Chitral Times

Mar 2, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نوائے سُرود……غوروفکر…..شہزادی کوثر

شیئر کریں:

ذات سے مراد وہ ہستی مطلق ہے جو بلا شراکت غیرے کُل ہے وہ پوری کائنات پر محیط ہےلیکن خود احاطہ سے باہر ہے۔انسانی ذہن وشعور اس کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہے،وہ عقل وفہم کی گرفت میں نہیں آسکتی۔ انسان کی ظاہری قوتیں اس کا  پوری طرح ادراک کرنے کے قابل نہیں ۔زمین وآسمان اس کی وسعتوں کا درک رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے لیکن حیرت کی بات ہے کہ وہ ذات اقدس مٹھی بھر دل میں سما جاتی ہے ،                                                           

ارض وسما کہاں تیری وسعت کو پا سکے                        

میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے                         

زمین وآسمان میں بکھری ہوئی مخلوقات سب اسی کی خلاقیت سے موجود ہیں لیکن وہ کسی سے موجود نہیں اور نہ ہی کوئی اس کی ذات کا حصہ ہے،اس صورت میں کسی کی شرکت کے بغیرہر چیز کا مالک ہے، قرآن کہتا ہے ۔۔۔    کہو کہ وہ اللہ ایک ہے اللہ بے نیاز ہے نہ کسی کا باپ ہے اور نہ کسی کی اولاد ،اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ،،  ہمسری اور برابری کا اگر کوئی دعوی دار ہوتا تو ہر کوئی کون ومکاں کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق چلانے کی کوششش کرتا جس سے ایک کھینچا تانی کا عمل شروع ہو جاتا اور دنیا کا پورا نظام برباد ہو جاتا۔ خالق ارض وسما خود کو مخلوقات پر واضح کرنے کے لیے اپنی صفات کی جھلک انسانوں میں رکھتا ہے تجلیات کے اس ظہور کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جن کا دل روشن ہو کیونکہ دل کی آنکھ ہی تجلی کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔۔۔۔                                                                     

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی                           

ہو دیکھنا تو دیدہؑ دل وا کرے کوئی                           

ذات باری کی یہ صفات ذات سے جدا اور غیر نہیں جس طرح پھول کی خوشبو اگرچہ پھول کی صفت ہےاور پھول کی ذات سے باہر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے لیکن پھول کے وجود اور ذات ہی کا حصہ ہے اس سے الگ کوئی شے نہیں ۔اس طرح اللہ کی صفات میں کثرت کے باوجود وہ ذات سے جدا نہیں ۔خالق کی پیدا کردہ جس قدر چیزیں ،شکلیں اور مخلوقات نظر آتی ہیں یہ سب تجلیات کے جلوے اور اس کا عکس ہیں جس کی وجہ سے ان کے نام مختلف ہیں ۔جس طرح لوہے کو پگھلا کر تلوار بنائی گئی اب اس تلوار کے اندر سوائے لوہے کے اور کچھ بھی ہیں لیکن اس کو لوہا نہیں کہا جاتا بلکہ تلوار ہی کہلائے گی کیونکہ اسکی شکل ہی اس کے نام کا تعین کرتی ہے۔اسی طرح مخلوقات بھی الگ الگ نام کے باوجود مخلوق ہی کہلائے گی جو اللہ کی خلاقیت کی دلیل ہے ،جن کے ذریعے ذات باری سے اشنائی عقل کل والے ہی کر سکتے ہیں جس کے لیے تدبر اور غوروفکر کی ضرورت ہے ،اس کا حکم قرآن بار بار دیتا ہے۔

انسان ان چیزوں کے باطن میں اتر کر ہی اصل گیان،علم اور معرفت حاصل کرتا ہے۔یہ گیان ہی ہے جو انسان کو چوپایوں سے منفرد کر کے الگ شان کا حقدار بناتا ہے۔ قدرت کا یہ کارخانہ جسے کائنات کہتے ہیں اسکو سمجھنے کے لئے لاکھوں صدیاں بھی کم ہیں لیکن انسان اپنی عقل کے استعمال سے جتنا اسکو سمجھ سکا اور اسکے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے قابل بن سکا ہے وہی رب کائنات پر اسکے ایمان کو مضبوط کرنے کے لئے کافی ہے۔ انسان کا اپنا وجود بھی ایک جہان کی حیثیت رکھتا ہے،اگر غور وفکر کا دھارا اس طرف موڑ دیا جائے تو عرفان نفس کی وہ صلاحیت حاصل ہوتی  ہے جس کے بغیر کائنات اور رب کائنات کی صفات کو سمجھنے کی قابلیت پیدا نہیں ہو سکتی۔

انسان دیکھے تو ہر طرف ایسے عناصر بکھرے پڑے ہیں جو قدم قدم پر اس کا رابطہ خالق سے جوڑتے ہیں لیکن وہ اندھوں اور بہروں کی طرح گزر جاتا ہے غور نہیں کرتا حالانکہ قدرت کی ہر تخلیق دامن دل کھینچ کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔تخلیق آدم کے بعد سب سے پہلا کام جو آدم نے کیا وہ سیکھنے پڑھنے،غور کرنے اور سمجھنے کا تھا جس کا اعادہ نبی پاکﷺ پر اترنے والی پہلی وحی میں بھی اقرا،،کہہ کر کیا گیا ۔قرآن میں موجود احکامات الہی کی بڑی تعداد کھوجنے ،غور کرنے اور حقیقت کی تلاش کے بارے میں ہے۔اگر انسان  ذات باری تک رسائی چاہتا ہے تو اسے اپنی ذات سے شروع کرنا ہوگا ،تاکہ عرفان ذات سے شروع ہونے والے اس سفر کا اختتام عرفان کائنات سے ہوتا ہوا رب کائنات تک پہنچے جس کی طرف ہر چیز پلٹ کر جائے گی ۔اس سفر میں کامیابی کی کنجی صرف غوروفکر ہے جس کے ذریعے غفلت ذدہ دلوں پر پڑے ہوئے زنگ آلود قفل کھولے جا سکتےہیں۔                                                                                               


شیئر کریں: