Chitral Times

Jul 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مثل خان: سب کے دل و جان…..سردار علی سردارؔ اپر چترال

شیئر کریں:

ٹہل رہا تھا کوئی سنگ سنگ رنگوں کے

بدل رہے تھے تسلسل سے رنگ رنگوں     

          تری گلی سے نکلتے نہیں ہیں جانِ بہار

                                   فقیر عارضِ گل کے ملنگ رنگوں کے    ( منصور آفاق)

دنیا میں کئی قسم کے لوگ  گزرے ہیں اور گزرتے رہیں گے جن میں سے بعض خوش قسمت علم و ادب ، سحر انگیز شخصیت اور کارہائے نمایاں کی وجہ سے اپنا نام تاریخ کی کتابوں میں رقم کرچکے ہیں۔مذکورہ یہ تمام اوصاف اگرچہ  مثل خان  میں موجود نہیں تاہم اپنی ظریفانہ باتوں اور مجذوب شخصیت کی وجہ سے اہم  لوگوں  کی صف میں اپنا نام  شامل  کر کے  مشہور  ہوگئے  ۔ اگرچہ موصوف دنیا کی نگاہوں میں نہ عظیم فنکار ہیں اور نہ ہی تاریخی طور پر کوئی اہم کام سرانجام دے چکے تاہم اپنی  پوری زندگی کبھی  مجذوبانہ شخصیت کے لبادے میں  اور کبھی   درویشانہ خصلت اپنائے  اپنی خوبصورت آواز سے  رقص و سرور کی محفلوں کو گرم کرکے لوگوں کے دل جیت  لئے اور مثل خان نام سے  اپنی الگ پہچان بنائی۔  لوگ آپ کو دل و جان سے چاہتے تھے اور آپ سے محبت کا اظہار کرتےتھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ مثل خان  کی تصویریں  اس کے مداحوں کی  دکانوں اور گھر کی دیواروں میں اویزان نظر آئیں گے۔  

آپ  علاقہ ء موڑکہو کے سہت پائین  میں ایک معزز قبیلے دشمانے خاندان میں1929 ءکو   پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی تراب  قلعہ دراسن میں یساؤل کے عہدے پر مامور تھے۔ اسی مناسبت سے لوگ آپ کو بھی  یساؤل کے نام سے یاد کرتے تھے۔ لیکن آپ کا اصل نام شیر مراد  خان تھا ۔آپ کے تین اور بھی بھائی تھے  جن میں  گل ولی ، شیر محمد خان آپ سے عمر میں بڑے تھے جبکہ بلان جان آپ سے چھوٹے تھے۔آپ کے والدتراب  یساؤل اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے قلعہ دراسن میں ہی رہائش پزیر تھےاس لئے آپ کی تربیت  بھی باپ کے زیرِ سایہ قلعہ دراسن ہی میں ہوئی۔ جس کی وجہ سے پچپن ہی سے آدابِ شاہی کے طور طریقوں سے آشنا ہوگئے تھے۔آپ کو شہزادہ عمادالملک سے خصوصی رقابت تھی۔ سفر ہو یا دیگر  سماجی معاملات ہوں یا موسیقی کی محفلیں ہر جگہ آپ کی موجودگی محفل کی جان ہوا کرتی تھی۔ بقول شاعر

میرِمحفل تھا وہ ملتی نہیں کچھ اُس کی نظیر

اُس کے دم سے ہوا بھرپور گلستانِ غزل

اُس زمانے کے رواج اور مادی وسائل کی عدم دستیابی کی وجہ سے آپ  بھی اپنی ابتدائی تعلیم سے محروم رہے ۔لیکن قدرت نے آپ کو خوبصورتی کی نعمت سے سرفراز کرنے کے ساتھ ساتھ خوبصورت آواز بھی عطا کی تھی۔انہی خصوصیات کی بنا  پر اور اپنے فنکارانہ  ذوق سے لوگوں میں مقبول ہوئے۔ آپ ایک اچھے سیتھار نواز ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے رقاص بھی تھے۔جب بھی رقص کے لئے اٹھتے تو پورا مجمع تالیاں بجاکر آپ کو داد دیتے ہوئے خود بھی محوِ رقص ہوجاتے ۔آپ رقص کرتے کرتے تھکنے کا نام نہیں لیتے۔ بقول  لال شہباز قلندر

تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
بہ ہر طرزِ کہ می رقصانیَم اے یار می رقصم

شیر مراد خان المعروف مثل خان کے وجود میں خداداد صلاحیتیں بھری ہوئی تھیں۔ آپ بیک وقت گلوکار، سیتھار نواز اور رقاص تھے۔آپ کی آواز بہت ہی خوبصورت  اور دل کو لبھانے والی  تھی۔ جب آپ کوئی پراناگانا گانے کے لئے سماع باندھتے تو محفل میں شریک تمام لوگوں پر سحر طاری ہوجاتی۔ سیتھار ایسا بجاتے کہ لوگ سنتے ہی رہتے اور لطف اٹھاتے رہتے ۔یہ تمام فنکارانہ  خصوصیات آپ کو پچپن ہی سے  اپنی ذاتی محنت سے حاصل ہوئی تھیں اور آپ کا بیشتر وقت اور جوانی کے خوبصورت لمحات موسیقی اور سرور کی محفلوں میں بیت  گئے ۔

 اگرچہ آپ ایک زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھےلیکن آپ کو اپنی دنیا داری سے کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ پوری زندگی گھر سے باہر اپنے دوستوں ، احباب اور  مست لوگوں کے درمیان  بسر کی ۔ گھر کے معاملات  بچے اور رشتہ دار انجام دیتے تھے۔ جو کچھ اسے مل جاتا کھا لیتے نہ ملنے کی صورت میں منت سماجت نہیں کرتے۔بزرگوں سے یہ بات سنی ہے کہ مثل خان اپنی جوانی کے دنوں میں بہت ہی خوبرو نوجوان تھے۔ پشاور میں اپنے دیگر دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر کسی کمپنی میں کام کرتے تھےاور اپنے بال بچوں کی دیکھ بال کرتے تھے۔اچانک اس کی زندگی میں صحت خراب ہونے کی وجہ سے تبدیلی آگئی اور وہ اپنی ہوش و حواس کھو بیٹھے۔ اسے اس کے گھر لایا گیا  جہاں وہ اپنے ہوش و حواس  سے دور ہونے کی وجہ سے اپنی بیوی بچوں کو مارنے  لگے ۔اس دوران اپنی نومولود بچی کو ماں کی گود سے اٹھاکر درخت پر  دے مارا جس سے اس کی موت واقع  ہوگئی۔بیوی بھاگ کر میکے چلی گئی  جہاں اس کی زندگی اجیرن بنی اور اپنے آپ کو سنبھال نہ سکی ۔بچے کی اچانک موت اور شوہر کی اس پاگل پن سے دل برداشتہ ہوکر وہ خود بھی   اس دارِ فانی سے کوچ کر گئی۔

مثل خان: سب کے دل و جان.....سردار علی سردارؔ اپر چترال

زندگی جب امتحان لینے پہ آتی ہے تو اس سے  ذیادہ  سخت گیر ممتحن کوئی نہیں۔  زندگی  اپنے سوالات سے وقت اور حالات کا کایا پلٹ دیتا ہے۔یہی سب کچھ مثل خان کے ساتھ ہوا۔    پاگل پن  اور دیوانگی  کی حالت میں مثل خان    ادھر ادھر کی باتیں کرکے قریہ قریہ گھوم کر عجیب و غریب حرکتیں کرنے لگے۔ دن گزرتے گئے اور آپ اِدھر اُدھر گھوم پھر کر اپنی زندگی بسر کرنے لگے۔پھر اللہ کا کرم یہ ہوا کہ آپ رو بہ صحت ہوگئے لیکن اپنی پرانی عادات و اطوار کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ جو عادات دیوانگی  کے آیام میں آپ میں موجود تھیں انہیں اغیار کی محفلوں میں دھراتے اور دیوانوں جیسے باتیں کرتےجس سے ناواقف لوگ آپ کو پاگل تصّور کرتے ۔ درحقیقت مثل خان  کلی پاگل نہیں تھے بلکہ ایک ہوش مند اور زیرک انسان  تھے  اور باتیں بھی ایسے کرتے کہ لوگ کافی دیر  بعد ان کی باتیں سمجھ جاتے۔بس فرق یہ تھا کہ وہ اس دنیا اور اس میں ہونے والے تماشوں سے خود کو الگ کیئے  رکھا تھا۔  شاید دنیا کی بے وفائی کا ادراک اسے ہو چکا تھا  اور  وہ دنیا کے فریب کاریوں کے مزید متحمل نہیں ہونا چاہتا تھا۔   لہذا بازیچۂ اطفال میں ہونے والے شب و روز تماشوں کا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا ۔ جسطرح استاد غالبؔ نے کہا تھا کہ

                                                                   بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے

              ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے  

 آپ کی دیوانگی جہاں علاقائی  ثقافت  کو پروان چڑھانے میں مدد فراہم کی  وہاں علاقائی زبان کی ذرخیزی میں بھی کام آئی۔  آپ کی ظریفانہ باتیں آج بھی محاورہ کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں اور آپ کے  مزاحیہ چٹکلے ہر  زبان زد عام پر ہیں۔ آپ بھی ان کے چند چُٹکلوں  سے محضوظ  ہو جائیے گا۔  

مثلاً ایک دفعہ مثل خان خوبانیوں کے موسم میں مستوج  کے کسی معزز آدمی کے گھر  بطور مہمان ٹہرے۔اس دوران اسے خوبانی پیش کئے گئے ۔ مثل خان انہیں  اپنے انداز سے کھالئے  اور کسی دوسرے کے گھر چلے گئے۔گھر والوں نے سمجھا کہ مثل خان واپس نہیں آئینگے  اس کے لئےکچھ کھانا نہیں رکھا۔ عشایئے کے بعد مثل خان دوبارہ نمودار ہوئےاور دل ہی دل میں کچھ کھانے کی خواہش کی  لیکن اسے کھانا دینے کے بجائے پھر خوبانی پیش کی گئی اور وہ انہیں کھا کر سونے کا ارادہ کیا ۔ گھر کے مالک نے اسے سونے کا کمرہ دیکھاتے ہوئے کہا کہ مثل خان آپ صبح کتنے بجے  تک جائیں گے؟۔ اس پر مثل خان نے اپنی روایتی انداز میں کہا کہ آپ کو پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں مجھے خوبانی کے باغ کی نشان دہی کرکے سو جانا تاکہ  صبح میں خود  باغ جاؤں اور خوبانی  سے ناشتہ کرکے رختِ سفر باندھوں۔

اسطرح مثل خان  ایک اور موقع پر کسی خاتون کی  فوتگی  کے پانچ  مہینے بعد تعزیت کے لئے اس کے گھر گئے۔مرحومہ کے لئے فاتحہ خوانی کی اور اس کے اوصاف بیان کرنے کے بعد وہاں سے رخصت ہونے لگے  تو گھر کے افراد  انہیں الواداع  کہنے  باہر آئے تو مثل خان نے  ظریفانہ انداز سے کہا کہ  نانی کہاں گئی ہیں ؟ میری طرف سے ان کو سلام کہنا حالانکہ مثل خان اسی خاتون کی تعزیت کے لئے گئے  ہوئے تھے۔

ایک دفعہ کسی نے مثل خان کو پانچ روپے کا نوٹ ہاتھ میں تھما کر  کہا  کہ میرے لئے خیرو برکت کی دعا مانگ لینا۔  مثل خان نے ہاتھ اٹھایا اور یہ دعا پڑھی  انّ للہِ واناَ الیہِ راجعون۔ اتنے میں وہ آدمی مثل خان کو ڈانتے ہوئے کہا کہ  تو نے تعزیت کی دعا پڑھی ۔ مثل خان نے  کہا کہ اس مہنگا ئی کے زمانے میں اگر تو پانچ روپے کا نوٹ مجھے  تھماتے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ میرے لئے کب کے مرچکے ہیں۔مختصر یہ کہ مثل خان اپنی  ان ظریفانہ باتوں کی وجہ سے لوگوں میں مشہور ہیں اور لوگ انہیں کہیں نا کہیں اپنی گفتگو کا موضوع بناتے رہتے ہیں اور محضوظ ہوتے ہیں۔

مثل خان کے بہت سے دوست اور احباب تھے جن کے ساتھ آپ اپنا  زیادہ وقت گزارتےاور سرورو نشاط کی محفلیں سجاتے۔سردار علی خان المعروف قلی بیگ یا کھوتیکانو سردار آپ کے جانے پہچانے دوست تھے گویا یہ دونوں دوست ایک دوسرے کے لئے یک جان دو قالپ تھے ۔ یہ بھی مثل خان کی  طرح  درویش صفت  اور ظریفانہ باتوں کے مالک تھے اور یہ دونوں زیادہ تر وقت قلعہ دراسن  میں شہزادہ عمادالملک کے پاس گزارتے تھے ۔

مثل خان کی شادی تریچ  ( شاگروم )کےماژے  گھرانے میں میرزہ گل خان کی بیٹی بی بی جمال سےہوئی  تھی جس کے بطن سے دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی ۔ بیٹی  کی موت دیوانگی کے زمانے میں خود  اس کے اپنے ہاتھ سے  واقع ہوئی تھی۔ جبکہ دو بیٹے جلال الدین اور شرف الدین تھے ۔ جلال الدین چترال پولیس میں ملازمت کررہے تھے اور بانگ یارخون میں اس کی شادی بھی ہوئی تھی لیکن قسمت نے باپ کی طرح اس کے ساتھ  بھی وفا  نہیں کی ۔اچانک وہ بھی باپ کی طرح پاگل ہوگئے اور پاگل خانہ بھیج دیا گیا  جہاں وہ   دوبارہ ٹھیک نہیں ہوسکے ۔ گھر لائے گئے اور اس پاگل پن کی کیفیت میں  اس کی موت واقع ہوگئی۔جبکہ شراف الدین  چترال سکاؤٹ   سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا گھر چلا رہے ہیں  گویا مثل خان کا خاندان اللہ کے فضل و کرم سے اب  آباد ہے ۔

اس کے علاوہ مثل خان کے خاندان کے قریبی اہلِ کاروں میں  امان دولہ کی فیملی ہے جو بہت ہی مہذب ،امن پسند ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی معاملات میں بھی اپنی خدمات انجام دینے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور لوگ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔مثل خان  کا ایک چچا شیر محمد خان بونی شاکراندہ میں جاکر آباد  ہیں جہاں وہ  ایک معزز  فیملی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں ۔ اس خاندان کےاہم  شخصیت میں ایران خان  ہیں جو چترال پولیس میں ایک محنتی اور اعلیٰ اخلاق کے مالک  افسر ہونے  کی حیثیت سے اپنی شناخت رکھتے ہیں۔

مثل خان کے بارے میں دنیا والے کچھ بھی کہے  لیکن اکثریت کی رائے یہ ہے کہ وہ  ایک دانشمند، زیرک اور عقلمند انسان تھے ۔ اس نے اپنا ناطہ  دنیا سے نہیں جوڑا بلکہ ملنگی اور پاگل پن ہی  میں زندگی  گزارنے کو فوقیت دی۔کسی کا مال نہیں کھایا، چوری نہیں کی کسی کی عزت پر حملہ  نہیں کیا البتہ اپنے من کو خوش رکھنے کے لئے نشے کا سہارا  ضرور لیا اور یہی نشہ اس کی اور اس کے بیٹے کی صحت کی خرابی کا سبب بنا۔

 ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ اپنی موت سےایک مہینہ  پہلے چار ہزار روپے اپنے چچا زاد بھائی امان دولہ کے پاس امانتاً رکھے تھے شاید یہ سوچ کر کہ اس کی موت پر یہ پیسے ان کی تجہیزو تکفین کے لئے خرچ کئے جاسکے اور اس کے بچوّں کو  کوئی تکلیف پیش  نہ آئے۔ اسطرح وہ اپنی موت سے  کچھ دن پہلے بھی اپنے خاص دوست اور رشتہ دار ماسٹر  زار احمد لوٹ دور  وریجون کے ہاں گئے اور ان کے پاس پانچ ہزار روپے امانت کے طور پر  رکھتے ہوئے  اپنی موت کے بعد خرچ کرنے کے لئے ان کو وصیت کی۔مثل خان کی موت کے دوسرے دن یہ دونوں  مرحوم شخصیات  (اللہ ان کو جنت نصیب فرمائیں ) میری موجودگی میں  یہ امانتیں بڑی مجمع کے سامنے ان کے بیٹے شرف الدین کے حوالے کئے اور مثل خان کی اُس وصیت کو دہرایا جو اپنی حیات میں ان کو یہ پیسے دے کر کئے تھے۔

دانا لوگوں کاکہنا ہے کہ جو آدمی دنیا سے محبت نہیں کرتا وہ درویش ہوتا ہے اس کی موت بھی درویشی کی حالت میں ہی ہوتی ہے۔اور درویش لوگ شاید اپنی موت کو قریب سے دیکھتے ہیں اس لئے وہ  کبھی کھبار اپنے دوستوں سے آخری بار ملاقات کے لئے بھی جاتے ہیں۔مثل  خان کی موت بھی کچھ اسطرح سے واقع ہوئی۔ وہ اپنی موت سے  ایک ہفتہ پہلے مداک میں اپنے ننھیال گئے جہاں وہ پانچ دن گزار کر آگئے۔

اسطرح  اپنی موت سے ایک دن پہلے  اپنے گھر کے صحن  میں گاؤں کے کچھ لڑکوں کے ساتھ خوب گپ شب کئے  اور ان کو لیکر توت بھی کھائے۔پھر اپنےقبیلے کے تمام رشتہ داروں اور احباب سے ملنے ان کے گھر گئے اور  صوبیدار شیر زمان کے ہاں سیتھار بجاکر ان کو کہا کہ ان کو محفوظ کرکےاپنے پاس  رکھنا تاکہ میرے مرنے کے بعدآپ  کو یاد  آئے  گا۔شام کو گھر آئے اور رات بھر عبادت و بندگی اور شب خیزی میں گزارے۔ رات کو عجیب قسم کی آوازیں نکالنے لگے  جس سے گھر والے بھی پریشان ہوگئے۔صبح ہوتے ہی اپنے بیٹے  شرف الدین کو جو چھٹی پر گھر آئے تھے دعائیں دے کر رخصت کیا ۔ایک بجے لنچ کرنے کے بعد  علیل ہوگئے  اور چار بجے اجل کو لبیک کہا۔ کیا خوب فرمایا ہے شیخ سعدی ؒنے:

پس بگردیدو بگردد روزگار

دِل بدنیا در  نہ بندد ہوشیار

ترجمہ: زمانہ بہت زیادہ  گردش کرچکا  ہے اور بھی گردش کرے گا اس لئے دانا انسان کو  اس دنیا سے کبھی بھی اپنا دل نہیں لگانا چاہئے ۔

اس کا بیٹا دروش  چھاونی پہنچے ہی تھے  کہ والد کی موت کی خبر اسے دی گئی۔وہ بےچارہ راستے کی دوری اور طویل سفر کی مسافت کی وجہ سے شام تک  والد کی تدفین کے لئے گھر  نہ پہنچ سکے لیکن اس کے دیگر تمام رشتہ دار اور اہل و عیال اس موقع  پر سب حاضر ہوئے  اور بڑی عقیدت واحترام  اور آنسؤں کے ساتھ6 جون 2004  ءکی شام کو  اپنے  محبوب اور  ہردلعزیز  بھائی  مثل خان  کو  الوداع  کہتے ہوئے رخصت کئے۔قاَلوُ اِنا لِلہِ وَاِنا الیہ ِرَاجعوُن ۔ اللہ تعالیٰ  مرحوم کو جنت الفردوس  عطا فرمائے اور اس کے تمام چاہنے والوں کو اپنے حفظ و امن میں رکھے۔ امین


شیئر کریں: