Chitral Times

Jan 27, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال شہر کے نواحی گاوں ’اورغوچ‘ بنیادی سہولیات سے محروم، مکین نقل مکانی پر مجبور

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز سے صرف 20منٹ کے ڈرائیو پر واقع اورغوچ گاؤں ترقی کے ہر شعبے میں پسماندگی کا رونا روتے ہوئے شکوہ کناں ہیں جبکہ ابنوشی اور ابپاشی کے لئے پانی کا مسئلہ سنگین نوعیت کا ہے جس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مختلف اوقات میں 485گھرانوں پرمشتمل اس گاؤں کے عوام مکمل طور پر نقل مکانی پرمجبور ہوئے اور ہر بار حکومت نے انہیں تسلی دیتے ہوئے ان کو باز رکھا جبکہ اس سال بھی شدید خشک سالی کے خطرے کے پیش نظر نقل مکانی اہالیاں اورغوچ نقل مکانی پر سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔

orghoch village press forum chitral lower

اورغوچ کے مقام پر چترال پریس کلب کے زیر اہتمام منعقدہ پریس فورم میں اظہار خیال کرتے ہوئے محمد ولی شاہ، شاہ نادر، گوہر علی، اور دوسروں نے کہاکہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک اورغوچ پینے اور ابپاشی کے لئے پانی کی بدترین قلت سے دوچار ہیں مگرکسی دور حکومت میں بھی اس مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی گئی اور وقت گزرنے کے ساتھ آبادی میں اضافہ ہونے پر یہ مسئلہ گھمبیر صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ علاقے میں زرعی زمین بہت ہی زرخیز ہے اور مطلوبہ مقدارمیں پانی دستیاب ہونے پر اس علاقے کے لوگ انتہائی خوشحال ہوں گے۔

orghoch village press forum chitral2

انہوں نے کہاکہ اورغوش گاؤں کے لئے رمبور گول، چترال گول یا گولین گول سے سائفن سسٹم کے ذریعے پانی لانے کے لئے ایک پراجیکٹ کی ضرورت ہے جس پر کروڑوں روپے لاگت آئے گی لیکن اس سے اورغوچ گاؤں کے نوے فیصد مسائل حل ہوں گے۔انہوں نے مختصر مدتی اقدامات کے طور پر سولر سسٹم سے پانی لانے اور کم بلندی پر واقع زمینات کے لئے کنویں کھودنے کی تجویزپیش کی۔ اورغوچ کے عمائیدین نے علاقے کو درپیش سیلاب کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ سالوں موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں سیلاب نے اس گاؤں میں تباہی مچادی اور قیمتی زرعی زمینوں اور گھروں کو بہالے گیا اور2015ء میں 45گھرانے سیلاب میں بہہ گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ چیک ڈیم کا نیٹ ورک تعمیر کر کے اس علاقے کو سیلاب سے محفوظ بنایاجاسکتا ہے جس کے لئے ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے تاکہ جنگل سے گاؤں کی طرف آنے والے تین نالوں میں چیک ڈیم بناکر سیلابی ریلے کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔ انہوں نے سائل کنزرویشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائرکٹر جنرل سے اپیل کی کہ اس علاقے پر خصوصی توجہ دی جائے۔ تعلیم کے شعبے میں اورغوچ کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس گاؤں میں 1985ء میں شہزادہ محی الدین نے گرلز پرائمری سکول تعمیر کیا تھا جسے ابھی تک مڈل کا درجہ بھی نہیں ملا ہے جس کے نتیجے میں بچیاں پرائمری جماعت کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع کرتے ہیں جبکہ لڑکوں کے لئے بھی مڈل سکول کو ہائی کا درجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2001ء کے ایک سروے کے مطابق اس گاؤں میں صرف 4افراد میٹرک پاس اور 2نے ایف۔ اے پاس کیا تھاجن میں کوئی خاتون شامل نہیں تھی۔

orghoch village press forum chitral 1

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیاکہ 2015ء کے سیلاب میں مردانہ سکول کی چاردیواری کو نقصان پہنچا تھا اور ساتھ رسائی کے لئے راستہ بھی منقطع ہوا تھا لیکن بار بار مطالبے کے باوجود ابھی تک اس طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی اور سکول کی عمارت کسی بھی وقت منہدم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔

اہالیان اورغوچ نے کہاکہ علاقے میں غربت کی وجہ سے پرائمری کلاس کے بعد ڈراپ آؤٹ ریٹ بہت ذیادہ ہے جسے روکنے کے لئے تعلیم کومکمل طور پرمفت کرنے کے لئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔ گاؤں کی صفائی کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ گلی کوچے پختہ نہ ہونے کی وجہ سے گندگی کا ڈھیر جا بجا جمع ہوتے ہیں اور لیٹرین اور نکاسی آب کے لئے بھی ایک جامع منصوبے کی ضرورت ہے جس میں نادار لوگوں کے لئے لیٹرین کی تعمیر میں امداد بھی شامل ہو۔ نوجوانوں کو خود روزگاری کے مواقع فراہم کرنے اور انہیں ہنرمند بنانے کے لئے انہوں نے اورغوچ میں اسکل ڈیویلپمنٹ سنٹر کے قیام کا پرزور مطالبہ کیا اور کہاکہ اس علاقے میں دیودار کی لکڑی کی دستیابی کی وجہ سے نوجوانوں کو ووڈ بیسڈ wood-basedہنر سیکھانے کی ضرورت ہے۔

orghoch village press forum chitral

انہوں نے روڈ کمیونیکیشن کے سیکٹر میں بھی علاقے کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے ڈوم شوغور سائیڈ سے بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر کے ساتھ اورغوچ گاؤں کے سامنے ٹرک ایبل پل تعمیر کرکے اسے قومی شاہرا ہ کے ساتھ منسلک کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے علاقے میں بچوں اور نوجوانوں کے لئے پلے گراونڈ تعمیر اور عیدگاہ تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اہالیاں اورغوچ نے الیکٹریفیکیشن کیلئے 50کلوواٹ کا ٹرانسفرمر اور 23عدد ایل ٹی پول کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔

اس سے قبل چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ دوردراز اور نظر انداز شدہ علاقوں کے عوام کو درپیش اجتماعی مسائل کو میڈیامیں اجاگر کرنے کے لئے پریس فورم کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال پریس کلب سے منسلک صحافیوں نے عوامی مسائل کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیامیں نمایان کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے اور مختلف علاقوں میں جاکر عوامی مسائل سے آگاہی کا حصول اس کا ثبوت ہے۔

orghoch village press forum chitral lower1

شیئر کریں: