Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

این ٹی ایس پیپر کی لیکج بارے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی .کامران بنگش

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کے ہمراہ اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں پریس بریفنگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ این ٹی ایس کے پی ایس ٹی پیپر کی سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر لیکج بارے وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ انکوائری پراونشل انسپکشن ٹیم کریگی جو سات دنوں کے اندر اندر رپورٹ پیش کریگی۔ انہوں نے کہا کہ پراونشل انسپکشن ٹیم کی رپورٹ کے مطابق ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائیگی جبکہ پی ایس ٹی پیپر کے نتائج کو بھی فوری طور پر روک دیاگیا ہے۔

ٹسٹنگ کے حوالے سے وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ ایٹا میں ریفارمز لانے اور اسکی استعداد کار مزید بڑھانے کیلئے کیبنٹ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ تعلیمی بورڈ کے نظام کو مزید بہتر بنایاجارہاہے اور ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ بھرتیاں ان دونوں اداروں سے کروائی جائیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے اپنی طرف سے بھرپور کوشش کی تھی اورامتحانی ہالوں کے قریب دفعہ 144 نافذ کیا تھا۔ محکمہ تعلیم کے حکام، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی ڈیوٹیاں لگائی گئی تھیں اور پورے اور پورے عمل کی نگرانی کی جا رہی تھی۔شہرام خان ترکئی نے کہا کہ پورے صوبے میں کل ساڑھے تین لاکھ امیدواروں نے پی ایس ٹی ٹیسٹ دیا تھا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کسی کی حق تلفی نہیں ہوگی اور حقدار کو اسکا جائز حق ضرور ملے گا.وزیر تعلیم نے کہا جس جس کے پاس بھی پیپر لیکج کے حوالے سے معلومات ہوں وہ انکوائری کمیٹی، ڈائریکٹرتعلیم یا متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کے حوالے کردے تاکہ انکوائری میں مزید شفافیت لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کے سا تھ کوئی رعایت نہیں ہوگی امتحانی ہالوں میں موبائل فون لے جانیوالوں کیخلاف ایف آئی آر درج ہوگی اور امیدوار کو بلیک لسٹ کیاجائیگا ایک سوال کے جواب میں وزیر تعلیم کاکہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی سابقہ دور حکومت اور اس دور میں بھی میرٹ پر بھرتیاں کی گئی ہیں۔ این ٹی ایس کو بڈنگ پرسیس پر امتحان لینے کی ذمہ داری دی گئی تھی معاملے میں ذمہ دار این ٹی ایس یا سرکاری اہلکار جوبھی ہو کارروائی ہوگی اور مسئلے کی جڑ تک پہنچیں گے اور اس کا خاتمہ کریں گے۔معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش کا کہنا تھا کہ جب یوتھ اور نوکریوں کی بات کی جاتی ہے تو ہماری میرٹ پالیسی اور یوتھ اصلاحات سب کے سامنے ہیں یوتھ کو میرٹ پر نوکریاں ملیں گی اور شفاف نظام کو سبوتاژ کرنیوالوں کے خلاف کارروئی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ٹیسٹنگ ایجنسیز پر انحصار ختم کرنے کیلئے ایٹا اور پبلک سروس کمیشن کو مزید مضبوط بنا رہی ہے اور اس سلسلے میں نئی اصلاحات لائی جارہی ہیں کیونکہ ٹیسٹنگ ایجنسیز کے اپنے مسائل ہوتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں کامران بنگش کا کہنا تھا کہ میڈیکل امتحان میں جن طلباء نے کے ایم یو کو فیس جمع کی ہے ان کامعا ملہ پی ایم سی اور کے ایم یو حل کریں گے جن طلبا نے پی ایم سی کا ٹیسٹ دیا ہے ان کی ایڈجسٹمنٹ ہوگی اور جنہوں نے نہیں دیا ان کو کے ایم یو فیس واپس کریگی۔


شیئر کریں: