Chitral Times

Mar 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ڈپٹی کمشنرزکورونا ویکسینیشن کے عمل کو یقینی بنائیں۔ وزیرصحت/چیف سیکرٹری

شیئر کریں:


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) صوبے بھر میں کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن کا عمل تیز تر کیا جائے۔ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کے بعد اب تمام صحت سٹاف کی ویکسینیشن کی جائے۔ ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ متعلقہ اضلاع میں ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔ یہ ہدایات خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا اور چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز اور میڈیکل سپرنٹینڈنٹس کے ورچوئل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیں۔ اس موقع پر سیکرٹری صحت سید امتیاز حسین شاہ، سیکریٹری داخلہ اکرام اللہ خان، خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور ایچ ایم سی کے ہاسپٹل ڈائریکٹرز، این سی او سی اور پاک فوج کے اعلیٰ افسران اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ اجلاس میں محکمہ صحت نے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن کے حوالے سے اب تک اٹھائے گئے اقدامات اور صوبے بھر کے ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں صوبے کے سب سے زیادہ کورونا مریضوں کے حامل 8 اضلاع کے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن کے ساتھ اب مزید 4 اضلاع میں ویکسینیشن شروع کی گئی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے بتایا گیا کہ صوبے کو ویکسین کی کھیپ ملنے کے بعد 33 اضلاع کو فراہم کر دی گئی ہے جہاں کل سے ویکسینیشن شروع کر دی جائے گی۔ اس موقع پر وزیر صحت و خزانہ کا کہنا تھا کہ ہیلتھ ورکرز کی ویکسینیشن کو تیز تر کیا جائے۔ اس حوالے سے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز اور ڈپٹی کمشنرز مل کر کام کریں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ڈی ایچ اوزکو اس حوالے سے مستعدی کا مظاہرہ کرنا ہو گا جبکہ محکمہ صحت کام نہ کرنے والے افسران کی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔

چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ضلع کی سطح پر ویکسینیشن کے لیے بہترین حکمت عملی ترتیب دیں اور ویکسینیشن سینٹرز کے تواتر کے ساتھ دورے کر کے انتظامات کا بھی جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا جس طرح اضلاع کی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے افسران نے کورونا وباء کے دوران اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور وباء کے تدارک میں اہم کردار ادا کیا اب اسی عزم و حوصلے کے ساتھ وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کے عمل کو بھی عمدگی سے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ ڈاکٹر کاظم نیاز نے ڈپٹی کمشنرز کو مزید ہدایت کی کہ وہ ویکسینیشن کی نگرانی کرتے ہوئے اس حوالے سے روزانہ اور ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ اجلاس منعقد کریں اور حائل رکاوٹیں دور کر کے اس عمل کو تیز تر بنائیں تاکہ سب کی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکیں۔

اب تک کورونا ویکسین کا کوئی سائیڈ ایفیکٹ رپورٹ نہیں ہوا۔ سید امتیاز حسین شاہ


دریں اثنا کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کا اب تک کوئی سائیڈ ایفیکٹ رپورٹ نہیں ہوا۔ یہ ایک محفوظ ویکسین ہے۔ ہیلتھ ورکرز کو یہ ویکسین لینا چاہیے تاکہ وہ کورونا وائرس سے محفوظ رہ سکیں اور عوام کی جانیں بچا سکیں۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے سیکرٹری صحت سید امتیاز حسین شاہ نے صوبے میں تمام ہیلتھ ورکرز کی کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن کے افتتاح کے موقع پر کیا۔ سیکرٹری صحت اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز نے پولیس اینڈ سروسز ہسپتال پشاور میں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج سے تمام ہیلتھ ورکرز کی کورونا ویکسینیشن شروع کر دی گئی ہے جبکہ مارچ کے ابتدائی ہفتے سے 60 سے زائد عمر کے شہریوں کی ویکسینیشن شروع کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ این سی او سی سے ویکسین کی نئی کھیپ ملنے کے بعد صوبے کے 33 اضلاع میں ویکسین پہنچائی جاچکی ہے جبکہ وہاں ویکسینیشن سینٹرز بھی قائم کر دیئے گئے ہیں۔ سیکریٹری صحت نے کہا کہ کورونا ویکسین محفوظ ہے۔ اس سے اب تک کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ تمام ہیلتھ ورکرز بلاخوف یہ ویکسین لگوائیں اور خود کو کورونا وائرس سے محفوظ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ 24 فروری سے ویکسین کی دوسری ڈوز لگانے کا سلسلہ بھی شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے تمام شہریوں کو کورونا ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوگا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ ڈاکٹر اکرام اللہ نے بھی کرونا ویکسین لگوائی۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر نیاز محمد کا کہنا تھا کہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن کے دوسرے مرحلے کے لیے 26 لاکھ ویکسین کا تخمینہ ہے۔ اس سلسلے میں این سی او سی سے ویکسین کی مستقل سپلائی ملتی رہے گی۔ ویکسینیشن کا دوسرا مرحلہ جون میں مکمل ہونے کے بعد یکم جولائی سے تمام شہریوں کو ویکسین دی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے تمام صحت مراکز میں ویکسینیشن سینٹرز قائم ہوں گے۔


شیئر کریں: