Chitral Times

Mar 3, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بی جان فٹبال پرئمئرلیگ میں لوئیر چترال کے ٹیموں کو شامل نہ کرنا تعصب ہے۔صدرفٹبال ایسوسی ایشن

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر گل آغا اور سرپرست اعلیٰ حسین احمد نے امریکہ میں مقیم چترال کے قابل فخر سپوت انور آمان کی چترال کیلئے کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چترال کے مختلف سیکٹر میں انوسٹ کرکے علاقے کو ترقی دینے اور خاص کرچترال کے نوجوان نسل کو صحت مند سرگرمیوں میں مشعول کرکے انکی صلاحیتوں کو نکھارنا چاہتے ہیں۔ مگر افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ چترال کے چند افراد انھیں یرغمال کئے ہوئے ہیں جنکی غلط مشوروں سے انکی بڑی انوسٹمنٹ بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے ۔


صدرڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن چترال گل آغا نے چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انورآمان حالیہ دنوں بی جان فٹبال پرئمئیرلیگ کے نام سے اسلام آباد میں فٹبال کا ایک بہت بڑا ٹورنامنٹ منعقد کروارہا ہےجس پر کروڑوں روپے خرچ ہونگے ۔ مگر اس ٹورنامنٹ کیلئے فٹبال ایسوسی ایشن چترال سے نہ مشورہ کیاگیا اور نہ لوئیر چترال سے کسی ٹیم کو اس ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت دی گئی۔ جبکہ تمام ٹیمیں اپر چترال یا لٹکوہ سے لی گئیں ۔ صدر نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انکی باربار درخواست کے باوجود لوئیر چترال سے کسی ٹیم کو شامل نہ کرنا افسوسناک ہونے کے ساتھ لوئیر چترال کےکھلاڑیوں کے ساتھ تعصب ہے۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔


چترال فٹ بال ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سرپرست اعلیٰ حسین نے بتایا کہ چند کاٹولہ انورآمان صاحب کویرغمال بنائے ہوئے ہیں جن کی غلط مشوروں کی وجہ سے چترال کے ایک عظیم بیٹے کی سرمایہ کاری بھی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ چترال ٹائمز ڈاٹ کام سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے حسین نے بتایا کہ انورآمان نے بی جانی فٹبال پرئمئرلیگ کی ذمہ داری جن لوگوں کو سونپا ہے وہ ناواقف نہیں بلکہ فٹبال سے ان کا دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ حسین احمد نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چترال فٹبال ایسوسی ایشن گزشتہ پینتیس برسوں سے چترال میں سرگرم عمل ہے اور سالانہ مختلف ایونٹ منعقد کرنے کے ساتھ چترال کے کھلاڑیوں کی قومی سطح پر لانے میں کامیاب رہی ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج چترال کا ایک قابل فخر فرزند سرمایہ لگاکر چترال میں ٹیلنٹ کو نکھارنا چاہتے ہیں مگر “چند کا ٹولہ” انھیں یرغمال بناکر اپنی من مانی پہ تلے ہوئے ہیں۔ انھوں نےبتایا کہ لوئیر چترال سے ٹیم شامل نہ کرنے پر ہم نے متعلقہ ذمہ داروں سے رابطہ کیا توانھوں نے بتایا کہ ان کے پاس بجٹ کی کمی ہے لہذا ہم انھیں شامل نہیں کرسکتے جس پر ہم نے خرچے کا بھی خود بندوبست کیا مگرپھر بھی انھیں شامل کرنے سے انکاری ہوئی۔ اور چترال لوئر سے صرف ایک ٹیم جس کو ایسوسی ایشن نے گزشتہ سال چاقوزنی کرنے پر بلیک لسٹ کیا تھا کو شامل کیا ہے۔

چترال فٹ بال ایسوسی ایشن کے ذمہ داروں نے انورامان سے لوئیر چترال کے ٹیموں کو ٹورنامنٹ میں شامل نہ کرنے کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر لوئیر چترال سے ٹیمیں شامل نہ کی گئی تو اس کو کھلاڑیوں کے ساتھ تعصبانہ رویہ تصور کیا جائیگا۔

اس سلسلے میں ہمارے نمائندے نے ٹورنامنٹ کے ارگنائزر اسرار صبور سے ٹیلی فون پر رابطہ کی کوشش کی مگر ان کے دونوں نمبروں سے رابطہ نہ ہوسکا۔


شیئر کریں: