Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پس وپیش ۔۔۔ ماں بولیوں کی وادی ۔۔۔ اے۔ایم۔خان

شیئر کریں:

 وہ آواز جسے ایک بچہ ماں کے پیٹ میں سب سےپہلے اور زیادہ سُن لیتی ہے، پیدائش کے بعد ماں کی گود میں، اور پھر گھریلو اور سماجی بول چال سے سُن کر پھر  وہی زبان بولنے کی کوشش کرکرکے آخرکار اپنی  ناپختہ سمجھ بوجھ، احساسات، اورجواب ٹوٹے پُھوٹے  بلکہ خوبصورت الفاظ میں بنانا سیکھ لیتی ہے تو یہ اُس کی ماں بولی ہو جاتی ہے۔ درحقیقت زبان صرف الفاظ سیکھنے کا نام اور کام نہیں ہوتا بلکہ ایک ورثہ جسے ہم الفا ظ کی قید میں ایک  تہذیب کی صورت میں،  حقیقت کا علم وفکر اور جستجو، اور معلوم اور نامعلوم کا احاط کرنے کی سعی ایک بچے میں منتقل کرتے ہیں جسمیں والدین، خاندان اور معاشرے کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ زبان ، بیان، اظہار، انداز اور رسپانس سے کسی شخص کے بارے میں اگاہی اور  اسکی شناخت ہو جاتی ہے۔ ہندوستان میں زبان کی سیاست رسم الخط سے شروع ہوئی اور نوآبادیاتی نظام کے ساتھ انگریزی زبان کی آمد، سرکاری زبان،  حکومت کا لہجہ، طاقت اور علم کی زبان ہوگئی — جو اب بھی ہے اور یہ خیال موجود ہے۔ 

انڈیا کی تقسیم کے بعد ریاست پاکستان میں ابتدائی مسائل میں زبان کا مسلہ  جو ہم  پاکستان کی تاریخ  میں پڑھ لیتے ہیں اور بنگلہ زبان سے ہوکر ہم سقوط ڈھاکہ کے بعد یہ بحث سمیٹھ لیتے ہیں۔ ماں بولی کا یہ عالمی دن بنگلہ دیش کی کوشش سے یونیسکو جنرل کانفرنس سے سن 2000 میں  منظوری کے بعد پوری دُنیا میں ماں بولی کا عالمی دن  منایا جاتا ہے۔اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق دُنیا میں 6 ہزار زبانین بولی جاتی ہیں جن میں سے 43 فیصد خطرے سے دوچار ہیں۔ دنُیا کے کئی  ممالک میں لوگوں کو اپنی زبان میں تعلیم  حاصل کرنے کا حق  دیا گیا ہے اور چند زبانیں کمپیوٹر اور میڈیا کی زبان بن چُکے ہیں۔پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 74 زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ زبانون کی یہ گونا گونی صوبہ خیبر پختونخوا میں زیادہ ہے اور چترال کو ماں بولیوں کی وادی کہا جائے تو اس پرصادق آتی ہے۔ دنیا کے دوسرے ممالک جہاں زبانوں اور بولیوں میں گونا گونی موجود ہے وہاں طاقت کی زبان، قومی زبان، مقامی بڑے زبانون کی وجہ سے مقامی بولی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جس طرح چترال میں کہوار ایک ڈامننٹ اور اکثریت میں فہم اور رابطے کا زبان  ہونےکی وجہ سےمقامی ماں بولی(خصوصاََ کلاشہ اور یدغہ) جو بارہ کے قریب ہیں وہی دشواری کا شکار ہیں ۔ آج (21 فروری بروز اتوار) شاید چترال  اور چترال سے باہر کہوار زبان کا دن تو منایا جاتا ہے لیکں چترال میں وہ لوگ جن کی ماں بولی کہوار نہیں ہے کیا وہ  بھی اپنے اپنے ماں بولی کا دن مناتے ہیں تو اسکا جواب نفی میں ہوسکتا ہے۔  

چترال میں کہوار زبان کی ترقی کے حوال کافی کام ہو چُکا ہے اور اب مزید زیادہ ہو رہا ہے جس میں کئی ادارے اور لوگوں کے کام قابل ستائش ہیں۔ کہوار زبان کیلئے کہوار کیبورڈ ، موجودہ دور کی مناسبت سے، کہوار میں لکھنے کو فروغ  دینے کیلئے فورم فار لینگویج انیشیٹیو [ایف۔ایل۔آئی ]کا  کہوار کیلئے سب سے بڑا تحفہ ہے۔ اس سال ماں بولی کے عالمی دن، جو ہم آج منا رہے ہیں،کا تھیم اُس بات کی تجدید کرتا ہے جس پر محققین، ماہر تعلیم اور ماہر لسانیات کا اتفاق ہے کہ زبانون کی گونا گونی کو تعلیم اور سوسائٹی میں  قبول اور شامل کو یقینی بنایا جائے۔ زبان کو تعلیم اور سوسائٹی میں قبولیت اور شمولیت کا مطلب پڑھنے اور پڑھانے کیلئے ابتدائی تعلیم  ہر بچے کے اپنے ماں بولی میں ہونے کیلئے حکومتی اور علاقائی سطح پر اس پر سنجید ہ عمل دراآمد ہوجانا چاہیے تاکہ  ہر بچہ زبان سیکھنے کے بجائے ابتدائی تعلیم میں تصورات سیکھے اور زبان سیکھنے کا مدارج ابتدائی تعلیم کے بعد شروع ہو جائے۔  

(آج دُنیا میں ماں بولی کا دن منایا جاتا ہے لیکں میں بھی اپنی ماں بولی  یعنی کہوار میں لکھنے کے بجائے قومی زبان ، اُردو، میں لکھ ہے جس پر ماں بولی کے سامنے پشیمان ہوں) 


شیئر کریں: