Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خواتین کا عالمی دن…..گل عدن چترال

شیئر کریں:

سال بھر میں کسی ایک دن کو کوئی نام دے کر اسے عالمی دن کے طور پر منائے جانے کے پیچھے ایک خاص مقصد ہو تا ہے ۔مثلاً مزدوروں کا عالمی دن منانے کا بنیادی مقصد مزدور طبقہ کے مسائل کو اجاگر کرنا اور ان کی ضروریات کو سنجیدہ لینا ہے ۔اسی طرح منشیات کا عالمی دن منانے کا مقصد معاشرے کو نشے سے پاک کرنے کے لیے کچھہ ضروری اقدامات کوئی لائحۂ عمل طے کرناہے ۔بلکل اسی طرح یومِ خواتین کے پیچھے بھی کچھ اغراض ومقاصد ہیں ۔دنیا بھر کی خواتین خواہ وہ مشرق کی ہوں یا مغرب کی ۔ہر جگہ یکساں مسائل اور مصائب کا شکار ہیں ۔اس دن کو منانے کا اولین مقصد ان مسائل کو اجاگر کرنا اور ان مشکلات کا سدباب سنجیدگی کے کساتھ کرناہے ۔

لیکن رونے کا مقام ہے کہ پچھلے چند سالوں سے پاکستان میں کچھ لوگوں نے خواتین ڈے کوجو رنگ دیا ہے اور عورت مارچ کے نام پر جو بےہودگی شروع ہوئی ہے ان لوگوں نے خواتین ڈے کو مذاق بنا کر رکھ دیاہے۔ ان عورت دشمن لوگوں نے حقوق کی آڑ میں جن عجیب و غریب مطالبات کا شور اٹھایا ہے اس شور میں عورت کے اصل حقوق اور مسائل دب کے رہ گئے ہیں اور لگتاہے یہی اس گروہ کا مقصد ہے ۔کتنی مضحکہ خیز بات ہے کے پورا سال عورت کس کس جہنم سے گذرتی ہے لیکن آج عالمی دن کے موقع پر آپ اپنا کھانا خود گرم کرو کا نعرہ لگاتےہوئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔کیا واقعی کھانا پکانا گھر کی صفائی کرنا برتن دھونا عورت کے گھمبیر مسائل بن چکے ہیں ؟؟؟ کیا یہی وہ ظلم و ستم ہیں جنکی روک تھام کے لئے آج کا دن رکھا گیا ہے ؟اس گروہ کا سرغنہ کون ہے ان ںکواسیات کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے ہم نہیں جانتے مگر ان روشن خیالوں کو سپورٹ کرنے والے نظر آرہے ہیں ۔جن پر صرف افسوس کیا جاسکتا ہے ۔ دراصل ہر برائی کی جڑ یہی پروموٹر ہیں ۔


پاکستان میں عورت کو درپیش ہزار ہا مسائل ایک طرف جبکہ ہراساں کیسیس ایک طرف ہیں ۔عورت کا بنیادی اِنسانی حق اسکی عزت کا تحفظ ہے ۔جو آج عورت کوحاصل نہیں ہے ۔اور اسکی ہزار ہا وجوہات میں سے اک وجہ بہت سادہ ہے ۔ہمارے معاشرے کا ہر مرد عزت صرف اپنی ماں بہن بیٹی کی کرتا ہے۔اور دوسری ہر عورت کو اپنی حریص اور غلیظ نظروں کی حصار میں رکھتا ہے ۔اب کوئی سائنٹیفک ایجاد تو حکومت سے نہیں بنوائی جاسکتی جو مرد کی غلیظ نظر کو پاک کرسکے۔ہاں البتہ جو قانون اور بل پاس کیے جاتے ہیں ان پر عمل کرکے عورت کی حقوق کی پاسداری کی جا سکتی ہے ۔ننھی زینب اور موٹر وے کیس اور ان جیسے لاکھوں واقعات کے مجرم آج بھی آزاد پھر رہے ہیں۔کسی بھی مجرم کو وہ سزا نہیں ملتی جسکا وہ حقدار ہے اور ایسے واقعات کی دوسری بڑی وجہ یہی ہے کہ ہم قانون تو بناتے ہیں مگر قانون پر عمل نہیں کر رہے ہیں ۔پہلے ایسے واقعات صرف گلی کوچوں کی حد تک سننے میں آتے تھے مگر کیا یہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام نہیں کے آج ملک کے معتبر تعلیمی ادارے بھی ہراساں جیسے واقعات کی بنا پر بدنام ہو چکے ہیں ۔ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم ذہنی طور پر ایک معذور معاشرے کے افراد ہیں اور ہمارے مرد حضرات کو ذہنی علاج کی اشد ضرورت ہے ۔


دوسرا انسانی حقوق جس سے ہماری خواتین محروم ہیں وہ ہے وراثت میں حصہ ۔۔ اک صحت مند معاشرے کے مرد کو بغیر مانگے بغیر کہے اور زرا سی بھی ناراضگی کے بغیر اپنی بہن بیٹی ماں نانی دادی پوپھو نواسیوں اور پوتیوں بھاوج بہو غرض ہر عورت کووراثت میں اسکا حق دینا ہو گا ۔لیکن ظاہر ہے ایسا نہیں ہو تا باوجود اس کے آج روشن خیالی کا زمانہ ہے ۔تعلیم عام ہے مگر وراثت میں اپنا حصہ پانے کےلئے ہمیں آج بھی قانون کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ تا ہے ۔ اور خواتین کی اکثریت رشتوں کے لحاظ اور خاندان کا بھرم رکھنے کےلئے اور باپ ک آنگن سے جڑے رہنے کے لئے وراثت میں اپنے حق سے دستبردار ہو جاتی ہیں ۔ اور آج تک کوئی بھائی ذہنی طور پر اتنا صحت مند پیدا نہيں ہوا جو بہن کو اسکا حق زبردستی دلایے۔


ہاں البتہ کچھ بہنیں اگر اپنا حق زبردستی وصول کر لیں تو بھائی کا گھر انکے لیے اجنبی بن جاتا ہے ۔
حقوق کی استحصالی ملک کے کس کس کونے میں کیسے کیسے ہو رہی ہے ۔کتنی ہی عورتیں صدیوں سے کھبی کاری کے نام پر روایات کے بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔کتنی ہی عورتیں غیرت کے نام پر قتل ہوئیں ۔کتنی معصوم بیٹیاں جہیز کم لانے کی صورت میں شوہر ساس اور نندوں کی طعنوں اور جھگڑوں سے تنگ آ کر کچھ خودکشی کر بیٹھیں اور کہیں ایک قتل ہوگئیں اور ہو رہی ہیں ۔دوسری یا تیسری بار بیٹی پیدا ہو نے کے صورت میں کتنی عورتیں سماجی دباؤ کا مسلسل شکار ہیں ۔جنکا کوئی حساب نہیں ۔جائیداد کی خاطر چار سال کے بچے سے شادی پر مجبور ہو جانے والی عورت اور سماجی دباؤ کا شکار ہو کر ستر سال کے بوڑھے سے شادی کرنے والی عورت کی شان میں مجھے اس عورت مارچ والوں کے ہاتھ میں کو ئی پلے کارڈ نظر نہيں آتا ۔


ہمیں ہمیشہ اقوام متحدہ سے شکوہ رہتا ہے کہ وہ کشمیر میں ہو نے والے مظالم خاص طور پر کشمیری خواتین پر ہونے والے ظلم و جبر پر خاموش تماشائی بنا رہتا ہے ۔ جب اسلامی مملکتوں میں خواتین ڈے پر وہ عورتیں جنہوں نے کھبی اٹھ کر گلاس میں پانی نہیں بھرا وہ آج سڑکوں پے نکل کر برتن دھونے کا رونا رروئیں گی اور ہما رے مہذب معاشرے کے روشن خیال اعلیٰ تعلیم یافتہ مرد انکی حوصلہ افزائی کریں گے تو ایسے میں زینب کو انصاف کبھی نہیں ملے گا ۔ موٹر وے حادثات ہمیشہ ہو تے رہیں گے ۔۔ ایک ایسے معاشرے میں عورت بنیادی اِنسانی حقوق سے ہمیشہ محروم رہے گی ۔


آخر میں عورت مارچ کے تماشائیوں سمیت ان تمام مردوں کو خواتین ڈے بہت بہت مبارک ہو جن کی مذاق بھی ماں بہن کی گالی سے شروع ہو تی ہے اور جنکا غصہ بھی ماں بہن کی گالی پر ختم ہو تا ہے ۔ شکریہ


شیئر کریں: