Chitral Times

Nov 27, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہماری باتیں۔۔۔۔فیض العزیز فیض

شیئر کریں:

باتوں سے انسان کی زندگی جڑی ہوئی ہے یا یوں کہہ لیں کہ باتیں انسان کی زندگی سے جڑی ہوئی ہیں ۔۔۔ جہاں باتوں سے اندر ہی اندر آپکی تعمیر ممکن ہے وہیں باتیں آپ کے لیے زہر کا کام بھی کرتی ہیں ۔۔۔باتیں نہ ہوتیں تو زندگی میں مرچ مصالحہ کم ہوتا ۔۔۔ کچھ لوگ تو باتوں کے شوقین ہوتے ہیں بات کرتے کرتے انکا منہ نہیں تھکتا ۔۔

اور کچھ لوگوں کو موقع محل کی مناسبت سے بات ذہن میں نہیں آتی ۔۔۔

کچھ باتيں سمجھ میں آجاتی ہیں ۔

کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں ۔

کچھ باتیں سمجھ میں آکے سمجھ سے چلی جاتی ہیں تو کچھ باتوں کو ہم خود سمجھنا نہیں چاہتے ۔

کچھ باتیں سمجھ میں آتے آتے رہ جاتی ہیں ۔

کچھ باتیں ایسی بھی ہیں کے سمجھ میں آجائیں تو مشکل ہو جاتی ہے ۔

کچھ باتیں سمجھ سے باہر ہوتی ہیں جبکہ کچھ باتیں سمجھ کے اندر ہوتی ہیں ۔

کچھ باتیں سمجھی سمجھائی ہوتی ہیں ۔

اور کچھ باتیں سمجھانی پڑتی ہیں ۔

کچھ باتیں لمبی لمبی ہوتی ہیں ۔کچھ باتیں چھوٹی ہوتی ہیں ۔

باتیں میٹھی میٹھی اور کڑوی بھی ہوتی ہیں جبکہ کچھ باتیں زہر جیسی ہوتی ہیں ۔

کچھ باتیں مختصر ہوتی ہیں کچھ باتیں طویل ہوتی ہیں ۔

کچھ باتیں گول مول ہوتی ہیں کچھ باتیں سیدھی ہوتی ہیںکچھ باتیں آڑی ٹیڑھی بھی ہوتی ہیں ۔

لوگ اونچی اونچی باتیں بھی کرتے ہیں ۔ کچھ باتیں گہری بھی ہوتی ہیں ۔

کچھ باتیں خوشبو سی ہوتی ہیں جن کی مہکہماری زندگیوں کو مہکاتی رہتی ہے ۔۔۔

کچھ کسی تلوار کی طرح ہمارے دلاور کبھی کبھی کسی کی کہی ہوئی کوئی ایک بات ہماری رہبر بن جاتی ہے ۔۔۔ باتوں سے دل بھربھی جاتا ہے ۔ کان پک بھی جاتے ہیں ۔ دماغ پھٹ بھی سکتا ہے ۔۔۔۔

بلکل جناب ان باتوں میں قدرت نے بڑی طاقت رکھی ہے ۔۔۔

بہت سی باتیں عیاں جبکہ کچھ باتیں چھپی ہوئی ہوتی ہیں ۔کچھ باتیں کہہ دی جاتیں ہیں اور کچھ باتیں دل میں رکھی جاتی ہیں ۔آسان باتیں بھی ہوتی ہیں اسی کے برعکس مشکل مشکل باتیں بھی ہوتی ہیں ۔کچھ لوگوں کی دکان پکوڑوں کی پر باتیں کڑوڑوں کی ہوتی ہیں ۔۔۔کچھ باتیں کہنے میں نرم کچھ باتیں سخت کچھ بھاری کچھ ہلکی ہوتی ہیں ۔کچھ باتیں محسوس کی جاتی ہیں کچھ باتیں یاد رکھی جاتی ہیں اور کچھ باتیں بھول جاتیں ہیں جبکہ کچھ باتوں کو زبردستی بھلانا پڑتا ہے ۔کچھ باتوں کو عقل تسلیم نہیں کرتی ۔اور تو اور کچھ باتیں تو رات کو بھوت بن کے ڈراتی ہیں ۔۔۔سلجھی باتیں بھی ہوتی ہیں الجھی بھی ۔ کچھ باتیں صاف ستھری ہوتی ہیں جبکہ کچھ گندی ۔کچھ باتوں سے دل ہلکا ہوتا ہے کچھ باتوں سے بھاری ۔کچھ باتیں معیاری ہوتی ہیں اور کچھ باتیں سب پر بھاری ۔اور دماغ پر اثر کرتی ہیں ۔۔۔

لیکن بیکار باتوں میں پڑنے سے بات نہ کرنا ہی بہتر ہے. بُو علی سیناکی مجلس میں کوئی صاحب بیٹھے ہُوئے اِدھر اُدھر کی بیکار باتیں کر رہے تھے کہنے لگے ” چند دن پہلے میری ایک دوست سے تُو تُو میں میں ہو گئی۔ ہم دونوں نے ایک دوسرے کو خوب کھری کھری سُنائیں،لیکن افسوس کہ کچھ ایسی باتیں مجھے یاد آ رہی ہیں اور انہیں نہ کہہ سکنے کا مجھے اب افسوس ہو رہا ہے” ۔بو علی سینا نے ہنس کر کہا ۔
” لیکن مجھے آج تک اس بات پر افسوس نہیں ہوا کہ میں نے فلاں بات کیوں نہیں کہی تھی بلکہ تمھارے برعکس مجھے کہی ہوئی باتوں پر اکثر نادم ہونا پڑا” ۔ایک گاؤں میں دو بھائی رہتے تھے۔ ایک مرتبہ اُن کے ہمسائے میں کسی بزرگ کی وفات ہو گئی۔ اب جہاں گاؤں کے باقی لوگ تعزیت کے لیے گئے، وہی یہ دونوں بھی تعزیت کرنے پہنچ گئے۔باتوں باتوں میں چھوٹا بھائی مرحوم کے بچوں کے پاس گیا، فاتحہ خوانی کی، روایتی انداز میں اُن کو تسلی دی اور اٹھتے اٹھتے دعائیہ کلمات کچھ یوں کہے کہ۔۔۔!! “اللہ آپ کو آپ کے مرحوم والد صاحب کا نعم البدل عطا کرے۔۔۔!”اتنا سننا تھا کہ وہ سب لوگ آگ بگولا ہو گئے مار مار کے اُس کا بُرا حشر کر دیا اور بولے “ابے! باپ کا بھی کوئی نعم البدل ہو سکتا ہے، پہلے دیکھ تو لو کیا بول رہے ہو۔۔!”اُسکا بڑا بھائی جو کچھ دور بیٹھا ہوا تھا، جب اُسے معلوم ہوا کہ یہ سارا ہنگامہ اُس کے بھائی کی وجہ سے ہوا ہے تو وہ بھاگتا ہوا وہاں گیا، بھیڑ کو چیرتا ہوا بھائی کے پاس پہنچ گیا، جہاں اُس کی “خاطر مدارت” ہو رہی تھی۔اُس نے جاتے ہی پہلے تو اُن سب سے معذرت کی، پھر بھائی کی طرف رُخ کر کے بولا “شرم نہیں آتی ایسی بات کرتے ہوئے، بھلا باپ کی جگہ بھی کوئی لے سکتا ہے،

باپ تو صرف ایک ہی ہوتا ہے۔۔”اور پھر دوبارہ مرحوم کے بچوں کی طرف رُخ کر کے بولا، “یہ تو چھوٹا ہے، نادان ہے، اِسے بات کرنے کا ڈھنگ نہیں ہے، آئندہ آپ کا کوئی بھی مرے گا صرف میں ہی آؤنگا۔۔!”اب یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ بڑے بھائی کے ساتھ بھی کیا سلوک ہوا ہوگا، آپ خود سمجھدار ہیں یہ باتیں سب باتوں کے کمالات ہیں. کراچی سے آئے ایک مہمان کی باتیں سن سن کر ان کی باتوں میں ایسے کھوئے کہ بس باتوں ہی باتوں میں رہ گئے. 


شیئر کریں: