Chitral Times

Nov 29, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حسن اخلاق کی دولت سے مالا مال شخصیت شاہی خطیب مولانا خلیق الزمان۔۔۔تحریر: نورالھدایفتالی

شیئر کریں:

معاشرے کی تعمیر و ترقی میں علمائے کرام کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہر معاشرے کی اصلاح میں ان کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں علمائے کرام قوم و ملت کے رہبر ہوتے ہیں، اسی لئے انکے درجات دوسروں سے بلند ہوتے ہیں، اور انکے مراتب حسبِ لیاقت و صلاحیت فوقیت پاتے رہتے ھیں، انکے کارنامے قابل قدر اور انکے کردار ناقابل فراموش ہوتے ھیں، کیونکہ ایک طرف وہ بانیانِ کردار ہوتے ہیں تو دوسری طرف وہ اخلاق و کمالات کے بانی مبانی بھی کہلانے کے مستحق ہیں۔

انسان کی سب سے اہم خوبی حسنِ اخلاق ہے اِس کا دائرہ کافی وسیع ہےزبان میں ہڈی نہیں ہوتی، یہ گوشت کا ایک معمولی لوتھڑا ہے، پھر بھی زبان اتنی طاقت رکھتی ہے کہ کسی کا بھی سینہ چھلنی کرسکتی ہے اور اِس سے بہت آسانی کے ساتھ دوسرے کا دل ودماغ متاثر ہوسکتا ہے، بے شمار لوگ ہمارے سماج میں ایسے ہیں جو یہ نہیں جانتے کہ زبان سے پھول بھی جھڑتے ہیں اور خوشبو بھی آتی ہے، لوگوں کا دل بھی خوش ہوجاتا ہے اور اُن کو دکھ بھی پہنچ  سکتا ہے، یہی حال انسانی معاملات کا ہے کہ اُن کی وجہ سے جہاں انسان کو عزت، احترام اور وقار حاصل ہوتا ہے ، وہیں اِن کے بگاڑ کی وجہ سے وہ لوگوں میں غیرمقبول، ناپسندیدہ، گرا ہوا انسان سمجھا جانے لگتا ہے کیونکہ انسان اور سماج کے آپسی رشتوں کو اچھے بنانے کے لئے معاملات کا درست ہونا بہت ضروری ہے۔

مولانا  خلیق ا لزمان  ابن مولانا محمد صاحب الزمان کاکاخیل ایک انتہائی نفیس شائستہ ،اور تہذیب اور حسن اخلاق کے  انمول دولت سے مال مال شخصیت ہے۔مولانا خلیق لزمان کے آباو اجداد ۱۷۷۰ کے دہائی میں نوشہرہ سے آ کر چترال کے سب سےخوبصورت گاوں آیون میں آباد ہوئے۔مرحوم مولانا محمد  صاحب الزمان اپنے دور کا ایک انہتائی  قابل  اور درویش   شخصیت گزرا ہے۔وہ شاہی مسجد چترال کا خطیب گزرا ہے۔

ان کے فرزند ارجمند مولانا  خلیق الزما ن اپنے والد گرامی مرحوم مولانا محمد صاحب الزما ن  کے بعد شاہی مسجد کے اعلیٰ اور  قابل احترام عہدے پر  براجمان ہوئے۔

مولانا محمد صاحب الزمان مرحوم کے نسبت یہ مشہور ہے۔

جب ۱۹۶۲ میں پشاور میں  خطابت  کے عہدے کے واسطے ان کا انٹرویو ہوا تھا تو اس دوران مولانا محمد صاحب الزمان سے پوچھا گیا کہ آپ دیوبند ہیں یا بریلوی ہیں۔تو اس وقت مولانا محمد صاحب الزمان نے  بڑے ہی منطقی انداز میں منتظمین کو جواب  دیا،اللہ تعالیٰ کا شکر ہے مجھ پر  بے شمار احسانات ہے،میں مسلما ن اور علاقے کے لحاظ سے میں چھتراری ہوں۔تو  اس وقت وہا ں کے  سب منطضمیں ان کی  اس  منطقی  جواب پر داد دیئے بیغیر رہ نہ سکے۔

۱۹۹۰ تک مولانا  محمد صاحب الزمان  نے احسن طریقے سے بحیثیت خطیب شاہی مسجد اپنے   بہتریں خدمات انجام دیئے۔اس کے بعد اس کے فرزند ارجمند مولانا  خلیق لزمان نے اس اعلیٰ منصب سے منسلک ہوئے، مولانا  خلیق لزمان نے گریجویشن پشاور سے اور مذہبی تعلیم  فاضل وفاق مدارس العربیہ کراچی سے حاصل  کی ہے۔موصوف ایک   استاد بھی ہیں۔ایک سوشل ورکر بھی ہے۔چترال شہر کے اندر  ۶۵غریب  خاندانوں  کی کفالت بھی کرتے ہیں،ان میں بیوہ ،مسکین، شامل ہیں۔اور  ساتھ ساتھ سرکاری سکولوں  اور پرایئوٹ سکولوں میں قابل   اور مستحق بچوں  کو ڈھائی  لاکھ روپے کا انعام بھی دیتے ہیں۔

جبکہ اس  صدقہ جاریہ کو تسلسل سے برقرار رکھتے ہوئے چھترار کے کیلاش کمیونٹی  کی بھی مدد کرتے ہیں اور کیلاش کمیونٹی کے مستحق  بچوں کو بھی اس   وژن میں شامل کیا ہے۔

مولانا  خلیق لزمان  کے زیر سربراہی ایک اصلاحی  کمیٹی بھی  کام کر رہی ہے جس کی  قیاد ت مولانا  خلیق لزمان خود کر رہے ہیں۔اس  کمیٹی کا اصل مقصد  علاقے میں اصلاحی کاموں کو فروع دینا ہے۔

مولانا  خلیق الزمان کہتے ہیں۔میری حیات کا اصل مقصد یہ ہے ہم انسانیت  کو اہمیت دیں۔جو دین ہمیں راستے میں  پڑے پتھر ہٹانے کے لئے درس دیتا ہے۔جو ایک بوند پانی کو ٖفضول ضائع کرنے سے منع کیا ہے ۔تو اس پر عمل پیرا ہو کر ہمیں بھی  اپنے فرایض منصبی احسن طریقے سے ادا کرنے چاہیے۔

وہ کہتے ہیں!!

کاش کہ ہم  قدیم ایام  کے چھتراری روایات ،اتفاق،رواداری، ثقافت،پھر سے زندہ کرے،اور اپنے آباواجداد اپنے اکابرین،معتبرات،  کے نقش قدم پر چل کر ایک چھتراری ہو کر  ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر چلتے   تو ہم ضرور کامیاب ہونیگے۔

چھترار ایک حساس علاقہ ہے،ہمیں  ایک دوسرے کا احترام  ایک دوسرے  کو برادشت کرنا چاہیے۔


شیئر کریں: