Chitral Times

Jan 26, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال میں ماہی گیری کو بطور روزگاراپنایا جاسکتا ہے۔۔سلطان محمود

شیئر کریں:

چترال ( محکم الدین ) چترال میں پرائیویٹ سطح پر ماہی پروری میں لوگوں کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے ۔ اگر حکومت کی طرف سے اس شعبے کو ترقی دینے کیلئے اقدامات کئے گئے ۔ تو سیاحت کے فروغ کے ساتھ روزگار کے وسیع مواقع کھلیں گے ۔ حکومت کی طرف سے جب سے سیاحت کو ترقی دینے کے حوالے سے اعلانات کئے گئے ۔ تو جہاں سیاحوں کو سہولت فراہم کرنے کیلئے پرائیویٹ سطح پر کئی اقدامات نظر آرہےہیں ۔وہاں ٹراوٹ فش فارم بھی قائم ہوتے جارہے ہیں ۔ اور لوگ اس توقع کا اظہار کر رہےہیں ۔ کہ فش فارم کو بطور روزگار کے اپنایا جا سکتا ہے ۔ جبکہ پہلے چترال شہر سے باہر اس کا تصور نہ ہونے کے برابر تھا ۔

کالاش ویلی بمبوریت کے مقام سلطان آبادمیں ایک نوجوان سلطان محمود نے کامیاب ٹراوٹ فش فارم قائم کرکے لوگوں کیلئے ایک مثال پیش کی ہے ۔ انہوں نے گذشتہ روز اپنے فارم کے قیام کے حوالے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ان کے گھر کے احاطے میں چشمے کا پانی موجود ہے ۔ جو کہ ٹراوٹ مچھلی کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔ اس لئے ان کو بہت عرصے سے فارم تعمیر کرنے کی خواہش تھی ۔ اور بیرون ملک کچھ عر صہ رہنے کے دوران ان کی دلچسپی مزید بڑھ گئی ۔ کیونکہ انہیں اس قسم کےفش فارم کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ۔ انہو ں نے کہا ۔ کہ انہوں نے واپس آکر پندرہ لاکھ روپے کی لاگت سے اپنے گھر کے صحن میں فش فارم تعمیر کیا ہے ۔ جس میں دو ہزار کے قریب قابل فروخت مچھلیاں ان کے پاس موجود ہیں ۔ جن میں بعض مچھلیوں کا وزن ایک کلوگرام سے زیادہ ہے ۔ ان کے علاوہ تیس ہزار بچے پرورش پا رہے ہیں ۔ جس میں ان کی فیملی ان کی مکمل مدد کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پندرہ لاکھ روپے سے کوئی بھی اور چھوٹا کاروبار کیا جا سکتا تھا ۔ لیکن انہوں نے سیاحت کی ترقی اور سیاحوں کو ٹراوٹ مچھلی فراہم کرنے کیلئے یہ فارم تعمیر کیاہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ماہی پروری کیلئے اس کے متعلق علم اور بیماریوں سے متعلق آگہی اور ان کے خوراک کے معیار سے متعلق معلومات کا ہونا اشد ضروری ہے ۔ اور وہ یہ علم انٹرنیٹ اور مقامی فارم مالکان کے تجربات سے حاصل کرتے ہیں ۔ اور خدا فضل سے فارم بتدریج ترقی کر رہا ہے ۔

انہوں نے کہا ۔ کہ گذشتہ سال لاک ڈاون کی وجہ سے وسائل والے سیاحوں کی آمد کم رہی ۔ امسال اگر آمدورفت پر پابندی نہ ہوئی ۔ تو بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد متوقع ہے ۔ کیونکہ عید الفطر اور کالاش فیسٹول چلم جوشٹ ایک ساتھ آرہے ہیں ۔ سلطان محمود نے کہا ۔ کہ حکومت کی طرف سے ابھی تک ان کے ساتھ کوئی امداد نہیں کی گئی ہے ۔ اور نہ اس حوالے سے کوئی ٹریننگ فراہم کی گئی ہے ۔ وہ اب بھی مچھلیوں کی افزائش کیلئے مزید تالاب تعمیر کر رہے ہیں ۔ کالاش ویلیز جیسے سیاحتی علاقے میں اس قسم کے کامیاب پرائیویٹ فش فارم کی تعمیر قابل تعریف ہے ۔ اور حکومت کی طرف سے ایسے افراد کی سرپرستی اور مالی امداد کی فراہمی اسے مزید کامیاب کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے ۔

چترال میںماہی گیری کو بطور روزگاراپنایا جاسکتا ہے۔۔سلطان محمود

شیئر کریں: