Chitral Times

Dec 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔چھوٹے ہسپتال۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

خیبر پختونخوا کی حکومت نے عوام کو صحت کی بنیا دی سہو لیات دینے کے لئے دیہات کے اندر یا دیہاتی علا قوں میں قائم چھوٹے ہسپتالو ں کو ہفتے کے سات دن 24گھنٹے فعال رکھنے کے لئے ایک پائیلیٹ پرا جیکٹ کی منظوری دی ہے پر اجیکٹ کے تحت 82بیسک ہیلتھ یو نٹ اور 50رورل ہیلتھ سنٹر میں سہو لیات فراہم کی جائینگی پرا جیکٹ کی کا میابی کے بعد اس سلسلے کو دوسرے دیہات کے چھوٹے ہسپتا لوں تک پھیلا یا جا ئے گا حکومت کے اس فیصلے سے معلوم ہو تا ہے کہ عوام کو علا ج معا لجہ کی سہو لیات دینے میں نا کا می کے گھمبیر مسئلے کا سرا حکومت کے ہاتھ آگیا ہے اب تک مسئلہ یہ تھا کہ کہاں سے بات شروع کی جا ئے اب حکومت نے بیل کو سینگوں سے پکڑ لیا ہے اب یہ بیل چاروں شا نے چت گرے گا اور حکومت کی تیز دھا ر چھری اس کی گردن پر ہو گی یعنی مسئلہ دھیرے دھیرے حل ہو نے کی طرف جا ئے گا 1970کے انتخا بات میں منتخب ہو نے وا لی اسمبلی نے بڑے بڑے کا م کئے اُس وقت کی صو با ئی حکومت نے کئی انقلا بی اقدا مات اُٹھا ئے،

دیہاتی علا قوں میں چھوٹے ہسپتا لوں کا جا ل بچھا نا اُس وقت کی حکومت کا بڑا کا ر نا مہ تھا اگر 1977ء کے بعد ان ہسپتا لوں کو لا وارث نہ چھوڑدیا جا تا تو اب تک صو بے کی 80فیصد آبا دی کو گھر کی دہلیز پر علا ج معا لجہ کی سہو لتیں مل چکی ہو تیں اس وقت ہر یو نین کو نسل میں بی ایچ یو اور 3یو نین کونسلوں کے لئے آر ایچ سی کی جو عما رتیں نظر آتی ہیں ان عما رتوں میں ڈاکٹر، ایکسرے، لیبارٹری اور داخل مریضوں کے علا ج کی آسا نیاں ہوتیں تو عام بیماری یا حا دثا ت کی صورت میں ڈی ایچ کیو ہسپتالوں پر مریضوں کا ر ش کم ہوتا، اگر ڈی ایچ کیو ہسپتا لوں میں سی ٹی سکین، ایم۔آر۔ آئی اور دیگر سہو لیات دستیاب ہوتیں تو صو بائی دا رلحکومت کے بڑے ہسپتا لوں پر مریضوں کا رش بہت کم ہو جا تا والی سوات میاں گل عبد الحق جہا نزیب نے 1950ء کے عشرے میں ریا ست سوات کے لئے اس طرح کی منصو بہ بند ی کی تھی لو گوں کو علا ج معا لجہ کی بنیا دی سہو لیات گھر کی دہلیز پر حا صل ہو ں آج 70سال بعد بھی سوات کا دورہ کرنے والا دیکھ سکتا ہے دور دراز دیہات میں چھوٹے ہسپتالوں کی عما رتیں نظر آجا تی ہیں والی صاحب کے زما نے میں ان ہسپتا لوں میں ڈاکٹر بھی ہو تے تھے علا ج بھی ہو تا تھا.

والی سوات نے ایسی منصو بہ بند ی کی تھی کہ 50کلو میٹر کے دیہاتی علا قے میں ایک چھوٹا ہسپتال ایسا ہو جہاں تما م سہو لیات میسر ہوں بحرین،ڈگر اور الپوری سے مریضوں کو پشاور لے جا نا نہ پڑے اگر ڈاکٹر نے بڑے ہسپتال لے جا نے کا مشورہ دیا تو سیدو شریف میں دو بڑے ہسپتال دستیاب ہو ں یہ علا ج معا لجہ کی سہو لیات کا بہترین ما ڈل تھا والی صاحب نے سوات کے نو جوانوں کو سکا لر شپ دے کر لا ہور بھیجا اور اس بات کو یقینی بنا یا کہ ہر سال 10ڈاکٹر فارغ ہو کر آجا ئیں 10نئے جواں لا ہور میں داخلہ لے لیں 1970کے عشرے میں ہمارے صو بے کے لئے بی ایچ یو اور آر ایچ سی کے نا م سے چھوٹے ہسپتالوں کی جو منصو بہ بندی ہو ئی تھی وہ اعلیٰ پا یے کی منصو بہ بندی تھی بعد میں آنے والی حکومتوں نے اس پر عمل نہ کیا اور منصو بہ ادھورا رہ گیا شکر ہے کہ 45سال بعد مو جو دہ حکومت کو خیال آیا اور دیہاتی علا قوں کے چھوٹے ہسپتا لوں کو فعال کرنے پر کا م کا آغا ز ہوا منصو بہ یہ ہے کہ پہلے مر حلے میں افراد ی قوت پر توجہ دی جائیگی میڈیکل ٹیکنیشن اور آیا کی 264آسا میاں پید ا کی جا ئیں گی ان اسامیوں پر یقینا تر بیت یا فتہ افراد کی تقرری ہو گی گو یا افرادی قوت مہیا ہو نے کے بعد ہسپتا لوں کے دروازے کھل جا ئینگے اور 24گھنٹے کھلے رہینگے.

پائیلٹ پرا جیکٹ کے لئے جن اضلاع کا انتخا ب کیا گیا ہے ان میں پشاور، چارسدہ، مر دان، بنو ں، ایبٹ اباد، ما نسہرہ، ڈیرہ اسما عیل خان، ہری پور، بٹ گرام،کو ہاٹ،لکی مر وت، ملا کنڈ، دیر اپر، دیر لوئر، ہنگو، بو نیر، اور سوات شا مل ہیں ابتدائی طور پر میڈیکل ٹیکنیشن سکیل 12کی 132آسا میاں اور آیا سکیل 1کی 132آسا میاں منظور کی گئی ہیں 34اضلا ع میں سے جو 17اضلا ع رہ گئی ہیں ان کو اگلے مر حلے میں آسا میاں دی جائینگی اگر اس پر عمل ہوتا رہا تو اگلے 5سالوں میں چھوٹے ہسپتا لوں کا چھوٹا مسئلہ حل ہو جا ئیگا آ گے بڑا مسئلہ رہ جا ئے گا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آر ایچ سی میں ایکسرے، لیبارٹری اور 10بستروں کا وارڈ فراہم کر کے چار ڈاکٹر وں کی آسا میں منظور کی جا ئیں بی ایچ یو کے لئے لیبارٹری،ایکسرے اور 5بستروں کا وارڈ دیدیا جائے اس کو چلا نے کے لئے دو ڈاکٹروں کی آسا میاں منظور کی جائیں اس صورت میں ہماری حکومت 2021ء میں دیہاتی یو نین کونسلوں کے عوام کو وہ سہو لیات دے سکیگی جو والی سوات نے 1951ء میں عوام کو دے رکھی تھی ہم دعا گو ہیں کہ حکومت کا یہ منصو بہ ادھو را نہ رہے۔


شیئر کریں: