Chitral Times

Dec 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کم عمری کی شادی اورلاتعداد مسائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر: محمد شعیب

شیئر کریں:

پاکستانی معاشرے میں عورت آبادی کا بڑا حصہ ہے۔ اس کا تعلیم یافتہ ہونا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جو شادی شدہ جوڑا غیر تعلیم یافتہ ہو گا اپنی نسل کو بھی غیر تعلیم یافتہ رکھنے اور غیر صحت مند زندگی دینے کا سبب بنتا ہے۔ ایسے میں کم عمری کی شادی معاشی‘ معاشرتی اور سماجی اعتبار سے لاتعداد مسائل کو جنم دیتی ہے۔کم عمری کی شادی سے پیدا ہونے والے مسائل کم عمر ی میں شادی ہو جانے سے لڑکیاں اس بڑی ذمہ داری کی ادائیگی احسن طریقے سے نہیں کر پاتیں جس سے گھر‘ بچے اور سسرال انتہائی تکلیف دہ حالات سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں والدین کو بھی بچیوں کی تعلیم کو اہمیت دینی چاہیے۔.

15 سے 19 سال کی لڑکیاں اس قابل نہیں ہوتیں کہ وہ گھر کو سنبھال سکیں۔ اس طرح وہ بہت سے مسائل سے دوچار ہوجاتی ہیں۔ شادی حقیقی معنوں میں بہت سنجیدہ ذمہ داری کی ادائیگی کا نام ہے۔ والدین کو بچوں اور بچیوں کی گھر پر تربیت ضرور کرنی چاہیے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے سب سے زیادہ غریب طبقے کو متاثر کیا ہے لیکن افسوس سب سے زیادہ شرح جو 83 فیصد بنتی ہے غریب افراد پر مشتمل ہے۔ وہی لڑکے اور لڑکیوں کی کم عمری کی شادی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ لوگ تعلیم سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ اسی طبقے میں سماجی برائیوں کا رحجان بھی زیادہ پایا جاتا ہے۔ حکومت کو سختی سے قانون سازی کے ذریعے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کرنی چاہیے۔ لڑکیوں کو جنسی اور تولیدی صحت سے معلق تعلیم دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ انہیں گھر سنبھالنے اور عملی زندگی سے آگاہی حاصل ہو سکے اور وہ اچھی بیوی اور صحت مند ماں ثابت ہو سکے۔ پڑھی لکھی عورت معاشرتی و سماجی قدروں کو احسن طریقے سے ادا کرتی ہے۔ کم عمری میں شادی کر دینے پر قانون سازی کی جائے۔

دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں بچوں کی شرح اموات زیادہ ہے۔ جس کی بنیادی وجہ کم عمری کی شادی ہے۔پاکستان کے دیہی علاقوں میں بچوں کی شادیوں کی روک تھام کے لیے قانونی طور پر کم سے کم عمر 16 سے 18 سال مقرر کر دی گئی ہے، لیکن اس کے باوجود دیہاتوں میں بچوں کی شادیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کی ایک وجہ اپنی فرسودہ روایات سے دیہاتیوں کی گہری وابستگی، اپنے خاندانی رشتوں کو مضبوط تر کرنے کی ان کی خواہش، اس فرسودہ روایت کو جاری رکھنے کے لیے سماجی اور خاندانی دباؤ، اور خاص طو ر پر غربت ہے۔ مالی مسائل کے شکار والدین لڑکیوں کی جلد از جلد شادی کر کے خود کو ان کی مالی ذمہ داریوں کے بوجھ سے آزاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔دیکھنے میں یہ بھی آ رہا ہے کہ کم عمری کی شادیوں کے واقعات کے تسلسل کی ایک وجہ کم عمری کی شادی کے قانون سے دیہی معاشرے کی لا علمی بھی ہے۔ کم عمری میں شادی کی وجہ سے بچے اپنا بچپنا کھو بیٹھتے ہیں اور ان کی نہ صرف پڑھائی متاثر ہوتی ہے بلکہ کم عمری میں شادی ان کی صحت پر شدید اثرانداز ہوتی ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کو گھریلو تشدد اور زبردستی کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں عموماً پسماندہ علاقوں میں بچوں کی کم عمری کی شادی کو رسم و رواج کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ کہیں ’ونی‘ کہیں ’سوارہ‘ تو کہیں کسی اور روایت کے تحت بھی کم عمر بچوں کو بیاہ دیا جاتا ہے۔تاہم جنوبی پنجاب میں کم عمری کی شادی کا رجحان باقی صوبے سے نسبتاً زیادہ ہے۔یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں رائج کم عمری کی شادیاں روکنے کا قانون ’چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 1929‘ کے مطابق لڑکے کی شادی کی کم سے کم عمر 18 سال جبکہ لڑکی کے لیے شادی کی کم سے کم عمر 16 سال ہے۔پاکستان کے دیہاتی علاقوں میں بچپن کی شادیاں معمول کی بات ہے۔ بچوں کی ابھی کھیلنے کودنے کی عْمر ہوتی ہے کہ والدین انہیں شادی کے بندھن میں باندھ دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بچے نہ صرف بچپن کی خوشیوں سے محروم ہو جاتے ہیں بلکہ انہیں کئی طرح کے صحت کے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کے لیے تو زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ کم عْمری میں ہی وہ حاملہ ہو جاتی ہیں جس سے ان کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو تے ہیں۔ نتیجتاً پیدا ہونے والے بچے بھی موت و حیات کی کشمکش میں رہتے ہیں اور ان کی بہت بڑی تعداد پیدائش کے چند گھنٹوں کے اندر ہی موت کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسی قسم کی صورتحال سے ان کی ماؤں کو بھی گزرنا پڑتا ہے یا تو وہی زچگی کے دوران ہی دم توڑ دیتی ہے یا پھر صحت کے کئی طرح کے پیچیدہ مسائل کا شکار ہو جاتی ہے۔

غربت اور صحت کی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ان کی زندگی موت سے بد تر ہوجاتی ہے۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع، اندرون سندھ اور صوبہ خیبر پختونخواہ کے دور دراز دیہاتی علاقوں میں ایسی شادیاں عام ہیں جہاں لوگوں کو ان میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی بچپن کی شادیوں کے حوالے سے صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔بچپن کی شادیوں کے نتائج انتہائی خوفناک ہیں جن کے بارے ماہرین صحت ہمیں اکثر بتاتے رہتے ہیں۔ کم عمر لڑکیاں جو ذہنی، جسمانی و جذباتی لحاظ سے ابھی اس قابل نہیں ہوتیں کہ انہیں خود کو کیسے سنبھالنا ہے ہم انہیں بیاہ کے بعد بچے پیدا کرنے اور ان کی پرورش جیسے مشکل کام میں دھکیل دیتے ہیں۔اگر کوئی یہ کہے کہ پاکستانی معاشرے میں ایسی پیچیدہ صورتحال نہیں تو وہ غلطی پر ہے۔

2015ء میں اندرونِ سندھ میں جب ایک 13سالہ لڑکی نے ایک بچے کو جنم دیا تو اس واقعہ کا میڈیا میں بہت چرچا ہوا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ نوزائیدہ بچّہ پیدائش کے آدھ گھنٹے کے اندر ہی اس دنیا سے سدھار گیا جب کہ اس کی ماں قبل از وقت زچگی کی پیچیدگیوں میں مبتلا ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال ٹھوکریں کھاتی رہی۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا جس کا میڈیا میں ذکر ہوا۔ غیر سرکاری تنظیم راہنماء فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان جو جاپان فنڈ کی تعاون سے پاکستان بھر میں تولیدی صحت پر کام کررہی ہے کے مطابق دور دراز دیہاتی علاقوں میں ایسے واقعات اکثر رونما ہوتے ہیں جن کی خبر میڈیا کو نہیں ہوتی اور نہ جانے کتنے بچے اور کم عمر مائیں موت کا شکار ہو جاتی ہیں یا پھر زندگی بھر کے لیے صحت کے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔کم عْمری کی شادیوں کی آخر وجوہات کیا ہیں، والدین سمجھتے ہیں کہ خاندان کی عزت لڑکیوں کے دم سے ہے اس لیے انہیں آزادانہ نہیں گھومنا چاہیے۔

خاص طور پر مردوں سے گھْلنے ملنے کو تو بہت ہی قابلِ اعتراض سمجھا جاتا ہے کہ اسی خوف کے مارے والدین جھٹ سے لڑکیوں کی شادی کر دیتے ہیں کہ کہیں وہ خاندان کی بدنامی کا باعث نہ بنیں۔ فرسودہ خیالات و رسم و رواج کے علاوہ ایک اور وجہ والدین کی معاشی مجبوریاں بھی ہیں چونکہ لڑکیاں کماؤ پوت نہیں ہوتیں اس لیے والدین ان کی موجودگی کو ایک بوجھ سمجھتے ہیں۔ انہیں ہمیشہ ان کے لیے ایک دْلہا کی تلاش رہتی ہے جو ان کا بوجھ اْٹھا سکے۔ اکثر بے جوڑ شادیاں اسی سوچ کا نتیجہ ہوتی ہیں جس سے کئی طرح کے سماجی مسائل اور جرائم کاآغاز ہوتا ہے۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچوں کی جلد شادی کر دینے سے ان کے مسائل حل ہو جائیں گے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سے ان کے مسائل میں مزید اضافہ ہوتا ہے جسے وہ نسل در نسل بھگتتے رہتے ہیں۔ اپنی مرضی کے خلاف شادی پر جب کوئی لڑکی انکار کرتی ہے تو اسے غیرت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ ایسے گھناؤنے واقعات کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

اگر دیگر ممالک کی مثال کو سامنے رکھا جائے تو اس سلسلہ میں سب سے اہم بات لڑکیوں کے لیے بنیادی تعلیم کی سہولتوں کی فراہمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ محض آگاہی پر مبنی سر گرمیوں سے کوئی فائدہ نہیں۔ صوبائی حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی ہو ں گی جس سے لوگوں کی معاشی حالت بہتر ہو تاکہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے مختلف انداز میں سوچنے کے قابل ہو سکیں نہ کہ معاشی مسائل کے حل کے لیے بچپن کی شادیوں جیسی فرسودہ رسم سے رجوع کریں۔ کم عْمری اور زبر دستی کی شادیوں کے مسائل ایک دوسرے سے باہم جْڑے ہوئے ہیں۔حالانکہ بچپن کی اور زبر دستی کی شادیوں سے جْڑے مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے جو کہ حکومتی توجہ کی مستحق ہے۔ ان میں سر فہرست ماں بچے کی صحت اور غیرت کے نام پر قتل جیسے گھناؤنے جرائم ہیں۔


شیئر کریں: