Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تم چلے آوُ پہاڑوں کی قسم…..تحریر: محمدآمین

شیئر کریں:

دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی جنم لیتے ہیں جو اپنی دلیری اور شجاعت سے کائینات کو تسخیر کرنے کی کوشش میں محو ہوتے ہیں اور ان کی یہ کاوشین انے والے نسلوں کے لیے نہایت فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔لیکن یہ بھی تاریخ کا ایک حصہ رہا ہے کہ ایسے دلیر لوگوں کو اس وقت کے کچھ لوگوں نے بے حص قرار دیے جو بعد میں غلط ثابت ہوئے۔ایک ایسی مثال ہمارے سامنے والبرائٹ برادرز کی ہیں کہ جب انہوں نے اُڑان کی کوشش کر رہے تھے تو اس وقت کے بہت سے لوگ ان پر ہنسے،کیونکہ بقول ان کے وہ خودکوشی کر رہے تھے لیکن ان کی اس کوشش نے انسانیت کو جو تحفہ عطا کی وہ لفظوں میں بیان نہیں کی جا سکتی ہے۔یہ وہی ہیرو ہیں جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔اور ان کا تعلق زندگی کے مختلف شعبون سے ہوتے ہیں۔

ali sadpara mountaineer


1976؁ء کو اسکردو کے نواحی علاقے سدپارہ میں پیدا ہونے والا محمد علی بھی انہی ہیروز میں شامل ہوتا ہے۔آپ نہایت ہی دلیر،محنتی، خوش باش اور ملنسار انسان تھا ۔محمد علی سدپارہ واحد پاکستانی ہے جنہوں نے اپنی محنت اور لگن کی بدولت دنیا کے چودہ میں سے اٹھ 8000میٹر بلندی کے چوٹی سر کیے اور پاکستانی ہلالی پرچم وہاں لہرا دیا۔مذید آپ دنیا کے پہلے کوہ پیمان تھے جنہوں نے پہلی دفعہ ننگا پربت کو سردیوں میں سر کیا۔ پاکستان کا یہ عظیم کوہ پیماں بغیر کیسی ٹریننگ کے یہ ہنر خود سیکھ چکا تھا اور اس کا اغاز اسکردو کے مارکیٹوں میں سکینڈ ہینڈ کے گیر خرید کر کیا۔اگر چہ اس کے والد کا خواب تھا کہ اس کا بیٹا تعلیم حاصل کرکے اچھی ملازمت حاصل کریں لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ اسے قدرت نے پہاڑوں کے لیے بنایا تھا اور اس کا ابدی مسکن بھی پہاڑ تھے۔پہاڑوں جیسا دل رکھنے والا محمد علی سدپارہ اپنے کوہ پیمانی کا سفر ایک پورٹر کی صورت میں کیا اور انتہائی نامناسب حالات میں بھی اپ ہمیشہ ڈٹے رہے۔آپ کی بہادری اس وقت پہلی دفعہ سامنے ایا جب سیاچن اپریشن میں انتہائی خراب موسمی حالت کے باوجود اپ سامان فوجی کیمپوں تک پہنچائے۔اس کے بعد اپ مغربی کوہ پیماوں کے ساتھ بحیثیت پورٹر کام کیے اور ان کے لیے راستے تعین کئے اور اونچے مقامات (High Altitude)تک کمک مہیا کرتے تھے۔لیکن وقت کے ساتھ محمد علی سدپارہ عظیم کوہ پیما بن گئے اور دنیا کے کئی بلند چوٹی سر کیا۔آپ نے جن بلند چوٹیوں کو سر کیا ان میں ننگا پرپت،اسپانٹیک کی چوٹی،مزتاغ اتا چین،گشیر بروم 2،بروڈ پیک،پیموری پیک نیپال،کے ٹو،لوسٹے نیپال،مکالو نیپال اور مناسلو نیپال قابل زکر ہیں ان سب کی بلندی 8000میٹر سے زیادہ ہیں۔


پہاڑون کا یہ شہزادہ پیچھے دیکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ نئی منزل طے کرنا اس کا خواب تھا جیسا کہ 2016ء میں اپنی ایک انٹرویو میں اپنے کہا تھا،،آپ کی دل لگی ہونے چاہیے پہاڑون کے ساتھ،،چونکہ اپنے ننگا پربت کو سردویوں کے موسم میں بغیر اکسیجن کے سر کیا تھا اور اپ کا دوسرا منزل کے ٹو تھا جس سے بھی آپ ونٹر میں بغیر اکسیجن کے سر کرنے کا ارادہ کر چکا تھا۔علی سدپارہ ان لوگوں میں سے تھا جو ایک وقت فیصلہ کرلیں پھیچے ہٹتے نہیں۔اور اس طرح یہ شیر دل کوہ پیما اپنے اس مشن پر روانہ ہوا،اور اس مشن میں اپکے ساتھ اپ کا بیس سالہ بیٹا ساجد سدپارہ،آئس لینڈ سے تعلق رکھنے والا کوہ پیما جان سنوری اور چلی کے کوہ پیما جون پپلو بھی تھے۔اٹھ ہزار بلندی پر پہنچنے کے بعد ساجد سدپارہ کے اکسجین میں خرابی کی بنا وہ واپس ایا یہ 5 فروری کا دن تھا اور پھر ان تینوں کا رابطہ بیس کیمپ سے منقطع ہوا اور پہاڑون کا یہ شہزادہ اپنے دو ساتھیو ں سمیت کے ٹو کے آغوش میں ہمیشہ کے لیے امر ہوئے۔
محمد علی سدپارہ ایک بین الاقوامی شہرت کے کوہ پیما تھا۔2018؁ء میں مشہور فرانسسی کوہ پیما مارک بیٹارڈ (Marc Batard)نے علی سدپارہ اور نیپال کے پسانگ نیرو کو اپنے پنج سالہ پروگرام (Beyond Mount Everest)کا حصہ بنایا تھا۔بیٹارڈ کا مقصد یہ تھا کہ علی سد پارا کی اس پروگرام میں شمولیت سے دنیا میں پاکستان کا ایک مثبت امیج ابرے گا۔اس سال جنوری میں حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ بقیماندہ 8000 میٹر والی چوٹیون کو سر کرنے کے حوالے سے علی سدپاری اسپانسر کیا جائے گا،لیکن قدرت کو منظور کچھ اور تھا۔


جب علی سد پارہ کی لاپتہ ہونے کی خبر میڈیا پر آئی تو ہر پاکستانی کے دل افسردہ ہوئے اور انکھوں میں انسو تھے اور ہر کوئی اپنے اس ہیرو کی جلد واپسی کی دعائیں کر رہے تھے۔پاکستان کی تمام میڈیا بشمول سوشل میڈیا پر اپ ہی تھے یہاں تک کہ برطانوی گارڈین،رائٹرز،امریکی نیو یارک ٹائمز،الجزیرہ،فرانس 24 اور دنیا کے بڑے بڑے اخبارات میں اپکی کامیابیوں کے چرچے بولنے لگے اور ایک عظیم پاکستانی قومی ہیرو کے حثیت سے اپکی تعارف ہونے لگے۔ملکی تاریخ میں سب سے بڑی ریسکیو اپریشن شروع ہوئی اور ہمارے آرمی کے جوانوں نے بہادری کے وہ کرتب دیکھائے جسے دیکھ کر دنیا والے دنگھ رہ گئے لیکن اتنی خطرناک ایریئل (aerial)ریسکیو اپریش کے باوجود بھی محمد علی سد پارہ اور اس کے دو ساتھیوں کا پتہ چل نہ سکا۔


اس عظیم قومی ہیرو کے کھونے پر پورے قوم اشکبار تھے اور حکومت نے اس سے بڑاا قومی سانحہ قرار دیا۔پاکستان ہلال آحمر سوسائٹی کے چیرمین ابرارلحق نے مرحوم کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اس کے گاوں میں ایک اعلی میعار کے سکول کھولنے کا اعلاں کردیا۔مشہور گلوکار علی ظفر نے تم اچلے آوُپہاڑون کی قسم کا نیا دھن گا کر علی سدپارہ کے نام کردیا،گلگت بلستان حکومت نے علی سدپاہ اور ساجد سدپارہ کو قومی اعزازات سے نوازنے کااعلان کیا،علی سدپارہ کے نام پر ایک کوہ پیمائی کی سکول قائم کیا جائے گا مذید وفاقی حکومت سے درخواست کی جائے گی کہ سکردو ائیر پورٹ کا نام علی سدپارہ کے نام پر رکھا جائے اور حکومت مرحوم کی خاندان کو ملی امداد فراہم کرے گا۔ گوادار کے نو تعمیر شدہ کرکٹ اسٹیڈیم میں پہلی میچ علی سدارہ کے نام کردئے گئے۔


پریس کانفرنس کے دوران علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سد پارہ نے تمام پاکستانی قوم اور پاک آرمی کا شکریہ ادا کیا اور اعادہ کیا کہ وہ اپنے والد کی مشن کو اگے لے جائے گا۔مشہور پاکستانی کوہ پیما نذیر صابر نے ان الفاظ میں علی سدپارہ کو خراج تحسین پیش کیا کہ علی سدپارہ ایک ہیرا تھا جو ہم سے بچھڑ گیا۔علی سدپارہ کی موت پاکستان اور کوہ پیما کمیونٹی کے لیے ایک بڑی نقصان ہے۔آپ دوسرے پاکستانی کوہ پیماوُں کی طرح بغیر سازوسامان اور ٹریننگ کے پہاڑ سر کیے۔پہاڑون پر اپنی سکلز کے علاوہ ملکی اور غیرملکی کوہ پیمائی میں دلچسپی رکھنے والوں کو ٹرین کیا۔اور ملک کا پرچم دوسرے ملکوں کے پہاڑی چوٹیوں پر لہرایا۔ اور سیاحت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔یہ وہ لوگ ہیں جو عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں او یہ قوم کے اصل ہیرو ہیں۔


شیئر کریں: