Chitral Times

Jan 25, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کشمیریوں سے عملی یکجہتی کب ہوگی تحریر :محمد نفیس دانش

شیئر کریں:

یہ عنوان دیکھ کر ایک دفعہ آپ ضرور حیرت کی وادیوں میں ڈوب گئے ہوگئے کہ ہم تو ہر سال 5 فروری کو رسمی یکجہتی کشمیر مناتے ہیں تو پھر یہ عنوان کیسا…. ؟جی بالکل حقیقت یہی ہے کہ جیسے ہی فروری کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو جماعت کے سربراہان کی طرف سے سوشل میڈیا پر رسمی بیانات نشر ہونا شروع ہو جاتے ہیں کہ” ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں اور سیاسی و اخلاقی حمایت کرتے رہیں گے ، کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 5 فروری کو ملک گیر سطح پر یوم یکجہتی کشمیر منائیں گے ، اقوام متحدہ کو چاہئے کہ کشمیریوں پر ظلم و ستم بند کرایا جائے اور کرفیو کا فی الفور خاتمہ کیا جائے ، ہم کشمیریوں کے حقوق کی خاطر اس دفعہ یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منائیں گے۔الغرض یہ گردشی اور رسمی بیانات ہم ستر سال سے سنتے آرہے ہیں،لیکن کشمیریوں کو ان کا تسلیم شدہ حق خودارادیت دے دیا جائے تو کون سی قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ کیوں ختم نہیں ہو رہا ہے؟ انہیں بغیر وجہ بتائے کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ ان کا مستقبل کیا ہو گا، انہیں اپنے مذہب اور ثقافت کے مطابق زندگی گزارنے سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ ان تمام باتوں کو کشمیری ہر لمحہ محسوس کرتے ہیں، سوچتے ہیں۔

ان سوالوں کے آخری حل پر سوچ و بچار کرتے ہیں، بھارت اور پاکستان، چین اور عالمی طاقتوں کے موقف اور رویے کا تجزیہ کرتے ہیں۔ پاک بھارت جنگوں اور روزانہ کی بنیاد پر اپنے پیاروں کی گرتی ہوئی لاشوں کو اٹھاتے ہیں۔ کشمیر جنت نظیر کو کھنڈرات اور ویرانے میں بدلتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہ عمل ستر برس سے ان کی آنکھوں کے سامنے دوہرایا جا رہا ہے۔ تیسری نسل قتل گری اور ناموس و تقدس پر حملے دیکھ رہی ہے۔ یہ سب کچھ برداشت کیا گیا۔ تیسری نسل کو دوسری نسل نے پہلی کا یہ پیغام دیا کہ کشمیر کے تمام انسان تہہ تیغ کر دیے جائیں، ان کے چمنستانوں کو جلا دیا جائے، مسکنوں کو گرا دیا جائے، اس کی پروا نہ کرنا اور ہندو کا ناپاک قبضہ مستقل نہ ہونے دینا۔


رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گیا 
آج مسئلہ کشمیر جس قدر دنیا کے سامنے آچکا ہے اور ہندوستانی مظالم کا پردہ چاک ہو رہا ہے، اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے جارحانہ خارجہ پالیسی اور دفاعی انداز کی ضرورت ہے۔ آخر ہمارے دوست ممالک سمجھے جانے والوں کو یکایک کیا ہوگیا کہ یہ قاتل و سفاک مودی کو اعلیٰ ترین سول ایوارڈ دینے لگے ہیں، اپنے ممالک میں بڑے پیمانے پر بت کدے تعمیر کروا رہے ہیں، مودی کیساتھ بھاری رقوم کے اقتصادی پراجیکٹ سائن کر رہے ہیں، کہاں گئی وہ امت مسلمہ کی غیرت اور نام نہاد اسلامی قیادت کا دم بھرنے والے، جن کو یمن، بحرین، شام، عراق، لبنان میں سازشیں کرنے اور ان کو تہس نہس کرنے سے فرصت نہیں، عالمی اتحاد بنا کر اپنے ہمسائے مسلم ممالک کو تباہ برباد کرکے رکھ دیا ہے، ان کو ارض مقدس فلسطین اور جنت ارضی کشمیر میں سسکتے مسلمان بچے، چیختی مسلمان مائیں بہنیں اور تاراج ہوتی بستیاں کیوں دکھائی نہیں دیتیں…..! 

یقین مانیں کہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ کشمیر جنت نظیر وادی ہے ، لیکن اس کے مکین اس لحاظ سے بدقسمت ہیں کہ اس وادی کو حکمران سوداگر ملے ، جنہوں نے کشمیریوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے ہمیشہ وہاں کے لوگوں کا استحصال کیا ، 16 مارچ 1846 کو انگریز نے 75 لاکھ کے عوض کشمیر گلاب سنگھ ڈوگرہ کو فروخت کیا ، امرتسر معاہدہ ہوا جس کے بعد اس کا بیٹا زنبیر سنگھ جانشین بنا ، پھر پرتاب سنگھ جانشین بنا ، وہ افیون کا نشہ کرتا تھا ، پھر امر سنگھ کا بیٹا ہری سنگھ سازش سے جانشین بنا. حکیم نور دین جو مرزا قادیانی کا دست راست اور سرکاری حکیم تھا اس سازش میں پیش پیش تھا ،

قادیانی کشمیر میں الگ قادیانی ریاست کے خواہاں تھے ، ہری سنگھ 1925 میں گدی نشین بنا جسے قادیانی حمایت حاصل تھی ، اس کے بعد مسلمانوں پر ظلم و استبداد شروع ہوا ، 1929 میں شیخ عبد اللہ نے ریڈنگ روم تنظیم اور اے آر ساغر نے ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن بنائی ، 1931 میں پہلی مسجد ریاسی میں شہید ہوئی ، کوٹلی میں نماز جمعہ پر پہلی بار پابندی لگائی گئی ، ایک ہندو کانسٹیبل نے قرآن کریم کی بے حرمتی کی ، عبدالقدیر نامی مسلمان نے بے مثال احتجاجی جلسے کئے ، وہ گرفتار ہوا تو پھر مسلمانوں کا قتل عام شروع ہو گیا ، جس کے بعد تحریک آزادی کشمیر 1931 میں مکمل شروع ہوئی ، 25 جولائی 1931 میں فئیر ویو منزل شملہ میں ایک میٹنگ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی بنیاد رکھی گئی ، جس کی صدارت قادیانی مرزا بشیرالدین محمود نے کر ڈالی یہ مرزا قادیانی کا بیٹا تھا کیونکہ اس نے پروپیگنڈہ کیا کہ تمام مسلمان قادیانی کے نبی ہونے کو مان چکے ہیں اسی لیے مرزا بشیر کو صدر منتخب کیا ، اس کمیٹی میں علامہ اقبال بھی شامل تھے ، سازش بے نقاب ہوئی تو سب مسلمان فورا اس کمیٹی سے دستبردار ہوئے ،پھر عطاءاللہ شاہ بخاریؒ فورا کشمیر بھیجے گئے۔


شیئر کریں: