Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان نے دینی مدارس کیلئے پانچ نئے بورڈز کی منظوری کو مسترد کردیا

شیئر کریں:


لاہور(چترال ٹائمز رپورٹ ) جمعیت  طلبہ عربیہ پاکستان نے حکومت کی طرف سے دینی مدارس کےلئے پانچ نئے بورڈز کی منظوری کو مسترد کردیا۔بغیر کسی مشاورت کے  راتوں رات نئے  تعلمی بورڈزتیس (30)لاکھ طلباءکے مستقبل پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔منتظم اعلیٰ جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان  کی زیرصدارت  مرکزی باڈی کا اجلاس ہوا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ شمشیرشاہدنے  حکومت کی جانب سے قائم کردہ پانچ نئے وفاقوں کی تردید کی اور کہا کہ “فیٹف کے دباؤکے نتیجے میں مدارس کا دائرہ کار محدود کیا جارہاہے ۔ نئے بورڈز سے فرقہ واریت اور مسلکی اختلافات میں اضافہ ہوگا۔ ۔ پہلے سے موجود وفاقوں کو مزید مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے سے انتشار پھیلےگا۔ حکومت اتحاد تنظیمات سے مذاکرات میں بھی مدارس کے طلباء کو نمائندگی  دے۔ مدارس کے طلباء کے اسناد اور ڈگریوں کو براہ راست قانونی حثیت دی جائے، معادلہ  امتیازی سلوک ہے۔”. مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “حکومتِ پاکستان فرقہ واریت کوتقویت دینے   کےلئے آئے روز نئی نئی پالیسی   سے اہل مدارس کو آپس میں لڑانے کی سازش کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے سے موجود اتحاد تنظیمات مدارس کے ذمہ داران کی مجرمانہ خاموشی افسوسناک ہے۔

مدارس کے طلباء کے مستقبل کو سیایسی اختلافات کے بھینٹ نہ چھڑایا جائے۔ ۔ بعدازاں منتظم اعلیٰ شمشیر علی شاہد نے مدارس کے طلباء سے پرزور اپیل کی کہ “وہ خود اپنے حق کے لیے اٹھیں اور حکومت کی توجہ مبذول کرانے میں جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کی تحریک میں شامل ہوں کہ ہمیں نئے بورڈز کی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان میں اسناد کے حوالے سے پائے جانے والے طبقاتی نظام کو ختم کیا جائے۔ اور مدارس کی اسناد کو بھی وہی حیثیت دی جائے جو عام تعلیمی  ادارے کےاسناد کو حاصل ہے۔ تاکہ ہم معادلے کے بجائے خود اپنی سند پر ملک کی بہتر سے بہتر خدمت کرسکیں۔  اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ اب مدارس کے طلباء اپنے حقوق کی جھنگ خود لڑیں گے۔یاد رہے گزشتہ دنوں حکومت نے مسلکی بنیادوں پر اور سیاسی مقاصد کےلئے دینی مدارس کےلئے پانچ نئے تعلیمی بورڈز کی منظوری دی ہے۔جس میں ایک دیوبند ،دو بریلوی ایک شیعہ اور اہل اہلحدیث مکتب فکر شامل ہے۔جمعیت طلبہ عربیہ نے حقوق طلباء مدارس دینیہ مہم کا آغاز کردیا ہے۔اس مہم کے زریعے مدارس کے طلباء کو بیدار کیا جائے گا اور ان کے خلاف ہونے والے حکومتی پالسیز اور بورڈز و حکومت کے مشترکہ پالسیز کے خلاف بھرپور آواز اٹھای جائےگی۔


شیئر کریں: