Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کشمیر کی عہد ساز شخصیت مولانا غلام مصطفی شاہ مسعودی…ابوانس عتیق الرحمن شاہ

شیئر کریں:

کشمیر کی عہد ساز شخصیت مولانا غلام مصطفی شاہ مسعودی، ایم ایل اے 1938-1943…ابوانس عتیق الرحمن شاہ

مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کی اپنی ادھوری رہ جانیوالی خودنوشت کے مطابق وہ 20 فروری 1907ء کو ضلع مظفرآباد کی تحصیل کرناہ میں علاقہ دراوہ کے گائوں لوات میں پیدا ہوئے ۔ جب کہ تعلیمی ریکارڈ میں ان کی تاریخ پیدائش یکم مارچ 1906 درج ہے ۔  لوات ضلع نیلم میں سیز فائر لائن پر واقعہ آزاد جموں و کشمیر کا حصہ ہے ۔   1918ء میں جب ان کی عمر گیارہ سال ایک ماہ تھی ان کی والدہ کا انتقال ہوا ۔ جب کہ اگلے تین ماہ بعد برفباری سے ان کے گھر منہدم ہو گئے جسمیں مویشیوں اور  تمام ساز وسامان کے علاؤہ ان کے والد دو سگے بھائی اور ایک چچا ذاد بھائی بھی راہی ملک عدم ہوئے ۔ 1919ء میں مولانا غلام مصطفیٰ شاہ نے کسمپرسی کے عالم میں لوات کو چھوڑا اور حصول علم کے لیئے انجانی منزلوں کی طرف سفر کا آغاز کیا۔ دراوہ۔ مظفرآباد اور ضلع ہزارہ سے مروجہ ابتدائی کتب پڑھیں اور پھرتے پھراتے لاہور پہنچے۔  ان کی تعلیمی اسناد کے مطابق پنجاب یونیورسٹی سے انہوں نے 1924 میں مولوی اور۔ 1925 میں مولوی عالم ۔  کا امتحان پاس کیا ۔1927ء میں دینی علوم کی تحصیل کے لیئے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا جہاں اس وقت مسند ارشاد پر عظیم محدث امام علامہ سید انور شاہ کشمیری فائز تھے مولانا غلام مصطفیٰ شاہ ان کے قریبی عزیز بھی تھے۔ اگلے ہی برس دارالعلوم دیوبند دو حصوں میں منقسم ہو گیا ۔ علامہ سید انور شاہ کشمیری اپنے تلامذہ علامہ شبیر احمد عثمانی ۔ مولانا یوسف بنوری اور مولانا غلام مصطفیٰ شاہ سمیت دیوبند سے ڈابھیل چلے گئے جہاں انہوں نے مجلس علمی کی بنیاد ڈالی۔ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ نے 1932ء میں جامعہ ڈابھیل سے دینی علوم میں فراغت کی سند حاصل کی ۔اس دوران انہوں نے 1929ء میں اورینٹل کالج لاہور سے منشی فاضل اور 1930ء میں مولوی فاضل کے امتحان بھی پاس کیئے۔ سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے  06 جون 1931 ء کو  او ٹی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔  عربی اور فارسی مدرس کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز 1933ء میں امرتسر سے کیا جہاں وہ چشتیہ ہائی سکول میں عربی ٹیچر مقرر ہوئے ۔ دو سال بعد 1935ء میں وہ گجرات جلال پور جٹاں  ہائی سکول میں عربی معلم تعینات ہوئے اور 1936ء میں پائلٹ ہائی سکول مظفرآباد چلے گئے ۔ جہاں سے انہوں نے 1938 میں سرکاری ملازمت کو خیرآباد کہہ کر کوچہ سیاست میں قدم رکھا ۔

1931ء میں سرینگر سے تحریک آزادی کی ابتداء ہوئی ۔ اسی سال سرینگر میں مہاراجہ کی فوج نے مسلمانوں پر فائرنگ کی جس میں بائیس افراد صرف اذان کے دیتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔  واقعات یوں تھے کہ مسلمانوں کے خلاف ڈوگر شاہی کارروائیاں گزشتہ کئی سالوں سے جاری تھیں جن کے خلاف کشمیری مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جاتا تھا ۔

 1930ء تک  تواتر سے مسلمانوں کو مظالم کا نشانہ بنائے جانے کے واقعات رونما ہوتے رہے۔ آتش چنار کے مطابق  ہری سنگھ یورپ سے واپس آیا تو اپنے انگریز وزیر کے مشورے پر مذاکرات کے لیئے مسلمان نمائندوں کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ۔ شیخ محمد عبداللہ کے مطابق جموں میں مسلم ینگ مینز نامی تنظیم نے چوہدری غلام عباس وغیرہ پر مشتمل چار رکنی وفد نامزد کیا ۔ کشمیر سے بھی وفد کے لیئے سات ارکان کو  نامزد کرنا تھا۔  کشمیر کے وفد کو ایک عوامی اجتماع کے ذریعے منتخب کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس مقصد کے لیئے 21جون 1931ء کو مسلمانوں کا ایک جلسہ عام خانقاہ معلیٰ درگاہ شاہ ہمدان میں بلایا گیا۔ یہ وہی روز تھا جب ایک گمنام مقرر نے تحریک آزادی کی شمع کو روشن کیا۔ اسی مقام پر شاہ ہمدان نے بھی آٹھویں صدی ہجری میں  اسلام کی شمع کو منور کیا تھا ۔ خانقاہ معلیٰ میں 21 جون کو ہونے والے جلسہ عام میں عوام کی کثیر تعداد سمیت تمام مسلمان راہنمائوں نے شرکت کی۔ اس جلسے میں کشمیر سے سات ممبران کو مسلمانوں کی قیادت کے لیئے منتخب کیا گیا جن میں دونوں میر واعظ اور شیخ عبداللہ وغیرہ شامل تھے جلسے کے اختتام کے بعد وہیں جلسہ گاہ میں ڈوگرہ حکمرانوں کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف تقاریر ہوئیں ۔ مگر ایک تقریر ایسی تھی جس نے اپنے سحر میں مجمعے کو جکڑ لیا ۔ وہ تقریر کرنے والا کون تھا؟ اس سوال کا جواب شیخ محمد عبداللہ کے مطابق عبدالقدیر ہے ۔ اپنی سوانح حیات ” آتش چنار ” میں وہ لکھتے ہیں کہ ” انہی دنوں پشاور میں تعینات یارک شائر رجمنٹ کا ایک انگریز میجر چھٹیاں گزارنے سرینگر آیا ہوا تھا ۔ وہ نسیم باغ میں ایک ہائوس بوٹ میں قیام پزیر تھا جہاں ساتھ اس کا خانسامہ عبدالقدیر بھی موجود تھا ۔ عبدالقدیر کو شیخ عبداللہ نے ایک ان پڑھ غیر ریاستی باشندہ لکھا ہے۔ وہ خانقاہ معلیٰ میں نماز پڑھنے آیا کرتا تھا ۔ آتش چنار کے مطابق جب ہم چائے نوشی کے لیئے چلے گئے تو اس نے اپنا دفتر کھول لیا۔ عوام جوش کے عالم میں تھے لہذا اس کے گرد جھرمٹ لگ گیا۔  دوران تقریر کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا مقابلہ کرنے کی ترغیب دی اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔  اس نے دریا کی دوسری جانب موجود راج محل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دو ” سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے اس کی تقریر رپورٹ کی اس پر بغاوت اور غداری کا مقدمہ قائم کرتے ہوئے عبدالقدیر کو ہائوس بوٹ سے ہی گرفتار کر لیا گیا۔ شیخ محمد عبداللہ کے مطابق جس تقریر پر مقدمہ بنا اس تقریر کے وقت میں جلسہ گاہ میں موجود نہیں تھا۔ مگر مقدمہ عبدالقدیر پر بنا تو مجھے معلوم ہوا کہ تقریر عبدالقدیر نے کی ۔

مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کے فرزند عبداللہ شاہ مسعودی ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ سرینگر کے اس جلسے میں جوشیلا خطاب کرنے والے عبدالقدیر نہیں بلکہ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ تھے ۔ اور انہیں جلسے کے بعد پناہ دینے والے راجہ حیدر خان تھے ۔ عبداللہ شاہ مسعودی کے مطابق ” میرے والد خطاب کر ہی رہے تھے کہ ڈوگرہ فوج سنگینیں اور رائفلیں لیئے پنڈال میں داخل ہوئی ۔ مجمع میں ہڑبونگ مچ گئی لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے ۔  ” راجہ فاروق حیدر کے والد راجہ حیدر خان کی ڈائری کے مطابق وہ 1931ء میں ایس پی کالج سرینگر میں میٹرک کے طالبعلم تھے ۔ ڈوگرہ سرکار کے کارندوں کو صرف عبدالقدیر کا نام معلوم ہو سکا ۔ عبداللہ شاہ مسعودی کے مطابق ان کے والد کے ایک دوست اس وقت پولیس میں تھے جو وہیں ڈیوٹی پر موجود تھے ۔ انہوں نے مولانا کو فرار ہونے میں مدد دی ” ۔ عبداللہ شاہ مسعودی ایڈوکیٹ کے مطابق یہ بات انہیں خود راجہ فاروق حیدر کی زبانی معلوم ہوئی ۔

مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کے تدریسی ریکارڈ میں ان کے مقرر شعلہ بیاں ہونے کے بارے میں شہادتیں بھی موجود ہیں ۔ یکم اپریل 1935ء کو گورنمنٹ ہائی سکول جلال پور جٹاں کے صدر معلم نے انہیں ایک تعریفی سرٹیفکیٹ جاری کیا جس میں لکھا ہے کہ  “سید غلام مصطفیٰ فاضل دیوبند و ڈابھیل اعلی علم اور ادراک رکھتے ہیں ۔  وہ فارسی ، عربی ، اردو، جغرافیہ ، اور تاریخ کی  علمیت وسیع اور مطالعہ عمیق رکھتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس نے ان مضامین کے اصل ماخذوں کے یکے بعد دیگرے کئی کئی جلدوں کا مطالعہ کر رکھا ہے ۔ وہ ایک قیمتی ہیرا ہے۔ ” آگے چل کر لکھا کے کہ “خطابت کی تمام صلاحیتیں اس میں موجود ہیں ۔ وہ ہزاروں سامعین کو مسحور کر سکتا ہے ۔ اس کی تقریر خوبصورت زبان، منطقی دلائل ، اور مسجع و مقفیٰ ادب سے مرصع ہوتی ہے۔” اس سرٹیفکٹ سے یہ عبارت جامشورو یونیورسٹی کے سکالر ڈاکٹر خواجہ عبدالغنی نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے بعنوان “علامہ انور شاہ کشمیری کے متوسلین اور تلامذہ کی خدمات زبان اردو” میں نقل کی ہے ۔ فاضل مقالہ نگار نے مولانا غلام مصطفیٰ شاہ  کے ایک شاگرد جسٹس ریٹائرڈ محمد اکرم خان کا انٹرویو بھی کیا جس میں مولانا کی تقریری صلاحیتوں کا بیان یوں نقل کیا گیا ہے کہ ” مولانا جب تقریر کرتے تو چادر اتار پھینکتے ۔ پھر زور بیان میں آستینیں چڑھانا شروع کر دیتے ۔ ان کی تقریر اردو ، عربی ، اور فارسی اشعار سے مزین ہوتی تھی وہ کئی کئی گھنٹے تک مسلسل تقریر کرتے۔”

۔ ان کی تقریر کی صلاحیتوں کو مد نظر رکھا جائے تو 21 جون کو خانقاہ معلیٰ سرینگر میں کی جانیوالی تقریر کو مولانا غلام مصطفیٰ شاہ سے منسوب کرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں  ۔ عین ممکن ہے کہ وہ اس وقت سرینگر میں موجود ہوں ۔  عبدالقدیر کی گرفتاری کے بعد سارا الزام اسی پر ڈال دیا گیا ۔ عبدالقدیر کو اگلے چند روز میں نسیم باغ کی اس ہائوس بوٹ سے گرفتار کر لیا گیا۔ شیخ محمد عبداللہ کے مطابق انہیں عبدالقدیر کا نام اور گرفتاری کی خبر 27 جون کو ملی ۔ عبدالقدیر کے خلاف بغاوت اور غداری کا مقدمہ بنا ۔  13 جولائی 1931ء کو اس مقدمے کی  سماعت کی تاریخ مقرر ہوئی جسے دیکھنے کے لیئے مسلمانوں کی کثیر تعداد سنٹرل جیل پہنچی جہاں مقدمے کی سماعت ہونا تھی ۔ لوگوں کا ہجوم امڈ آیا ۔ جیل کا دروازہ کھلتے ہی ہجوم میں سے سینکڑوں لوگ جیل میں داخل ہو گئے ۔ انتظامی افسران نے ڈوگرہ سرکار کے گورنر کشمیر رائے ترلوک چند کو مطلع کیا تو وہ مذید نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے ۔ گورنر نے لوگوں کا ہجوم جیل میں دیکھا تو  وہ مشتعل ہوئے ۔ جیل کے باہر بھی ہزاروں کا مجمع تھا ۔  جب گورنر رائے ترلوک چند کے حکم پر ڈوگرہ فوج نے گولی چلانا شروع کی اس وقت اذان دی جا رہی تھی ۔ ایک شخص اونچی جگہ پر کھڑا ہو کر اذان دے رہا تھا۔ ڈوگرہ سپاہیوں نے ازان دینے والے کے سینے پر گولی ماری ۔ اس کے نیچے گرتے ہی دوسرا شخص وہیں چڑھا اور ازان وہیں سے شروع کی جہاں سے پہلا مؤذن گرا تھا۔ یوں ازان کے دوران ایک شخص گولی کھا کر گرتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا اذان دیتے ہوئے یکے بعد دیگرے بائیس افراد کے سینے ڈوگرہ فوجی اہلکاروں نے گولیوں سے چھلنی کر دیئے یہ شائد تاریخ کی انوکھی ترین ازان تھی جس کی مکمل ادائیگی کی قیمت بائیس مسلمانوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے ادا کی ۔ اس جذبے کے پیچھے یقینی طور پر کوئی ایسا خطیبانہ جوہر تھا جس کی توقع عبدالقدیر سے ذیادہ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ سے کی جا سکتی ہے۔ یا کم از کم جو احوال و کوائف عبدالقدیر کے شیخ محمد عبداللہ نے بیان کیئے ہیں ان کے تناظر میں یہ  بعید از قیاس ہے کہ وہ تقریر بھی کر سکتا ہو۔ یہ سانحہ جلیانوالہ باغ کے بعد دوسرا بڑا سانحہ تھا ۔ کوئی شہید ایسا نہیں تھا جسے پیٹھ پر گولی لگی ہو سب کے سینے پر گولیاں لگی ہوئی تھیں ۔

   یہی واقعہ شیخ محمد عبداللہ سمیت مسلمانوں کو سیاست کے میدان میں لایا اس زمانے میں قیادت کے لیئے بہترین مقرر ہونا ہی کافی تھا ۔  مولانا غلام مصطفیٰ شاہ خطابت کا فن جانتے تھے ۔  بائیس مسلمانوں کی شہادت کے بعد باقاعدہ تحریک آزادی چل پڑی ۔ لوگ شہداء کی لاشیں لے کر خانقاہ معلیٰ میں اکٹھے ہو گئے اور یوں ڈوگر شاہی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا گیا۔  اگلے ہی سال یعنی اکتوبر 1932ء کو ان مسلمان نمائندوں جنہیں 21 جون 1931 کے جلسہ عام میں منتخب کیا گیا تھا نے جموں کے سیاسی راہنمائوں کے ساتھ مل کر  آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی ۔ شیخ محمد عبداللہ اس کے پہلے صدر اور چوہدری غلام عباس جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے ۔  ڈوگرہ مظالم کی شکایات کی تحقیقات کے لیے گلینسی کمیشن قائم ہوا ۔ کمیشن کی تجویز پر مہاراجہ نے ریاست کا انتظام اسمبلی  کے ذریعے چلانے کا اعلان کیا ۔ 7 ستمبر  1934ء کو کشمیر میں پہلی بار مہاراجہ نے انتخابات کروا کے قانون ساز اسمبلی قائم کی ۔ اس اسمبلی کا نام پرجا سبھا تھا۔  پرجا سبھا کی کل 75 نشستیں مقرر ہوئیں جن میں سے 33 نشستوں پر انتخابات ہوئے ۔ دیگر 30 نامزد ممبران اور 12 ارکان سرکاری افسران بھی پرجہ سبھا کے ممبر مقرر ہوئے ۔ ووٹ کے لیئے عمر کی کم سے کم حد 21 برس رکھی گئی ۔ اور ووٹر صرف مراعات یافتہ طبقات سے تھے جو مسلم آبادی کا آٹھ فیصد بنتے تھے۔

 1934ء کے انتخابات میں مسلم کانفرنس نے 33 میں سے 16 نشستیں حاصل کیں مگر حکومت 13 نشستیں حاصل کرنے والے لبرل گروپ نے دیگر ممبران کو ساتھ ملا کر قائم کر لی ۔  1938ء میں پرجا سبھا کے دوسرے  انتخابات ہوئے ۔ اس وقت مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کی عمر 31 برس تھی جب ان کے جوہر خطابت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں شعبہ تدریس چھوڑ کر کارزارِ سیاست میں اترنے کا مشورہ دیا گیا۔ 1938ء کے انتخابات  میں کشمیر بھر سے مسلم کانفرنس نے کلین سویپ کیا اور مولانا غلام مصطفیٰ شاہ مظفرآباد سے لیکر گریز تک کے حلقہ سے ممبر اسمبلی منتخب ہوئے ۔ ان کا حلقہ انتخاب اس وقت سیز فائر لائن کے دونوں اطراف میں منقسم ہے ۔  اگلے ہی سال یعنی 1939ء میں شیخ محمد عبداللہ نے مسلم کانفرنس کا نام تبدیل کر کے نیشنل کانفرنس رکھ لیا جو نظریاتی اعتبار سے آل انڈیا کانگریس سے زیادہ قریب تھی ۔ مسلم کانفرنس کشمیر میں مسلم لیگ کی نظریاتی حلیف تھی۔  1942ء میں دوبارہ مسلم کانفرنس قائم کر لی گئی ۔ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ مسلم کانفرنس میں ہی رہے جب کہ ان کے چچا ذاد بھائی مولانا سعید مسعودی نیشنل کانفرنس میں شیخ محمد عبداللہ کے ساتھ جنرل سیکرٹری مقرر ہوئے ۔ مسلم کانفرنس کے پہلے جنرل سیکرٹری چوہدری غلام عباس مسلم کانفرنس کے صدر مقرر ہوئے۔ 1934ء سے 1938ء تک مظفرآباد کے حلقے سے میاں احمد یار خان ممبر اسمبلی تھے جن کا تعلق جموں سے تھا ۔ 1938ء میں الیکشن ہوا تو مظفرآباد اور موجودہ ضلع نیلم جسے اس وقت پہاڑ ڈویژن کہا جاتا تھا سے پیر حسام الدین گیلانی کے مقابلے میں مولانا غلام مصطفیٰ شاہ  نے کامیابی حاصل کی۔  1938ء سے 1943ء تک مولانا غلام مصطفیٰ شاہ پہاڑ ڈویژن سے ایم ایل اے (ممبر لیجسلیٹو اسمبلی) رہے ۔ اس کے علاؤہ وہ پرجا سبھا کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے تعلیم کے ممبر بھی رہے ۔

مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کے فرزند عبداللہ شاہ مسعودی ایڈوکیٹ کے مطابق مہاراجہ کشمیر نے اسمبلی فلور پر اقرار کیا تھا کہ “مجھے مولانا غلام مصطفیٰ شاہ اور مولانا سعید مسعودی حکومت نہیں کرنے دے رہے ۔ مولانا سعید مسعودی کی تحریر اور مولانا غلام مصطفیٰ کی تقریر نہ ہو تو مجھے کشمیر پر حکومت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ “

چودہ اگست 1947ء کو جب پاکستان اور بھارت قائم ہوئے تو اس سے 23 دن قبل 19 جولائی 1947ء کو ہی سردار محمد ابرہیم کے گھر منعقدہ مسلم کانفرنس کے کنونشن  میں پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرارداد منظور ہو چکی تھی ۔ اس سے قبل چوہدری حمید اللہ خان کی قرارداد خودمختار کشمیر کو کنونشن نے کثرت رائے سے مسترد کر دیا تھا ۔ جب کہ مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ ڈوگرہ کے وزیر اعظم چندر کاک  نے پاکستان کے ساتھ سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ کر لیا ۔ اس ایگریمنٹ کے تحت برطانوی راج کے خاتمے کے بعد وہ تمام معاملات جو مہاراجہ کی حکومت پہلے انگریز کے ساتھ کرتی تھی اب حکومت پاکستان کے ساتھ کرے گی ۔ بھارت کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ۔ بلکہ بھارت نے کشمیر پر قبضے کا مکمل پلان بنا لیا ۔

 اکتوبر 1947ء کے آخری عشرے میں  قبائلی لشکر کشمیر پر حملہ آور ہوئے ۔ میجر جنرل اکبر خان اپنی کتاب ” کشمیر کے حملہ آور اور راولپنڈی سازش کیس” میں لکھتے ہیں کہ پہلا قبائلی لشکر 22 اکتوبر 1947ء کو مظفرآباد میں داخل ہوا تھا۔ بہاولپور آرمی کے ایک سابق افسر اور پاکستان ہوم گارڈ کے میجر خورشید انور کو قبائلیوں کی کمان سونپی گئی تھی ۔ پاکستان اور بھارت دونوں فوجوں کی قیادت ابھی انگریز جرنیل کر ہے تھے ۔ جنرل میزوری پاکستان کے آرمی چیف تھے جو چھٹی پر لندن گئے ہوئے تھے اور ان کی جگہ جنرل گریسی قائم مقام آرمی چیف تھے ۔ جب کہ دونوں ممالک کی افواج کا فیلڈ مارشل جنرل آکنلیک تھا جو دہلی میں تھا ۔  میجر جنرل اکبر خان نے ایلن کیمبل کی کتاب “مشن ود مائونٹ بیٹن” کے حوالے سے لکھا ہے کہ 27 اکتوبر 1947ء کو جب قائد اعظم محمد علی جناح کے سامنے کشمیر کی آزادی کا پلان رکھا گیا تو انہوں نے اپنے ملٹری سیکرٹری کے ذریعے جنرل گریسی کو جموں پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ تا کہ بھارت کو کشمیر میں رسد بھیجنے سے روکا جا سکے جنرل گریسی نے جواب میں کہا کہ میں سپریم کمانڈ کی منظوری کے بغیر ایسا کوئی حکم نہیں دے سکتا ۔ اور سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل دہلی میں بیٹھا انگریز تھا ۔ یوں پاکستان کشمیر کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔ مہاراجہ کے پاس کل نو ہزار فوجی تھے جن میں دو ہزار کے لگ بھگ مسلمان تھے ۔ یہ مسلمان فوجی مہاراجہ سے باغی ہو گئے جس کے بعد ڈوگرہ فوج کی تعداد سات ہزار رہ گئی ۔اس میں سے بھی زیادہ تعداد میں فوج کو باغیوں نے پونچھ میں محصور کر رکھا تھا ۔مہاراجہ  قبائلی حملے کی اطلاع ملتے ہی چوبیس اکتوبر سے قبل ہی سرینگر کو چھوڑ کر جموں بھاگ نکلا ۔

  24 اکتوبر تک مہاراجہ کی فوجیں کشمیر سے یا تو بھاگ چکی تھیں یا بھاگنے کی تیاریوں میں تھیں ۔ بہت سے مسلمان افسران مہاراجہ سے باغی ہو چکے تھے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان آزاد شدہ علاقوں کا انتظام و انصرام چلانے کے لیئے چوبیس اکتوبر 1947ء کو ہی آزاد ریاست جموں و کشمیر کی الگ حکومت قائم کر دی گئی جس کے صدر سردار محمد ابرہیم ایڈوکیٹ تھے جو ستائیس اگست کو ہی سرینگر سے پاکستان منتقل ہو چکے تھے۔ پچیس اکتوبر کو مہاراجہ ہری سنگھ ڈوگرہ کے ہاتھ سے کشمیر نکل چکا تھا ۔ اس عرصے میں قبائلی لشکر مسلسل آگے بڑھتے ہوئے سرینگر کے پاس پہنچ چکا تھا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ جموں سے دہلی گیا جہاں اس نے 27 اکتوبر 1947ء کو انڈیا کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیئے اور بھارت نے اسی روز اپنے فوجی جہاز کشمیر میں اتارے ۔ بہت سے محققین کا یہ کہنا ہے کہ یہ سب کچھ رسمی کارروائی تھی مہاراجہ کے معاملات انڈیا سے پہلے سے طے شدہ تھے۔  میجر جنرل اکبر خان کے مطابق وہ 29 اکتوبر کو راولپنڈی سے  کوہالہ اور مظفرآباد سے ہوتے ہوئے اوڑی سیکٹر میں پہنچے۔  اس وقت قبائلی لشکر سرینگر سے تیس میل کے فاصلے پر موجود تھا ۔ میجر جنرل اکبر خان کے مطابق قبائلی لشکر کے انچارج  خورشید انور لشکر کے ہمراہ چوبیس اکتوبر کو بارہ مولہ پہنچے اور اگلے پانچ دن پیش قدمی روکے رکھی ۔ اس دوران خورشید انور کشمیری راہنمائوں سے یہ طے کرتے رہے کہ کشمیر کی اگلی حکومت میں میری پوزیشن کیا ہو گی ۔ خورشید انور کے مذاکرات ابھی جاری ہی تھے کہ ستائیس اکتوبر کو انڈین جہاز فوجیوں کو لیکر سرینگر ائیر پورٹ پر اترنا شروع ہوئے ۔

جسٹس محمد اکرم خان اپنی خودنوشت ” جو ہم گزار چکے” میں لکھتے ہیں کہ قبائلی حملے کے وقت کشمیری لیڈرشپ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔ لشکر بھیجنے والے وزیر اعلیٰ صوبہ سرحد خان عبدالقیوم خان تھے۔ “

میجر جنرل اکبر خان کے بیان کے مطابق جنگی جہازوں کی سرینگر آمد اور قبائلیوں پر بمباری کے بعد  آخری قبائلی لشکر 7 نومبر 1947ء کو مظفرآباد سے واپس نکلا ۔ یوں کشمیر میں قبائلی حملے کا کل دورانیہ پندرہ دن بنتا ہے ۔

مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کی بہترویں برسی پر ان کی جانشینی کا تاج اپنے سر پر سجانے والے مولانا کے  پوتے سید وجاہت مسعودی کا کہنا ہے کہ میری دادی یعنی مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کی اہلیہ کا نام عزیزدیدی تھا ۔ ان کا آبائی علاقہ تریگام ڈولی پورہ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں شامل ہے ۔ وجاہت مسعودی اپنے والد کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ ان کی والدہ ( یعنی وجاہت مسعودی کی دادی) اپنے کمسن بیٹے عبدالرحمان کے ہمراہ قبائلی حملوں کے دوران اس وقت قتل ہوئیں جب وہ ایک شادی میں شرکت کے لیئے بانڈی پورہ کے ڈاک بنگلے میں مقیم تھیں ۔ قبائلی لشکر نے انہیں  شیر خوار بیٹے سمیت ڈاک بنگلے میں ہی خنجروں سے ذبح کر دیا ۔ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ خوش قسمتی سے حملے کے وقت  ڈاک بنگلے پر موجود نہ تھے۔ عبداللہ شاہ مسعودی ایڈوکیٹ کی عمر تب دس سال تھی وہ بھی اپنی ماں کے پاس موجود تھے اور انہوں نے بیڈ کے نیچے چھپ کر اپنی جان بچائی۔ ان کی والدہ اپنے شیرخوار بچے سمیت وہیں ابدی نیند سو گئیں ۔

قبائلی لشکر کی واپسی کے بعد  بھارتی افواج مسلسل مظفرآباد کی طرف پیش قدمی کر رہی تھیں ۔ اس دوران ایک اور واقعہ پیش آیا ۔ سید وجاہت مسعودی کے مطابق اس واقعے کے عینی شاہد عورسیداں کے نمبردار مہر علی شاہ ہی اس واقعے کے راوی بھی ہیں ۔ ان کے مطابق مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کی گرفتاری سے قبل ہی کیرن میں یہ بحث چل رہی تھی کہ اس علاقے کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے یا انڈیا کا ۔ اس سلسلے میں کیرن میں ایک عوامی جلسہ منعقد ہوا جس میں علاقہ بھر سے ہزار بارہ سو عمائدین علاقہ شریک ہوئے۔  کیرن دریائے نیلم کے دونوں اطراف میں لوات کے قریب ہی واقع ہے۔  آج کل اس مقام پر دریائے نیلم کے مشرق میں بھارتی جب کہ مغرب میں پاکستانی کشمیر ہے ۔ مولانا کی کیرن آمد کے وقت بائونڈری کمیشن کے کچھ اراکین وہیں موجود تھے جن میں مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کے چچازاد بھائی نزیر مسعودی بھی شامل تھے ۔ وہ اس وقت ڈوگرہ سرکار کے ایک اعلیٰ افسر تھے اس جلسے کے دوران ہند نواز راہنمائوں نے مقامی لوگوں کو انڈین کشمیر میں شامل ہونے کی ترغیب دی ۔ جب کہ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کے ساتھ جلسے کے دیگر ہزار بارہ سو شرکاء پاکستان کے حق میں تھے کافی گرما گرمی  کے بعد آپ پاکستان کے تمام حامیوں کو لیکر واپس آ گئے ۔  دریائے نیلم پر بنا پل عبور کرتے ہی انڈین فوجوں نے وہ پل اڑا دیا یوں آج تک وہاں دریائے نیلم ہی سیز فائر لائن کے طور پر موجود ہے۔

مولانا غلام مصطفیٰ شاہ چونکہ شعلہ بیاں مقرر تھے اور بغیر کسی لگی لپٹی جذباتی تقاریر کرتے تھے جو کبھی حکام کو پسند نہیں آتی تھیں ۔ اس لیئے قبائلی حملے سے کچھ عرصہ بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا اور اس قید سے انہیں چھ سات ماہ بعد رہائی ملی۔

ان کی قید اور رہائی سے متعلق جسٹس اکرم خان نے اپنی خود نوشت ” جو ہم گزار چکے” میں بھی لکھا ہے۔ اور ڈاکٹر عبدالغنی کے پی ایچ ڈی مقالے میں بھی جسٹس ریٹائرڈ محمد اکرم خان کا مکمل انٹرویو موجود ہے۔ محمد اکرم خان کے  مطابق خود انہوں نے مولانا کی رہائی کے لیئے کوششیں کیں ۔ 1947ء کی سردیوں میں فوج نے مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کو گرفتار کر لیا ۔ ان کے ساتھ مولانا عزیز الرحمان بھی گرفتار ہوئے ۔ جسٹس ریٹائرڈ راجہ محمد اکرم خان فاضل مقالہ نگار ڈاکٹر خواجہ عبدالغنی کو انٹرویو میں بتاتے ہیں کہ ” انہیں پاکستانی فوج کے ایک کیپٹن کریم نے گرفتار کیا جو مرزائی تھا۔” اس نے گرفتاری کی وجہ یہ بتائی کہ “وہ پاکستان کے خلاف تقریریں کرتے ہیں ” ۔ اس گرفتاری اور رہائی کی زیادہ تفصیل جسٹس ریٹائرڈ راجہ اکرم خان نے اپنی خود نوشت بعنوان “جو ہم گزار چکے” میں لکھی ہوئی ہے ۔ جس کے مطابق 1947ء میں انقلاب کے بعد ایک دن مجھے کیپٹن ڈاکٹر اسلم نے بلایا اور پوچھا کہ میں ان دو آدمیوں کو جانتا ہوں ۔ ان میں ایک پرائمری سکول ٹیٹوال میں میرے استاد رہ چکے تھے جن کا نام مولانا عزیز الرحمان اور دوسرے ہائی سکول مظفرآباد میں میرے استاد رہ چکے تھے جن کا نام مولانا غلام مصطفیٰ شاہ تھا ۔ میں نے ان دونوں اساتذہ سے گفتگو کی ۔ مولانا عزیز الرحمان اعلانیہ پاکستان کے خلاف بولتے تھے ۔مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیوں پاکستان کے اس قدر مخالف تھے البتہ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ صاحب نے کہا کہ “میں پاکستان کے حق میں ہوں۔ پاکستانی فوج ہم پر بلا وجہ شک کرتی ہے۔ اگر یہ لوگ مجھ پر اعتماد کریں تو ہم انہیں سرینگر میں داخلے اور وہاں کے راہنمائوں سے تعلق پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ” اس پر جسٹس اکرم خان نے شخصی ضمانت پر مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کو رہا کروا دیا البتہ مولانا عزیز الرحمان پابند سلاسل رہے۔  میں نے مولانا کو سمجھا بھی دیا کہ وہ کسی صورت تقریر وغیرہ نہ کریں ۔ خاموشی سے وقت گزاریں ۔ 

 محمد اکرم خان کے مطابق یہ 1948ء کا واقعہ ہے جب مولانا غلام مصطفیٰ شاہ دوبارہ گرفتار ہوئے ۔  اس واقعے کی تفصیلات ان کی سوانح عمری  “جو ہم گزار چکے” میں ملتی ہے مصنف محمد اکرم خان لکھتے ہیں کہ ” پھر ایک دن مجھے پتہ چلا کہ مولانا غلام مصطفی صاحب کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔  میں مظفرآباد کے پہلے ایس پی غلام محمد (پنجاب کے رہنے والے ) کے پاس گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ مولوی بہت بڑا لیکچرار ہے لیکن قابل اعتماد نہیں ۔ اس لیئے ہم نے اسے گرفتار کر لیا ہے ۔ میں نے مولانا سے بات کی ۔ مولانا نے اپنا موقف یوں بیان کیا کہ میں خاموشی سے زندگی گزار رہا تھا کہ ایک دن یہی ایس پی صاحب  ہمارے علاقہ دراوہ میں دورے پر آئے۔ وہاں ایک جلسہ جاری تھا جس کی صدارت پر ایس پی صاحب کو بٹھا دیا گیا۔ لوگوں نے اصرار کر کے مولانا کو وہاں تقریر کے لیئے آمادہ کیا۔ خود صدر جلسہ نے بھی تقریر پر اصرار کیا بلکہ حکم جاری کیا کہ مولانا ممبر اسمبلی ہونے کی وجہ سے لازمی تقریر کریں ۔  میں نے پاکستان کے بارے میں توکچھ نہیں کہا البتہ یہ کہ دیا کہ “دراوہ کے وہ لوگ بڑے بے غیرت ہیں جنہوں نے ایک سیاسی جلسے کی صدارت حاضر سروس ایس پی کو دی اور  بہت ہی نادان ہیں یہ صاحب جنہوں نے ایک ملازم ہونے کے باوجود جلسے کی صدارت قبول کی” مولانا غلام مصطفیٰ شاہ نے تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے ارباب بست و کشاد کو یہ مشورہ بھی دیا کہ “آپ کشمیریوں کی ذہنیت اور سیاست سے ناواقف ہیں ۔ آپ نے مظفرآباد پر حملے سے قبل درست منصوبہ بندی نہیں کی۔ آپ نے کشمیری قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا ورنہ آج آپ کشمیر کے مالک ہوتے۔ آپ ہم پر اعتماد کریں ۔ ہم آپ کی صحیح راہنمائی کریں گے۔ ہم کشمیری راہنمائوں سے رابطہ کر کے ریاست کو پاکستان میں شامل کر دیں گے ” اس تقریر پر ایس پی بپھر گیا اور مولانا کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔

جسٹس محمد اکرم خان لکھتے ہیں کہ میرا اثر و رسوخ صرف فوج کی حد تک تھا۔  لہذا سول حکومت سے انہیں رہا نہیں کروا سکتا تھا۔ یہ دونوں مولوی صاحبان پھر اکٹھے ہو گئے یا کر دیئے گئے اور انہیں آزاد حکومت کے حکم پر راولپنڈی منتقل کر دیا گیا  “میں صدر ریاست سردار محمد ابرہیم خان سے ملا اور مولانا کی سفارش کی ۔ سرار ابراہیم کا یہ کہنا تھا کہ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ اور مولانا عزیز الرحمان کو سرینگر بھیجیں گے اور وہاں سے تبادلے میں چوہدری غلام عباس اور دیگر مسلم کانفرنس کے راہنمائوں کو لائیں گے” سردار ابراہیم کے ایک مشیر غلام دین وانی ہی وزیر با تدبیر تھے ۔ وہ سردار ابراہیم صاحب کی حکومت میں خود کو مظفرآباد کا نمائندہ حکومت کہتے تھے ۔ مولانا کے مخالفین نے وانی صاحب کے کان بھر دیئے ۔ کہ مولانا کو مقبوضہ کشمیر بھیجا جائے کیوں کہ ان کی یہاں موجودگی میں کسی کی سیاست پنپ نہیں سکتی ۔ جب ان قیدیوں کو امرتسر لے جایا گیا تو حکومتی اہلکاروں نے انہیں ٹاٹ کے کپڑے پہنائے تا کہ عوام کو پاکستان سے متنفر کیا جائے ۔

۔ عبداللہ شاہ مسعودی ایڈوکیٹ کے مطابق اٹک قلعے میں پہلے سے گلگت بلتستان کا ڈوگرہ سرکار کی طرف سے گورنر گھنسارا سنگھ اور دیگر ہند نواز لوگ بھی نظر بند تھے ۔ اسی دوران پاکستان نے انڈیا سے اور انڈیا نے پاکستان سے اپنے اپنے کچھ قیدیوں کا تبادلہ کیا ۔  عبداللہ شاہ مسعودی کے مطابق جن قیدیوں کو انڈیا کے حوالے کیا گیا ان میں مولانا غلام مصطفیٰ شاہ اور مولانا عزیز الرحمان بھی شامل تھے ۔ ابھی تک دستیاب شواہد کی روشنی میں یہ بات معلوم نہیں ہو پائی کہ مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کو پاکستان کا حامی ہونے کے باوجود انڈیا کے حوالے کیوں کیا گیا؟  جامشورو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے فاضل مقالہ نگار خواجہ عبدالغنی کے مطابق انہیں ان کی مرضی کے خلاف انڈیا کے حوالے کیا گیا وہ وہاں نہیں جانا چاہتے تھے ۔ عبداللّٰہ شاہ مسعودی ایڈوکیٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں موجود سیاسی راہنمائوں نے انہیں پاکستان سے مانگا تھا۔ یکم ۔ جنوری 1949ء کو جنگ بندی ہوئی اس کے فوراً بعد  میں انہیں انڈیا کے حوالے کیا گیا۔ امرتسر سے انہیں جموں بھیج دیا ۔ انڈین ایکسپریس پر 18 جنوری 1949ء کو اے پی آئی کی یہ خبر شائع ہوئی کہ  17 جنوری 1949ء کو ڈالمیا جین ائیرویز کے جہاز نے دن 10 بج کر 43 منٹ پر جموں ایئر پورٹ سے سرینگر کے لیئے اڑان بھری ۔ اس طیارے کو اگلے ایک گھنٹے کے بعد سرینگر ائیرپورٹ پر اترنا تھا ۔ طیارہ اڑان بھرنے کے 32 منٹ بعد ہی یعنی11 بج کر 15منٹ پر بانہال کے پہاڑوں پر گر کر تباہ ہو گیا ۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف انڈیا نے ابتدائی طور پر یہی خبر جاری کی کہ وہ جہاز موسم کی خرابی کے باعث بانہال کے پہاڑوں پر گر کر تباہ ہوا ہے۔ عبداللہ شاہ مسعودی ایڈوکیٹ کے مطابق اس سویلین جہاز میں مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کے ہمراہ تیرہ دیگر افراد بھی تھے جن میں ان کے دیگر دو رشتہ دار مولانا عزیز الرحمان شاہ اور مولانا یوسف شاہ بھی موجود تھے ایک غیر ملکی ہیلی کاپٹر نے طیارے کا ملبہ بانہال کی برفانی چوٹیوں پر دیکھا جہاں سے چند دن بعد نعشوں کو نکال کر سرینگر پہنچایا گیا جہاں شہید مولانا غلام مصطفیٰ شاہ کو سرینگر میں لا کر سپرد خاک کر دیا گیا ۔ اس وقت ان کی کل عمر بیالیس برس تھی ۔


شیئر کریں: