Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قانونی طریقے سے کرش پلانٹس لگانے والوں کی سہولت کیلئے ون ونڈو سروس شروع کیجائے۔وزیراعلیٰ

شیئر کریں:


پشااور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) زیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے بھر میں قانونی طریقے سے پاور کرش پلانٹس لگانے والوں کی سہولت کے لئے لائسنس اور این او سی کے اجراءاور دیگر لوازمات کے لئے ون ونڈو سروس شروع کی جائے اور قانونی طریقے سے پاور کرش پلانٹس لگانے کے خواہشمند افراد کو درخواست دینے کے ایک ہفتے بعد لائسنس اور این او سی کے اجراءکو یقینی بنایا جائے تاکہ قانونی طریقے سے لگنے والی پاور کرش پلانٹس کی حوصلہ افزائی کرکے غیر قانونی طریقے سے لگنے والی کرشر پلانٹس کی موثر روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی ہے کہ دریاوں سے ریت اور بجری نکالنے اور آبادی کے آس پاس کان کنی کے لئے متعلقہ قوانین میں مقرر کردہ محفوظ فاصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے موثر لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کی صورت میں آبادی کو پہنچنے والی نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔


وہ گزشتہ روز محکمہ معدنیات اور معدنی ترقی کے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں صوبہ بھر میں پاور کرشر پلانٹس کی تنصیب، دریاوں سے ریت اور بجری نکالنے اور شہری اور دیہی آبادیوں کے آس پاس کان کنی سے متعلق معاملات کو اسٹریم لائن کرنے اور اس سلسلے میں بنے والی قوانین پر موثر انداز میں عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کئے گئے.

اراکین صوبائی کابینہ تیمور سلیم جھگڑا، اکبر ایوب، سلطان خان ، عارف آحمد زئی اور چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز کے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو مجوزہ ریور بیڈ مائننگ رولز 2021 کے مختلف پہلووں کے بارے بھی تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان مجوزہ رولز کا مقصد دریاوں کے پانی کا تحفظ اور اس کی اپنی اصلی حالت میں بھاو کو یقینی بنانا، دریاوں کے کنارے قائم انفراسٹرکچرز کو محفوظ بنانا ، مستقبل میں تعمیراتی صنعت کی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے ریت اور بجری کی آسان دستیابی کو یقینی بنانا اور دریاو ں سے ریت اور بجری نکالنے کے کاروبار سے وابستہ افراد کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

وزیر اعلی نے پاور کرشر پلانٹس اور ریور بیڈ مائننگ سے متعلق جملہ امور کو زیادہ سے زیادہ عوام دوست بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں پاور کرشر پلانٹس اور ریور بیڈ مائننگ کو ریگولیٹ کرکے نہ صرف اس کاروبار سے وابستہ افراد کے لئے آسانیاں پیدا کی جاسکتی ہیں بلکہ قدرتی آفات سے ہونے والی جانی ومالی نقصانات کو کم سے کم کرنے کے علاوہ قدرتی ماحول کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں پاور کرشر پلانٹس اور ریور بیڈ مائننگ سے متعلق امور کو اسٹریم لائن کرنے کے سلسلے متعلقہ قوانین پر من و عن عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ حکام پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو صوبائی کابینہ کی منظوری کے لئے حتمی سفارشات تیار کرے گی۔


شیئر کریں: