Chitral Times

Apr 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جامعہ نصرۃ الاسلام گلگت کے سالانہ کانووکیشن میں 18 حفاظ کی دستار بندی

شیئر کریں:

گلگت( خصوصی نیوز رپورٹ) جامعہ نصرہ الاسلام گلگت میں تقریب ختم بخاری کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ انوارالعلوم گجرانوالہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا  محمد داود  نے کہا اعمال میں وزن پیدا کرنے کے لیے اخلاص و اتباع سنت ضروری ہے. اخلاص، اتباع سنت اور نیت درست نہ ہو تو عالم، سخی اور شہید کو بھی جہنم میں ڈالا جائے گا. دنیا کی جاہ و جلال اور مال و معیشت معیار نہیں، دین، ایمان اور قرآن اللہ ان کو عطاء کرتے ہیں جن سے محبت کرتے ہیں. علماء کی زندگی فقر و فاقہ سے تعبیر ہے. علم حدیث پڑھنے والوں کو کسی صورت حقیر نہیں سمجھنا چاہیے.وہ بہت عظیم لوگ ہوتے ہیں. کتے کی غلاظت و نجاست معروف ہے مگر علم و تربیت کی وجہ سے کتا کا شکار بھی جائز ہوتا ہے.اسلام علم کو بہت اہمیت دیتا ہے. طالبان علوم نبوت کو اپنا مقام و مرتبہ پہچاننا چاہیے.فتنہ و فساد کے دور میں ایک مٹی ہوئی سنت کو زندہ کرنا سو شہیدوں کے ثواب کے برابر ہے. سنت سے مراد وہ سنت ہے جس کے مقابلے میں بدعت آچکی ہو. بدعت جتنی بھی اچھی ہو مستحسن نہیں.ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا. انہوں نے مزید کہا کہ دین کو سب سے زیادہ نقصان بدعت کو فروغ دینے سے ہوا ہے. تقوی پیدا کرنے کے بعد دین و دنیا کے کاموں میں برکت ہوتی ہے.حدیث میں انسان کے اعمال تولنے اور وزن کرنے کی بات ائی ہے. پہلے زمانے میں اس پر بحث ہوتی تھی مگر اب سائنس نے ثابت کردیا کہ ہر چیز تولی جاسکتی.ہوا کا بھی وزن کیا جاسکتا ہے.لہذا قیامت کے دن اعمال تولے جائیں گے. حرام کا ایک لقمہ بھی پیٹ میں چلا جائے تو دعا اور عبادت قبول نہیں ہوتی. حرام سے ہر حال مین بچنا چاہیے. بخاری شریف کے یہ دو کلمات زبان پر بہت سہل ہیں مگر وزن اور ثواب کے اعتبار سے بہت وزنی ہیں. جامعہ نصرۃ الاسلام کے رئیس مولانا قاضی نثار احمد نے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا گلگت بلتستان میں ہونے والے امن معاہدوں اور ضوابط اخلاق پر سختی سے عمل درامد کرواکر  حکومت اپنی رٹ قائم کرے. یکطرفہ فیصلے کرکے حکومت نہیں چلایا جاسکتا ہے. اہل سنت کیساتھ کیے جانے والے مظالم کا خاتمہ کیا جانا چاہیے.آزادی کےوقت گلگت میں پاکستان کا نام لینا مشکل تھا تب میرے والد ماجد قاضی عبدالرزاق نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا. یہ علماء دیوبند کی پاکستان دوستی اور محبت کا ثبوت ہے. 


بین الاقوامی شہرت کے حامل معروف شاعر و نعت خواں مفتی سعید ارشد الحسینی نے اپنے حمدیہ، نعتیہ کلام سے محفل کو گرمایا. اصحاب رسول کی مدح و توصیف میں شاندار نظمیں پڑھی. اپنے خطاب میں مفتی سعید ارشاد نے قاضی نثاراحمد کو گلگت بلتستان کا شیر قرار دیا. انہوں نے کہا کہ قاضی نثار احمد کی آواز ملک کے طول و عرض میں سنی جاتی ہے. قاضی کا وجود گلگت میں غنمیت ہے. تمام لوگ قدر کریں. یہ اصحاب رسول اور اہل بیت کا سچا عاشق اور مجاھد ہے. 


جامعہ کے سالانہ تقریب سے مولانا سید محمد، مولانا معاذ، مولانا عبدالقیوم، مولانا مزمل شاہ اور دیگر علماء نے خطاب کیا. جامعہ نصرۃ الاسلام شعبہ، جامعہ صدیقہ لبنات الاسلام میں سال 2020 و 2021 میں 14 طالبات نے بخاری شریف کی تکمیل کی اور وفاق المدارس العربیہ کے امتحان دیا. جامعہ صدیقہ میں اسکول، حفظ اور درس نظامی کی مکمل تعلیم دی جاتی ہے. جامعہ 600 طالبات زیر تدریس ہیں.جامعہ نصرۃ الاسلام کے شعبہ بنین میں 18 طلبہ نے حفظ قرآن کی تکمیل کی اور ان کی بھی دستار بندی کی گئی. جامعہ میں 400 طلبہ زیر تربیت ہیں. جامعہ شعبہ اسکول سے لے کر دارالافتاء سمیت پندرہ شعبے کام کرتے ہیں. جامعہ کے زیر انتظام رومی اکیڈمی میں بہترین عصری تعلیم دی جاتی ہے.سالانہ تقریب میں جامعہ کے طلبہ و طالبات نے حمد و نعت، نظمیں اور اردو، عربی اور انگریزی میں تقاریر کی.تقریب میں گلگت بلتستان کے ہزاروں  جید علماء کرام و مفتیان عظام  اور قراء حضرات نے شرکت کی. درجنوں مدارس کے اساتذہ کرم اور شیوخ نے شرکت کی. ضلع دیامر معروف علماء نے بڑی تعداد میں شرکت کی. جامعہ دارالعلوم غذر، جامعہ اشرف العلوم، جامعہ عروۃ الوثقی، دارالعلوم تفہیم القران داریل، جامعہ منبع العلوم داریل، جامعہ عربیہ دارالقرآن داریل اور گلگت بلتستان کے دیگر مدارس کے مہتممین اور اساتذہ نے شرکت کی. تقریب میں ششماہی امتحانات کے رزلٹ کا اعلان کیا گیا اور طلبہ و طالبات میں انعامات تقسیم کی گئی.مولوی عرفان ولی نےاسٹیج سکریٹری کے فرائض انجام دیے. گلگت کے معروف نعت خوان احسان حسانی نے بھی خوبصورت نظم سے محفل کو گرمایا. علماء کرام نے 18  فارغ التحصیل حفاظ اور مشکوۃ شریف کے فضلاء کی دستار بندی کی. شعبہ بنات میں  ختم بخاری کی تقریب میں 14 طالبات کی خمار بندی کی گئی. جنہوں نے دورہ حدیث شریف کی تکمیل کی.


شیئر کریں: