Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بجلی پر اضافی سرچارج کا اختیار……محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے کثرت رائے سے نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے بل کی منظوری دے دی، بل کے تحت وفاقی حکومت کو بجلی صارفین پر ایک روپے 40 پیسے فی یونٹ تک سرچارج عائد کرنے کا اختیار مل گیا،کمیٹی کی خواتین اراکین شازیہ مری اور سائرہ بانو نے بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرچاج لگانے کی منظوری دینا مہنگائی تلے دبے عوام کے ساتھ دشمنی اور ظلم ہے۔ پاورسیکٹر کی کمزوریوں کی سزا عوام کو نہ دی جائے۔سیکرٹری خزانہ نے کمیٹی کو بتایا کہ پاور سیکٹر کا گردشی قرض 23کھرب روپے تک پہنچ چکا ہے اس پر قابو نہ پایا گیا تومعیشت دب جائے گی۔وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر میں گردشی قرض روکنے کیلئے سرچارج عائد کرنا ناگزیر ہے۔دوسری جانب نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین توصیف فاروقی نے اعتراف کیا ہے کہ ملک میں شہریوں کو مہنگی بجلی ملنے کی وجہ ماضی میں کئے گئے معاہدے ہیں، ڈالر میں کئے گئے معاہدے غلط فیصلے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ پانی، ہوا، کوئلے اور شمسی توانائی سے سستی بجلی پیدا کی جائے۔ نیپرا چیئرمین نے اعتراف کیا کہ ملک میں آج بھی 30 فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت میسر نہیں۔اس حقیقت کے باوجود کہ ملکی ضروریات سے زیادہ بجلی پیدا ہونے کے باوجود ملک کی تیس فیصد آبادی کا بجلی سے محروم ہونا پاور پروڈیوسرز اور مروجہ پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔اس لئے سب سے پہلے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں میں وسیع پیمانے پر اصلاحات یا انہیں نجی شعبے کے حوالے کرنا چاہئے۔یہ نہایت تلخ حقائق ہیں کہ ہمارے ہاں بیشترصنعت کار اپنے کارخانوں اور زمیندار زرعی ٹیوب ویلوں کا بل ادا نہیں کرتے۔ صوبے میں ضم ہونے والے بیشتر قبائلی علاقوں میں بجلی کے بل دینے کا کوئی رواج نہیں ہے۔ شہری علاقوں میں بھی بیس سے تیس فیصد صارفین چوری کی بجلی استعمال کرتے ہیں۔ملک کے بیشتر سرکاری ادارے بھی بجلی کا بل نہیں دیتے۔

اس چوری میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے کارندے چوروں اور کنڈے لگانے والوں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ قانونی طریقے سے بجلی کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں روز بروز اضافے کی وجہ سے باقاعدگی سے بل ادا کرنے والوں کے لئے بھاری بھر کم بلوں کی ادائیگی مشکل ہوتی جارہی ہے اور نادھندگان کا بوجھ بھی ماہوار بل ادا کرنے والے صارفین پر ڈالا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں لوگ میٹر لگانے کے باوجود کنڈوں کی مفت بجلی استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔بجلی کا بل اٹھاکر دیکھیں تو صارف اٹھارہ روپے یونٹ کے حساب سے چھ سات سو روپے کی بجلی استعمال کرتا ہے تو چارپانچ گنا ٹیکسوں کے ساتھ اسے دو ڈھائی ہزار کا بل بھیجا جاتا ہے۔ اب حکومت کو اضافی سرچارج لگانے کا اختیار دینا بجلی کی قیمت مزید بڑھانے کی تیاری ہے جو غریب عوام پر بجلی گرانے کے مترادف ہے۔ دو روپے فی یونٹ کی لاگت سے تیار ہونے والی بجلی اگر اٹھارہ روپے یونٹ کے حساب سے عوام کو مل رہی ہے تو اس میں مزید سرچارج لگانے کا کیاجواز بنتا ہے۔

بجلی مہنگی کرنے سے عوام کو صرف اضافی بل دینے ہی نہیں پڑتے بلکہ بجلی سے تیار ہونے والی ہرچیز کی قیمت میں اسی تناسب سے اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت دوہرے ٹیکسوں سے عوام کو بچانے کی باتیں تو بہت کرتی ہے مگر ان سے عوام کو نجات دلانے کے لئے عملی اقدامات نہیں کئے جاتے۔متوقع اضافی سرچارج کی مثال ہی لے لیں اگر حکومت نے قائمہ کمیٹی کی طرف سے ملنے والے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے بجلی ایک روپے چالیس پیسے فی یونٹ مہنگی کردی تو نہ صرف بلوں کی صورت میں عوام پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا بلکہ بجلی سے مصنوعات تیار کرنے والے اس اضافی بوجھ کو بھی عوام پر ڈالیں گے۔ یوں عوام کوسرچارج کی مد میں ایک روپے چالیس پیسے کے بجائے کم از کم پچاس ساٹھ روپے اضافی ٹیکس دینے پڑیں گے جن کی مجموعی مالیت کھربوں روپے بنتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دوتین سالوں کے اندر غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذارنے والوں کی شرح 34فیصد سے بڑھ کر اب 54فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔


شیئر کریں: