Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جونئیر اہلکار بڑے عہدوں پر براجمان، پاکستان پوسٹ چترال کے زیر اہتمام ڈاک کی ترسیل کا نظام درہم برہم

شیئر کریں:

چترال (فخرعالم) چترال کے دوردراز علاقوں میں پاکستان پوسٹ کے زیر اہتمام ڈاک کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا ہے کیونکہ نواز شریف دور حکومت میں ڈاک کی ترسیل کرنے کے ذمہ دار چھ ملازمین اب تک چترال میں ڈیوٹی دینے کے لئے حاضر نہیں ہوئے جن کا تعلق اپر دیر، لویر دیراور سوات سے بتایاجاتا ہے جبکہ چترال پوسٹل سب ڈویژن کے نام پر اب بھی تنخواہ لے رہے ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ پاکستان پوسٹ کا چترال میں سسٹم کی خرابی کی ایک اور وجہ سینئرپوسٹوں پر کم گریڈ کے حامل افراد کی تقرری بھی ہے۔

ذرائع نے مزید بتایاکہ گزشتہ نواز شریف دورمیں پوسٹل سب ڈویژن چترال میں گریڈ2کی میل رنر کی چھ خالی اسامیوں کی سیلیکشن کے لئے منعقدہ انٹرویو میں ایک چترالی امیدوار کو نہیں لیا گیا اور اپر دیر سے محمد یعقوب کو شوغور سے گرم چشمہ کے روٹ پر ڈاک کی ترسیل کے لئے لیا گیا۔ اسی طرح بونی سے استارو کے لئے دیولائی سوات سے فیصل حیات، لال قلعہ دیر لویر سے نثار احمدکو بانگ سے میرگرام کے لئے، پاؤریارخون سے بریپ کے لئے منڈا لویر دیر سے علی خان کو، رائین سے شاگرام کے لئے مایار دیر سے تعلق رکھنے والے عابدالحق کو اور بونی پوسٹ آفس کے لئے چپڑاسی بھی اپر دیر کے فاروق کوبھرتی کئے گئے جوکہ گزشتہ چھ سالوں سے چترال ڈیوٹی پر نہیں آئے۔انہوں نے بتایاکہ حال ہی میں نثٓار احمد اور محمد یعقوب کو ان کے ہوم اسٹیشنوں میں خالی اسامیوں پر تعینات کئے گئے ہیں لیکن چترال میں ان کی اسامیاں خالی ہیں۔

پاکستان پوسٹ کا ایک ریٹائرڈ اہلکار نے بتایاکہ ڈاک کے نظام میں میل رنر کی بنیادی اہمیت ہے جوکہ ڈاک کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے پر مامور ہوتا ہے اور میل رنر کے نہ ہونے کی وجہ سے ڈاک کی ترسیل کا نظام منجمد ہونا قدرتی بات ہے۔ ذرائع نے مزید بتایاکہ ضلع چترال میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پوسٹ آفسز کی اسکیل 14کی اسامی پر اسکیل 9کی خاتون کو اضافی چارج دی گئی ہے جوکہ ضلعی ہیڈ کوارٹرز چترال کی بجائے دروش میں تعینات ہے جبکہ ارندو سے لے کر بروغل تک ڈاک خانہ کے تمام برانچوں کی انسپکشن ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایاکہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پاکستان پوسٹ میں کلیدی اہمیت کی اسامی ہے جس پر یا تو محکمے کے پوسٹ ماسٹر کم از کم 15سال سروس کے بعد پروموشن کے بعد تعینات ہوتے ہیں یا ڈیپارٹمنٹل امتحان پاس کرنے کے علاوہ ایک خاص تناسب میں اسامیوں کو مسابقتی امتحان کے ذریعے پر کئے جاتے ہیں جن میں یونیورسٹیوں سے فارغ امیدوار ایک مشکل امتحان کو پاس کرنے کے نتیجے میں چن لئے جاتے ہیں۔

اسی طرح مستوج خاص اور ہرچین کے پوسٹ آفس برانچوں میں گریڈ 11کی اسامی پر گریڈ 2کا پوسٹ مین کام کررہے ہیں جبکہ شاگرام برا نچ خالی ہے۔ اور یہ سب پاکستان پوسٹ کے ضوابط کی صریح خلاف ورزی بتائی جاتی ہے۔ چترال میں پاکستان پوسٹ کی ان بے قاعدگیوں کے بارے میں جب پوسٹل ڈویژن ملاکنڈ کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ حمید الرحمن سے رابطہ کرکے پوچھا گیا تو انہوں نے میل رنرز کی اسامیوں کے بارے میں خبر کی تردید نہ کرسکے جبکہ خاتون اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی تعیناتی کی بھی تصدیق کی اور کہاکہ وہ دروش میں پوسٹ ماسٹر ہیں جبکہ اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ کی اضافی ذمہ داری دی گئی ہے۔


شیئر کریں: