Chitral Times

Sep 23, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

26نکاتی قومی مطالبات اور آزادکشمیر الیکشن 2021 ….پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

مارٹن لتھر کنگ کا قول ہے: جس دن ہم اپنی زندگی کے اہم مسائل پر بات کرنے کے بجائے چپ رہتے ہیں اس دن ہماری زندگی ختم ہو جاتی ہے۔اگر ہم اپنے آپ کو اس قول کے مطابق پرکھیں تو ہم میں اکثر زندہ لاشیں نکلیں گی۔ہم لاشوں کی طرح سیاسی موجوں کی سمت بہتے چلے جاتے ہیں۔ آج تک ہم نے قومی مفادات کو پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات کے نام پر ووٹ دیے ہیں۔ کیوں نا اس مرتبہ قومی مفادات کے نام پر ووٹ دیے جائیں۔ آزادکشمیر کی تمام سیاسی پارٹیوں میں سے ایک بھی ایسی پارٹی نہیں ہے جو آزادی کشمیر کے نام پر الیکشن لڑے یاکم از کم آزادی کشمیر کوایک سیاسی نعرے کے طور پر ہی استعمال کرے۔جب باڑ ہی کھیت کھانے لگ جائے تو پھر کیا کیا جا سکتا ہے۔آزادکشمیر میں درآمدی پارٹیوں کی بھر مار ہے۔ واحد ریاستی پارٹی کہلوانے والی مسلم کانفرنس نے بھی الحاق کا نعرہ اقتدار  کے لیے لگایا۔ ہم تو الیکشن میں کشمیر کا سیاسی چورن بھی نہیں بیچتے اور شکوہ کرتے کشمیر کے لیے کسی نے کچھ نہیں کیا۔ اگر ہم اپنے گریبان میں جھانکیں تو مسئلہ کشمیر کے التواء کے سب سے بڑے مجرم ہم ہی نکلیں گے۔

کشمیر کی بدنصیبی دیکھیں ہمیں تو چیئر مین کشمیر کمیٹی بھی کشمیر سے نہیں ملتا۔ہمیں مسئلہ کشمیر سے پہلے مسئلہ ضمیر کی طرف دہیان دینے کی اشد ضرورت ہے۔جب تک ہم ضمیرکے بجائے وزیر کی بات سنیں گے تب تک کشمیرکے بجائے سفیرکی باتیں سنیں گے۔ آزادکشمیر میں اگرچہ سیاسی نقشہ کافی حد تک بدلتا دکھائی دیتا ہے مگر ابھی بھی سرمایہ داراور جاگیردار طبقہ اقتدار پر حاوی ہے۔ آزادکشمیر میں چند مخصوص خاندان باری باری حکومت کر تے آئے ہیں اور مستقبل قریب میں بھی کسی بڑ ی تبدیلی کی امید نہیں ہے۔آمدہ الیکشن میں کشمیر کی غیور مگر مجبور عوام آزادی کشمیر کے مطالبے پر ووٹ دینے کا تہیہ کر لے۔ ہمارے سیاستدان اسلام آباد کی منشا کے بغیر اپنی کرسی تک فتح نہیں کر سکتے وہ کشمیر کہاں آزاد کروائیں گے۔البتہ اس کا ایک فائدہ ہو گا یہ ہمارے قومی شعور کو بیدار کرنے کے لیے معاون ثابت ہو گا۔دوسرا قومی مطالبہ آزادکشمیر میں کشمیری اور دیگر مقامی زبانوں کو علاقائی سطح پر لازمی مضمون کا درجہ دنیا ہونا چاہیے۔ہم نے سیاست کے چکر میں ثقافت کو روند ڈالا ہے اگر یوں کہا جائے کے ہم نے ثقافت پر پاوں رکھ کر سیاست کی کرسی پر قدم رکھا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ہماری تیسرا قومی مطالبہ کشمیری قومی نصاب کی تدوین و ترویج ہونا چاہیے۔

کشمیریوں کو تاریخ کشمیر، تاریخ جدوجہد آزادی کشمیر، کشمیر کی جغرافیائی اور دفاعی اہمیت سے نابلد رکھا ہو ا ہے۔ تاریخ کشمیر اور تاریخ جدوجہد آزادی کشمیر کو میٹرک تک لازمی مضمون اور میٹرک کے بعد اختیاری مضمون کے طور پر شامل کیا جائے۔ چونکہ کشمیر کی اکثریتی آبادی شعبہ زراعت سے وابستہ ہے اس لیے عوامی فلاح و بہبود کے لیے کشمیر کے تمام اضلاع میں زرعی یونیورسٹی کے کیمپس کھولنے کے ساتھ ساتھ زراعت کی تعلیم اور اس کی تربیت پر خصوصی توجہ کا مطالبہ سامنے لایا جائے۔ کشمیری ثقافت کے تحفظ اور ترویج کے لیے سرکاری سطح پر تہواروں کا انعقاد کیا جائے۔ کنڑول لائن پر مقیم افراد کے لیے متبادل جگہ یا شیل پروف بنکرز کا مطالبہ کیا جائے۔ کنڑول لائن پر مقیم آبادی کو سیلف ڈیفنس کی تربیت کی فراہمی کا مطالبہ کیاجائے۔آزادی کشمیر کے لیے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کو الگ سے نمائندگی دی جائے تا کہ وہ خود اپنی آواز عالمی سطح پر بلند کر سکیں۔ مختلف ممالک میں کشمیری سفیر مقرر کیے جائیں تا کہ ہم کشمیر کے لیے اپنے پاوں پر کھڑے ہو کر جدوجہد کو آگے بڑھا سکیں۔

کشمیر میں آر ٹی آئی قانون کو نافذ العمل کرنے کا مطالبہ کیا جائے تاکہ کشمیر عوام جان سکے پس پردہ ان کے نام پرلیے جانے والے فنڈز، عطیات، پراجیکٹس اور الاونسز کہاں جا تے ہیں۔یہ قانون کشمیر میں کرپشن کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا کیونکہ اس کے زریعے ہر فرد اپنے علاقے کے لیے جاری ہونے والے ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں کی تفصیل لے سکتا ہے۔سیاسی، برادری، سرمایہ اور سفارشی بنیادوں پر دی جانے والی ملازمتوں کے بجائے ایک شفاف نظام کا مطالبہ کیا جائے تا کہ پڑھے لکھے نوجوانوں میں سیاسی مجاوری کے بجائے اپنی اہلیت اور قابلیت پر اعتماد پیدا ہو۔ آبادی کے تناسب سے آزادکشمیر کے لیے میڈیکل، انجینئرنگ اور سکالر شپ کی تعداد میں اضافے کا مطالبہ کیا جائے۔ ریاستی تشخص اور موجودہ آئینی حیثیت کو قائم رکھنے کی یقین دہانی لی جائے۔ عدالتی اور انتظامی نظام میں تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جائے تاکہ عام آدمی کے مسائل کم ہوں۔لوکل گورنمنٹ کے نظام میں تبدیلیاں کرنے کا مطالبہ کیا جائے تا کہ لوکل ترقیاتی سکیمیں زمین پر نظر آئیں کیونکہ کہ موجودہ لوکل گورنمنٹ کا نظام کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔ ا

میدواران اسمبلی سے یہ مطالبہ کیا جائے کے وہ آئینی اور قانونی تبدیلیوں کے زریعے اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ کریں۔ ایم ایل ایز کا بینیادی کام موجوزہ آئینی ترامیم اور قانونی تبدیلیاں لانا ہو تا تا کہ عوام کے مسائل کو حل کرنے میں آسانی پیدا کی جا سکے مگر ہمارے ہاں سب کچھ الٹ ہو تا ہے۔ اسمبلی میں اگر ایم ایل ایز کی حاضر ی کا قانون بن سکتا ہے تو پھر ان کی عوام میں حاضری کا قانون کیوں نہیں بن سکتا؟ ہمارا ایم ایل اے ووٹ لینے5سال بعد نظر آتا ہے۔ ایسی قانونی اور آئینی تبدیلی کے مطالبے پر ووٹ دیں جس کے زریعے اگر ایم ایل اے عوامی کام نہیں کر تا یاعوامی مسائل نہیں سنتا تو اس کے خلاف قانونی، آئینی اور پارٹی سطح پر کاروائی کی جائے۔ اگر ہم ایم ایل ایز کو 5سال کے لیے استثنی دے کر من مرضی کرنے دیں گے پھر عوام کے خادم عوام کے حاکم ہی بنے پھریں گے۔ ایسا قانون بنانے کے مطالبے پر ووٹ دیے جائیں کے ایم ایل ایز اپنے علاقے کی لیے ترقیاتی کاموں کی فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں اور اگر وہ تین2یا 3سال تک تناسب کے حساب سے کام نہیں کرپاتے تو ان کے تنائج منسوخ کر کے دوسرے نمبر والے امیدوار کو موقع دیا جائے۔ مگر قانون تو غریبوں کے لیے بنائے جاتے امیروں اور ایم ایل ایزوغیرہ کے لیے تو یہ موم کی ناک ہیں پہلے تو بننے نہیں دیتے اگر غلطی سی بن جائیں تو ان کو اپنے گھر کی لونڈی کی طرح استعمال کر تے۔

پولیس کے نظام میں بہتری لانے کے لیے ووٹ دیں کیونکہ ڈوگرہ اور انگریز راج کے بعد اگر عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے ہیں تو یہ بے لگام محکمہ پولیس کا ہے۔ تما اضلاع میں برابر کارخانے لگانے کے مطالبے پر ووٹ دیں تا کہ سب کو ربرابر مواقع دستیاب ہوں۔ ضلع نیلم میں ایک بھی کارخانہ نہیں ہے جبکہ نیلم آزادکشمیر کو سب سے بڑا ضلع ہے۔ جب ہمارے علاقے میں کارخانے لگیں گے تو ہمارے لوگوں کو کراچی، لاہور، پنڈی، اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں جا کر کام نہیں کر نا پڑے گا۔ بلدیاتی الیکشنز کے بروقت انعقاد کے مطالبے پر ووٹ دیں تا کہ اختیارات عوامی سطح پر منتقل ہوں۔ آمدہ الیکشن میں 50%نمائندگی خواتین اور نوجوانوں کو دینے کے مطالبے پر ووٹ دیں تا کہ ان روائیتی، دقیانوسی اور تحکمانہ سوچ رکھنے والے طبقے سے جان چھڑائی جا سکے۔ ایسے قوانین اور آئینی ترامیم کے مطالبے پر ووٹ دیں جس کے زریعے موروثی سیاست کو دفن کیا جا سکے اور کشمیر نسل در نسل چند خاندانوں کی مجاوری سے نکلیں۔ وزیر اعظم اور صدر کے عہدے کے لیے آئینی تبدیلیاں کی جائیں تا کہ ہر ضلع کو ایہ اعزاز، مراعات، فنڈز اور اختیارات کو فائدہ ہو۔ کشمیر کے چند مخصوص اضلاع سے وزیر اعظم، صدر اور سپیکر کا منتخب ہو نا جمہوریت کے ساتھ سب سے بڑا مذاق ہے۔تعلیم، صحت اور جنگلات، معدنیات اور سیاحت کے تحفظ اور ان میں بہتری لانے کے لیے آئینی اور قانونی ترامیم کا مطالبہ کیا جائے۔بچوں، خواتین، نوجوانوں اور بزرگوں کے تحفظ، ترقی اور بہتری کے لیے آئینی ترامیم کے مطالبے پر ووٹ دیں۔ اگر ہم ان مطالبات پر ووٹ دیں گے تو کشمیر بدلے گا اور اگر ہم نے ایک بار پھر ٹوٹی، نلکہ، ٹینکی، سکیم، ٹھیکوں کے، برادری اور سرمایہ دارانہ اور سفارشی کلچر کے لیے ووٹ دیے تو پھر ہم آزادکشمیر میں غلام کشمیر کی بنیادوں کو مزید تقویت دیں گے۔  


شیئر کریں: