار واقعے کے بعد معاملات کو انتہائی خوش اسلوبی اور افہام و تفہیم کے ذریعے طے کرنے پر جرگے کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اُنہوںنے کہاکہ مقامی علمائے کرام اور ہندو کمیونٹی کے عمائدین نے جس احسن طریقے سے معاملات کو پرامن انداز میں حل کرلیا وہ قابل ستائش ہے جس کے لئے وہ مقامی علمائے کرام اور ہندو کمیونٹی کے عمائدین کے مشکور ہیں۔وزیراعلیٰ نے معاملہ انتہائی خوش اسلوبی اور پرامن انداز میں حل کرنے پر جرگہ ممبران کو مبارکباد دیتے ہوئے اُمید ظاہر کی مقامی علمائے کرام ، عمائدین اور ہندو کمیونٹی کے قائدین علاقے میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور علاقے کے امن کو برقرار رکھنے کیلئے آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت اس افسوسناک واقعے کے رونما ہوتے ہی اس میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے فوری اور موثر اقدامات اُٹھائے ۔ صوبائی حکومت صوبے میں ایسے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اُٹھارہی ہے تاہم ایسے واقعات کی موثر روک تھام کیلئے علمائے کرام اور مقامی عمائدین کا کردار بہت ہی اہم ہے ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اسلام اور آئین پاکستان میں اقلیتوں کے مذہبی مقامات اور اُن کے حقوق کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی گئی ہے اور حکومت ملکی آئین میں اقلیتوں کو دیئے گئے حقوق کے تحفظ کو ہر صورت یقینی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کیلئے بھرپور کوشش کر رہی ہے ۔ ہندو کمیونٹی کے قائدین نے سمادھی واقعے میں بروقت اور موثر کاروائی عمل میں لانے پر صوبائی حکومت اور خصوصاً وزیراعلیٰ کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر جرگے میں شامل مقامی علمائے کرام اور عمائدین نے یقین دلایا کہ وہ ضلع کرک کو مثالی امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کیلئے ہند و کمیونٹی کو آئین پاکستان میں دیئے گئے تمام حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے بھرپور کردارادا کریں گے 


شیئر کریں: