Chitral Times

Dec 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ناتواں جمہوریت اور الزام کی سیاست …….قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

الیکشن کمیشن پاکستان کے الیکشن ٹریبونل نے اپیلوں کا مرحلہ مکمل کرکے حتمی لسٹ جاری کردی۔جب کہ دوسری جانب سینیٹ ووٹنگ کا طریق کار ابھی تک واضح نہیں ہوا، عدالت اعظمیٰ میں صدارتی ریفرنس زیرِ سماعت ہے،،اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اعظمیٰ، ایوان بالا کے انتخابات میں ووٹنگ کے طریق کار کے حوالے سے کیا آئینی رائے دیتی ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ انتخابات میں الیکشن کمیشن کے ایک فیصلے کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) سینیٹ انتخابات سے باہر ہوگئی تھی، عدالت اعظمیٰ کی جانب سے نواز شریف کونا اہل قرار دیئے جانے کے بعد ن لیگ کے چیئرمین راجہ ظفر الحق کے جاری کردہ نئے ٹکٹ کو الیکشن کمیشن نے مسترد کردیا تھا، جس کے بعد آزاد امیدوار بن کر سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا گیا۔ اُس وقت پیدا شدہ سیاسی صورتحال سنسنی تھی۔ عدالتی حکم کے تناظر میں نواز شریف کو، پارٹی صدارت کے عہدہ سے ہٹانے کے نتیجہ میں، سینیٹ انتخابات کے شیڈول کے مطابق انعقاد کے بلڈوز ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا، لیکن سیاسی جماعتوں نے جمہوری نظام کو رواں رکھنے کے لئے تحفظات کے باوجود انتخابی عمل میں حصہ لیا۔
الیکشن کمیشن نے این اے75کے حوالے سے ملکی سیاسی حالات کے سیاق و سباق میں ایک دانشمندانہ فیصلہ کیاہے۔ شفاف انتخابات کا خواب یقینی بنانے کے لئے الیکشن کمیشن  کو 16پولنگ اسٹیشن کے پریزائیڈنگ افسران کے بیانات ونتائج ٹمپرنگ کئے جانے والے مبینہ ثبوتوں کو ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر لیا۔

اس وقت مسئلے کا حل یہ نہیں رہا کہ چند پولنگ اسٹیشن یا پورے حلقے میں ری الیکشن کرائے جائیں، بلکہ زیادہ ضروی ہے کہ پریزائیڈنگ افسران  کے غائب ہونے کی بیان کی تصدیق کے لئے فون لوکیشن ٹریس کی جائے، کیونکہ اس سے  با آسانی پتہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ افسران انتخابی عمل ختم ہونے کے بعد”کہاں“ تھے۔ ریٹرننگ افسر کی پیش کردہ رپورٹ کے مطابق جن پولنگ اسٹیشن کے نتائج میں مبینہ ٹمپرنگ کی گئی، جیو فینسنگ  اور بائیو میٹرک کے ذریعے جعلی ووٹ ڈالنے والوں کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔غلط بیانی کرنے والیپریزائیڈنگ افسران  سے تفتیش کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے، یہ سب کرنے کے لئے چمک کا سہارا لیا، یا کسی بھی سیاسی جماعت یا انتظامیہ کے دباؤ، مجبوری یا لالچ کی وجہ سے کیا۔فائرنگ کرنے والے وائرل ویڈیو میں واضح نظر آرہے ہیں، نادرا کی مدد سے انہیں شناخت کے بعد گرفتار کرکے اصل احوال سے عوام کو غیر جانب دار کمیشن ہی آگاہی دے سکتا ہے۔تحریک انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ن کو صرف ایک نشست میں کامیابی یا ناکامی کے سوال سے آگے بڑھنا ہوگا۔ دید و شنید ہے  کہ کراچی کے بے امنی کے دور میں بعض حلقوں میں ٹرن آؤٹ 95سے 99فیصد کا ظاہر کرکے الیکشن مافیا کامیاب ہوتے رہے، یہی عمل کراچی و حیدرآباد سمیت ملک بھر کے کئی علاقوں میں ہوتا رہا ہے، لیکن کراچی میں ریکارڈ توڑ ٹرن آؤٹ کی ایک ناقابل یقین تاریخ رہی ہے۔ یہاں تک کہ دارِ فانی سے کوچ کرنے والوں نے عالم اورح سے آگے کر ووٹ بھی ڈالے۔ اب جب کہ ڈسکہ میں پریزائیڈنگ افسران  کے مشکوک بیانات سامنے آچکے ہیں، تو انتخابات و ووٹر کے حق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے پشت پناہوں کو منظر عام پر لا کر مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کرنا ہوگا، کیونکہ بلدیاتی انتخابات کا دور آنے والا ہے۔


عدالت اعظمیٰ میں ووٹ کے خفیہ ہونے و کرپٹ پریکٹس کرنے والوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہونے پر بھی تحفظات سامنے آئے ہیں، صدارتی ریفرنس زیرسماعت ہے،اس وقت یہ ایک بہترین موقع ہے کہ صرف سینیٹ کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر سطح پر منعقد ہونے انتخابات میں ووٹر کے آئینی استحقاق کو یقینی بنانے و مستقل حل کے لئے صائب متبادل رائے سامنے آئے۔ جس سے انتخابی نظام کو کسی قسم کے امکانی دھچکے سے بھی محفوظ رکھنے کی سعی ہو، لیکن میڈیا اور سیاسی حلقوں میں انتخابات کے حوالے سے قانونی اور آئینی روڈ میپ کی تشکیل اور اس کے مضمرات پر جو بحث جاری ہے، اس سے اور آئینی حلقوں میں محض زیب داستان کے طور پر زیر بحث لانے میں بھی احتیاط لازم ہے، قانونی ماہرین، میڈیا اور سیاسی حلقوں میں انتخابات کی شفافیت کے حوالہ سے اظہار رائے کی آزادی کو عدلیہ و الیکشن کمیشن کی آزادی اور اس کی فعالیت سے الگ کرکے نہ دیکھا جائے۔ آئین و قانون کی حکمرانی نہ ہو تو ریاست دو قدم بھی نہیں چل سکتی، اور نہ انتظامیہ، پارلیمنٹ کا تشخص اور اس کی بالادستی کی آئینی حیثیت عملاََ محفوظ رہ سکتی ہے۔آئینی اداروں میں تصادم و باہمی چپلقش کی قیاس آرائیاں ملکی مفاد میں نہیں،تاہم کئی ایسے معاملات بھی زیر بحث آرہے ہیں، جس پر عوام میں سیاسی و ذہنی خلفشار کا پیدا ہونا فطری ہے۔ عوام اداروں و سیاسی جماعتوں کومتصادم دیکھنے کے بجائے اپنے حقوق کا تحفظ و مسائل کا حل چاہتی ہے، سمجھنا ہوگا کہ درپیش مسائل کا حل اختلافات سے نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے ا اورتفاق رائے سے ہی نکلے گا۔


سیاست دان اس تاریخی حقیقت کو فراموش نہ کریں کہ عدالت اعظمیٰ اور الیکشن کمیشن کے فیصلوں، جمہوریت مخالف ارتعاش، سیاسی بے یقینی اور نہ سسٹم کو لپیٹے جانے کے کسی سونامی کا جمہوری نظام کو سامنا ہے، حالیہ بحران جیسا بھی ہے، اسے حل کیا جاسکتا ہے، ناگز ہے کہ جمہوریت پسندوں کو ثابت قدمی اور سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا ہوگا،جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کو سمجھنا ہوگا کہ اگر جائز آئینی اقدامات اور قوم کے مفاد میں ایسے فیصلے، جو بظاہر غیر مقبول ہوں، کر بھی دیئے جائیں تو آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔مملکت جمہوریت پسندوں کو خوش اسلوبی سے چلانی اور امیدواروں سمیت ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا مناسب ہوگا، سینیٹ و ضمنی انتخابات کے ایشوز کو آئینی طریق کار و پارلیمنٹ میں حل کرنے کا اسپیس موجود ہے، کشیدگی ترک کرکے متحد ہوں تو بحرانوں کا رخ موڑا جاسکتا ہے۔تمام پارلیمانی اسٹیک ہولڈرز چاہیں تو عوامی مفاد عامہ کو مد نظر رکھتے ہوئے ایوان میں فروعی مفادات سے بالاتر ہوکر اتفاق رائے سے مسائل و بحرانوں کا حل نکال سکتے ہیں، اس کے لئے حکومت و اپوزیشن کو مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لئے کھلے دل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ 


شیئر کریں: