Chitral Times

Apr 21, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نئے عائلی قوانین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

خبر آئی ہے کہ مصر کی حکومت نے قانون سازی کے ذریعے شادی بیاہ، طلاق، خلع، فسخ نکاح، متولی، نسب،نان نفقہ اور بچوں کی پرورش کے نئے قواعد وضوابط مقرر کیے ہیں۔ نئے قانون کے تحت کوئی شادی شدہ شہری پہلی بیوی کی اجازت کے بغیردوسری شادی نہیں کرسکتا۔ تاہم اگر کوئی ایسا خلاف قانون کام کرے گا تو اسے ایک سال قید اور جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔ قانون میں مزیدکہا گیا ہے کہ پیدا ہونے والے ہر بچے کا نسب اس کی ماں کی طرف منسوب ہوگا۔ منگنی کرنے کے بعد نکاح سے انکار اور دونوں میں سے کسی ایک کی وفات کی صورت میں لڑکی کے مہر کے لیے مقرر کردہ رقم واپس ہوجائے گی۔اگر شوہر دوسری شادی کو بیوی سے مخفی رکھے گا تو اسے بھی سزا دی جائے گی۔ شادی کے وقت خاوند کے لئے یہ بتانالازم ہوگا کہ وہ پہلے سے شادی شدہ نہیں۔بصورت دیگر اسے پہلی بیوی کا اجازت نامہ پیش کرنا ہوگا۔پہلی بیوی کے علم میں لائے بغیر دوسری شادی پر شوہر کو ایک سال قید اور کم سے کم 20 ہزار مصری پاؤنڈ جرمانہ ہوگا۔

جرمانے کی زیادہ سے زیادہ حد 50 ہزار پاؤنڈ تک ہوسکتی ہے۔ اگر نکاح خواں کو بھی علم ہے کہ وہ جس کا نکاح پڑھا رہا ہے وہ پہلے سے شادی شدہ ہے تو اسے بھی قید اور جرمانے کی سزائیں دی جائیں گی،نئے قانون میں خاتون کو ضرر پہنچانے پر طلاق لینے کا حق دیا گیا ہے۔شادی کے لئے لڑکے اور لڑکی کی عمرکی کم از کم حد 18 سال مقرر کی گئی ہے۔اس سے کم عمر کے بچوں کی شادی کرانے والے افراد کو ایک سال قید اور 50 ہزار پاؤنڈ سے 2 لاکھ پاؤنڈز تک جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔ اس مسودہ قانون کو شرعی نقطہ نظر سے دیکھنے یا اس پر رائے زنی کا ہمیں اختیار نہیں، تاہم اس کے قانونی اور معاشرتی پہلوؤں پر رائے قائم کرنا اپنے ملک کا ایک وفادار شہری، مرد ذات سے تعلق اور شوہر ہونے کے ناطے ہم اپنا آئینی، قانونی، اخلاقی اور معاشرتی حق سمجھتے ہیں۔نقص امن، کسی کی دل آزاری، مصلحت پسندی یا ممکنہ تشدد سے بچنے کے لئے پہلی شادی کو دوسری سے چھپانا یا دوسری شادی سے پہلی بیوی کو بے خبر رکھنا جائز قرار دینا چاہئے تھا۔

بچوں کا نسب باپ کے بجائے ماں سے منسوب کرنا بھی مردوں کے حقوق غصب کرنے کے مترادف ہے۔ بیچارے باپ کو زندگی بھر کی محنت و مشقت کے بعد یہی ایک اعزاز ملتا ہے کہ بچوں کے شناختی کارڈ،برتھ سرٹیفیکیٹ اور تعلیمی اسناد میں باپ کا نام آتا ہے اور مرنے کے بعد بھی یہ نام زندہ رہتا ہے یہ حق بھی باپ سے چھین کر ماں کی جھولی میں ڈالنا کہاں کا انصاف ہے۔ بچوں جنم دینے اور ان کی پرورش میں ماں کے کردار سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ بیٹا یا بیٹی ناخلف یا نالائق ہو۔ تو بیچاری ماں ہی مورد الزام ٹھہرتی ہے۔ اگر فرمانبردار ہو تو اس کا کریڈٹ باپ کو دیا جاتا ہے۔

ایک معصومانہ اور بے ضرر تجویز یہ ہے اگر ولدیت کے خانے میں ماں اور باپ دونوں کا نام درج کیا جائے تو اس میں کیا برائی ہے پھر یہ جنجال ہی ختم ہوجائے گا کہ بیٹا یا بیٹی کس کی ہے۔ مصرکے علاوہ بعض مغربی ممالک میں بھی بچوں کی تحویل کا مسئلہ کافی گھمبیر ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مغربی معاشرے میں شادی کو ہماری طرح زندگی بھر کا سماجی بندھن نہیں سمجھا جاتا۔ شادی کے چند مہینوں یا چند سالوں کے اندر اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے اکتا جائیں تو باہمی مشورے سے وہ الگ ہوجاتے ہیں۔وہاں عدت کا کوئی تصور نہیں،علیحدگی کے دوسرے روز ہی شوہر اور بیوی اپنے لئے نئے شریک حیات کی تلاش شروع کردیتے ہیں اثاثوں کی تقسیم کے وقت بچوں کو بھی اثاثے گردانتے ہوئے ان کی تحویل پرمقدمہ بازی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں بچوں کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی ماں کو ہی حق ملکیت حاصل ہے۔مصری کابینہ نے جس قانون کی منظوری دی ہے اس کے تحت پہلی شادی کی بات چھپانے والے نکاح خواں اور کم عمر بچوں کی شادیاں کرانے والوں کے لئے سزائیں مقرر کی گئی ہیں ہماری خواہش ہے کہ مصری قانون کی یہی دو شقیں ہمارے ہاں بھی رائج ہونی چاہئیں۔کسی قوم کی اچھی روایت کو اپنانے میں کوئی حرج تو نہیں ہے۔


شیئر کریں: