Chitral Times

Apr 21, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شدت پسندی، خطرات ابھی ٹلے نہیں……محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


سیکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں آپریشن کرکے 4خواتین ورکرزکے قتل میں ملوث کالعدم تحریک طالبان پاکستان حافظ گل بہادر گروپ کے خطرناک دہشتگرد کمانڈر حسن المعروف سجنا کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے میر علی میں دہشتگردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر آپریشن کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا دہشتگرد کمانڈر حسن المعروف سجنا مارا گیا۔ حسن المعروف سجنا سیکیورٹی فورسز اورعام شہریوں پرحملوں، آئی ای ڈیز کے ذریعے دھماکے کرنے، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ دہشتگردوں کی بھرتی اور تربیت میں بھی ملوث رہا ہے۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود میں برآمد کر لیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کے آپریشن ضرب غضب کی وجہ سے بہت سے شدت پسند افغانستان فرار ہوگئے تھے اور کچھ دہشت گردوں نے بھیس بدل کر ملک کے مختلف علاقوں میں خفیہ رہائش اختیار کی تھی۔ گذشتہ چند ہفتوں کے اندر شدت پسندوں نے ضم اضلاع میں اپنی کاروائیاں تیز کردی ہیں۔ باجوڑ، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی کے کئی چھوٹے واقعات حالیہ دنوں میں رونما ہوئے ہیں شمالی وزیرمیں ایک ڈاکٹر اور خواتین کو ہنر سکھانے والی چار خواتین کے قتلکے علاوہ ہر دوسرے دن ٹارگٹ کلنگ کا کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے، ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔بچے کھچے دہشت گردچھوٹی موٹی کاروائیوں کے ذریعے اپنی موجودگی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ قبائلی عمائدین بھی دہشت گردوں کی تازہ کاروائیوں سے پریشان ہیں ان کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کی نئی لہر کے باعث بعض لوگ دوبارہ اپنے گھر بار چھوڑنے پر غور کر رہے ہیں۔جبکہ لاکھوں کی تعداد میں نقل مکانی کرکے شہروں میں عارضی رہائش اختیار کرنے والے آئی ڈی پیز بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں جاسکے ہیں جس کی بنیادی وجہ آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی کے لئے سرکاری امداد کی فراہمی میں تاخیر ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت قبائلی علاقوں کو ترقی کے قومی دھارے میں شامل کرنے، ضم اضلاع میں انفراسٹرکچر کی بحالی، جاری منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے، تعلیم، صحت، مواصلات، آبنوشی، معدنیات اور سیاحت کے نئے منصوبے شروع کرنے کے اعلانات تو کر رہی ہیں تاہم ان منصوبوں کے لئے وسائل موجود نہیں،

قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت وفاق اور چاروں صوبوں میں اس بات پر اتفاق ہوگیا تھا کہ صوبے این ایف سی ایوارڈ سے اپنے حصے کا تین فیصد ضم اضلاع کی تعمیر و ترقی کے لئے وقف کریں گے۔ تاہم گذشتہ دو سالوں میں دیگر صوبوں نے ضم اضلاع کی ترقی کے لئے کوئی فنڈ نہیں دیا۔ حکومت نے اگلے دس سالوں میں ایک سو ارب روپے فاٹا کے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کا جو اعلان کیاتھا۔اس پر عمل درآمد بھی وسائل کی کمی کے باعث تاحال نہیں ہوسکا ہے۔ ترقی کی رفتار سست ہونے،معاشی سرگرمیوں میں تعطل، بے روزگاری اور مہنگائی کی شرح میں اضافے کی وجہ سے قبائلی عوام میں غم و غصہ پایاجاتا ہے۔کچھ سیاسی عناصر بھی اس صورتحال کو اپنے حق میں کیش کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اور شدت پسند عناصر بھی صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماضی میں بھی مراعات اور سہولیات سے محروم قبائلی نوجوانوں کو یہی عناصر شدت پسند انہ کاروائیوں کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔ شمالی و جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور دیگر قبائلی اضلاع میں ٹارگٹ کلنگ اورتخریب کاری کے چھوٹے موٹے واقعات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ جو گرہ آج ہاتھوں سے آسانی سے کھولا جاسکتا ہے وہ کل دانتوں سے بھی کھولنا مشکل ہوجائے گا۔ اگر شدت پسندوں نے قبائلی علاقوں کو دوبارہ اپنا مسکن بنالیا تو یہ قبائلی عوام اور پاک فوج کی بے مثال قربانیوں کو زائل کرنے کے مترادف ہوگا۔


شیئر کریں: