Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حالات اور وقت۔۔۔۔صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

حالات کچھ نہیں بلکہ ذہين میں پیدا ہونے  والی کیفیات ہیں۔ عارضی دنیا کی خوشیاں اور غم بھی عارضی ہیں ۔ آج غم ہے تو کل خوشی ۔ اصل میں ڈر اپ کے ذہن میں بنے والی ایک فرضی نقشہ ہے جو اپ کو ڈراتا رہتا کہ اب ایسا ہوگا ویسا ہوگا۔ انسان چھوٹے چھوٹے واقعات کے ایسے فرضی نقوش ذہن میں بھر دیتا ہے تو ذندگی دشوار نظر اتی ہے۔ حلانکہ اس کو حقیقت سے کوٸی تعلق نہیں۔ 


ایک دوست سے ملاقات ہوٸ باتوں باتوں میں اس نے بتایا کہ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ چھوٹے بھاٸ کی شادی  ہے ۔ گھر میں خوشیاں ہیں۔ ہر طرف ہستے مسکراتے چہرے نظر اتے ہیں۔ آج سب سے زیادہ خوش میں ہوں کیونکہ اس خوشی کے موقعے پر میرے بچپن کے سارے دوست شریک تھے۔ گھر میں موسیقی کا بھی  اہتمام کیا گیا تھا رات بھر ناچتے گاتے گزارنے کا پکا ارادہ ہے۔ اچانک فون پر نوکری محاظ پر بلاوا کی گھنٹی بجی کہا کہ اپکا ٹرانسفر ہوا ہے کل نو بجے ڈیوٹی سنبھالو۔ تو سارے ارمان  طوفان کی امد سے ریت کے ٹیلے کی طرح بکھر گۓ۔ مسکراتے چہرے پر اداسی کی کالے گھٹاٸیں چھا گۓ اور طبیت خراب ہوگیا۔ گانے کی اواز ارہی تھی ٬ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے حالات پر طنزيہ ہنس رہا ہے۔ سردرد کرنے لگا ۔ دل بلکل نہیں کررہا تھا کہ ایک منٹ بھی رکو٬ بہانہ کرکے مہمانوں سے اجازت لیکر سونے چلاگیا۔ تبادلے منسوخی کیلۓ ایک دو دوستوں سے بھی بات کی۔ کمبل اوڑھا ہی تھا کہ دوبارہ موبائل کی گھنٹی بجی کال رسیو کیا تو دوسری طرف میرا فیلو تھا۔ سلام دعا کے بعد کہا اپکا ٹرنسفر واپس لیا گیا لہزا دو دن بعد انا۔


اس نے چھٹی کی بات نہیں کی بالکہ یٰسین پڑھ کر دم کر دیا۔  دھڑکنیں تیز ہو گٸ۔ جسم میں بھی حرکت انے لگی۔ سردرد غیب، موبائل بند کیا کمبل پھینگ کر بیڈ سے باہر نکلا۔ بدن مسیقی کی اواز پر جھومتا ہوا  محسوس ہو رہا تھا ۔گانے(جو بسو تہ دستی یو موژی  ) کی اواز پر ناچتا ہوا باہر نکلا سب دوست مسکرارہے تھے۔ میں بھول چکا تھا کہ مجھے کھبی سردرد بھی تھا اور حالات کو گالی دیرہا تھا۔ جب رات گزری تو احساس ہوا کہ جس جگہ میرا ٹرانسفر ہوا تھا وہ میرے حق میں بہت بہتر تھا بلکہ یہ میرے دلی ارزو تھی۔  تب احساس ہوا مجھ سے بڑی غلطی ہوگی۔ کہنے کا مطلب ہے کہ دنیا نہیں بدلتا ہے بلکہ ہمارے ذہن بدل جاتے ہیں۔ ان بیس مینٹوں میں  دنیا تو پلٹین  نہیں کھاٸ  بلکہ میرے ذہنی کیفیات بدلتے رہیں۔  دنیا بھی ایسی ہی نظر اتی ہے جیسے تم اسے دیکھتے ہو۔
اسلۓ حالات کو وقت پر چھوڑو ۔


شیئر کریں: