Chitral Times

Mar 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایک بادشاہ گر کا والہانہ الوداع……تحریر: ثمر خان ثمر

شیئر کریں:


آج پورا کریم آباد ہنزہ ایک شخص کو الوداع کہنے کے لئے اُمنڈ آیا تھا۔ سڑک کے دونوں جانب لوگوں کی طویل قطاریں تھیں۔ ان کے چہروں پر بشاشت کے آثار مترشح تھے۔ وہ سراپا چشم انتظار تھے۔ اس شخص کی ایک الوداعی جھلک دیکھنے کے لئے بیتاب تھے۔ یہ ایک یادگار منظر تھا اور وہ اپنی قدرتی اور مصنوعی آنکھ کے ذریعے اس یادگار منظر کو امر کرنے کے خواہاں تھے۔ ایسے مناظر انھوں نے قبل ازیں بھی دیکھ رکھے تھے لیکن یہ منظر ہی کچھ اور تھا۔ یہ ان سب سے الگ،  نرالا اور جداگانہ تھا۔ ایسا کیوں نہ ہوتا؟  آج قریباً چالیس سال تک قوم کے نونہالوں کی آبیاری کرنے والا،  سنگ ناتراشوں کو تراش خراش کر چلتی پھرتی مورتیوں کا روپ دینے والا،  ایک مشفق،  مہربان اور رحمدل انسان اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے والا تھا۔ جی ہاں استاد فرحاد اللہ بیگ آج اپنے کندھوں سے اپنی ذمہ داری کا بوجھ اُتار رہے تھے۔ اُنھوں نے چالیس سال قبل گورنمنٹ مڈل اسکول کریم آباد سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا تھا اور آج سٹھ سال کی عمر میں سبکدوش ہو رہے تھے۔


اہالیان ہنزہ نے محسن قوم فرحاد اللہ بیگ صاحب کو جس والہانہ انداز میں الوداع کہا،  اور ان سے محبت و عقیدت کا جو فقیدالمثال جذبہ دکھایا،  بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ سبکدوشی ملازمت کا حصہ ہے،  ہزاروں سرکاری ملازم اپنا دورانیہ مکمل کر کے رخصت ہوئے لیکن جو بےمثال اور یادگار رخصتی موصوف کی ہوئی،  اس کی نظیر گلگت بلتستان کی تاریخ میں نہیں ملتی یا پھر میری کج علمی آڑے آرہی ہے۔ کم از کم میں نے ایسا جوش و جذبہ کبھی دیکھا نہ سنا۔ فرحاد اللہ صاحب کو گھوڑے پر بٹھایا گیا،  پھولوں کے ہار پہنائے گئے،  روایتی تحائف کی بوچھاڑ ہوئی اور انھیں شاہانہ انداز میں بینڈ باجوں کی دھن میں اسکول سے گھر لے جایا گیا۔ راستے میں جو بھی ملا،  عقیدت و احترام اور پیار محبت کے پھول نچھاور کرتا گیا۔ میں نے اس عمل کی ایک ویڈیو دیکھی اور ایک پل کے لئے محسوس ہوا کہ کوئی مغل شہنشاہ پورے طمطراق سے جلوہ افروز ہیں۔ آگے آگے بینڈ باجے کا دستہ،  درمیان میں گھوڑے پر سوار شہزادہ اور پیچھے پیچھے لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ۔ اس دوران ان کا چہرہ تو پڑھا نہیں جاسکا ، ہاں البتہ چشم تصور سے دیکھ اور محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ان کا چہرہ باغ و بہار ہے،  دل مطمئن ہے اور روح سرشار ہے۔ انھیں اپنے عہد رفتہ سے کوئی گلہ،  کوئی شکوہ اور کوئی شکایت نہیں ہے۔ انھیں کوئی پچھتاوا ہے،  کوئی ندامت ہے اور نہ ہی قلق ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ اُنھوں نے اپنے پیشے کے ساتھ دغا نہیں وفا کی ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ اُنھوں نے بار معلمی پیسہ جوڑنے کے لئے نہیں،  عبادت سمجھ کر،  خدمت خلق گردان کر اُٹھایا ہے۔ اس بات کا منہ بولتا ثبوت لوگوں کا جم غفیر ہے ۔ لوگوں کی آنکھوں میں ان کے لئے عقیدت و احترام ہے،  ان کی وارفتگی ہے اور ان کی شاہانہ اور والہانہ الوداعی تقریب ہے۔


شیئر کریں: