Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نیلم جہلم سرچارج کا خاتمہ…..محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بالاخر نیلم جہلم سرچارج کو فوری طورپر منسوخ کرنے کی منظوری دیدی۔نیلم جہلم سرچارج کے خاتمے کی تجویز وزارت توانائی کی جانب سے کابینہ میں پیش کی گئی تھی۔ کمیٹی نے یوٹیلیٹی سٹورزکارپوریشن کو آٹا اورگھی کی قیمتوں کومعقول بنانے کی بھی ہدایت کردی۔زرعی شعبہ کیلئے اعلان کردہ مالیاتی پیکج کے تحت صوبوں میں زراعانت کی تقسیم کے طریقہ کار کی بھی منظوری دی گئی۔اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ اس بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہیں بڑھنے دیں گے، جعلی ادویات بنانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کیاجائے گا، مہنگائی کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے گی۔وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ سبزیوں اور دوسری اجناس کی قیمت خرید اور فروخت میں بہت زیادہ فرق ہے، کسان محنت کررہا ہے،

فائدہ مڈل مین اٹھا رہا ہے، لیکن درمیان میں جو پیسا کما رہا ہے اس کیخلاف بھی کاروائی کریں گے۔جعلی اور نقلی ادویات بناکر انسانی جانوں سے کھیلنے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔اگرچہ نیلم جہلم سرچارج ختم ہونے سے بجلی استعمال کرنے والوں کو معمولی سا ریلیف ملے گا مگر یہاں بات معمولی نقصان کی نہیں تھی بلکہ مسلسل استحصال کی تھی۔ اگر عوام پر بلاضرورت ایک روپے فی کس بھی اضافی بوجھ ڈالا جائے تو وہ بائیس کروڑ روپے بنتے ہیں یہ رقم قومی خزانے کے بجائے چند افراد کی جیبوں میں جاتی ہے۔نیلم جہلم بجلی گھر کی تعمیر کے لئے پندرہ سال قبل صارفین سے ایک سال تک نیلم جہلم سرچارج کے نام پر ٹیکس لگا کر چھ ارب روپے جمع کرنے کا فیصلہ کیاگیا تھا۔

فیصلہ فوری طور پر نافذ کیاگیا مگر ایک سال والی بات بھلادی گئی۔ عوام کی جیبوں سے چھ ارب کے بجائے پچاس ارب روپے نکالے گئے۔ ڈھائی سال قبل نیلم جہلم منصوبہ مکمل ہوچکا ہے لیکن بجلی کے بلوں میں یہ سرچارج اب تک وصول کیاجارہا ہے۔کابینہ کمیٹی نے اس غیر ضروری ٹیکس کو ختم کرنے کا فیصلہ تو کیاہے نجانے کب اس فیصلے پر عمل درآمد کی باری آئے گی۔حیرت کی بات یہ ہے کہ کابینہ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مناسب کمی کی بات کی گئی تھی۔ اجلاس کے خاتمے پر روزمرہ ضرورت کی مختلف اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹی فیکیشن جاری کردیا گیا۔ سرکاری سٹور پر اشیائے ضروریہ رعایتی قیمتوں پر عوام کو فراہم کرنے کا اعلان ہوا تھا فیصلے کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے سرکاری سٹور پر 244اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں پندرہ سے بیس فیصد اضافے کا اعلان کیاگیا جن میں گھی، کوکنگ آئل اور دیگر روزمرہ ضرورت کی اشیاء شامل ہیں۔کسی دل جلے نے سوشل میڈیا پروزیراعظم سے پرزور اپیل کی تھی کہ وہ عوام کے وسیع تر مفاد میں مہنگائی کا نوٹس لینا بند کریں۔ وزیراعظم جس چیز کی قیمت کا نوٹس لیتے ہیں اگلے روز اس کی قیمت دوگنی ہوجاتی ہے۔

عام لوگوں کو اپنا گھر بنانے کے لئے تعمیراتی سامان مناسب نرخوں پر فراہم کرنے کا جونہی حکومت کی طرف سے اعلان کیا گیا۔ سریے، سیمنٹ، بجری، ریت،پینٹ اور دیگر تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں پچاس فیصد تک اضافہ کیاگیا ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اپوزیشن والے گذشتہ چار عشروں سے اقتدار میں رہے۔ ہرجگہ اپنے مفادات کو تحفظ دینے والے لوگ بٹھائے ہوئے ہیں ملک میں تمام شوگر ملیں، فلور ملیں، پولیٹری انڈسٹری، جاگیریں اور صنعتیں اپوزیشن والوں کی ہیں وہ حکومت کو غیر مقبول بنانے کے لئے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ کررہے ہیں دوسری جانب اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی نالائقی اور نااہلی کے باعث مہنگائی اور بے روزگاری کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔

الزامات اور جوابی الزامات سے قطع نظر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت جن مافیاز کی بات کررہی ہے کیا وہ ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں۔ ان کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے انہیں قرار واقعی سزا دینے میں کونسا امر مانع ہے۔اپوزیشن کی مبینہ سازشوں سے کہیں زیادہ حکمرانوں کے قول و فعل میں تضاد نے انہیں غیر مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شاعر نے بھی شاید اسی صورت حال کے تناظر میں کہا تھا کہ ”آپ ہی اپنی اداؤں پہ زرا غور کریں۔ ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی“


شیئر کریں: