Chitral Times

Nov 29, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کالجوں میں پرنسپلز کی میرٹ پرتعیناتی کیلئے معیار تیار، انٹرویوز خود لونگا: کامران بنگش

شیئر کریں:

قائدانہ صلاحیتوں کے حامل اساتذہ سے پچاس کالجز میں میرٹ کی بنیاد پر پرنسپلز کی تعیناتی کے لئے درخواستیں طلب، کامران بنگش

وزیراعلی خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش کی زیر صدار ت محکمہ اعلی تعلیم کے اعلی سطح اجلاس میں اہم فیصلے کئے گئے۔جن میں شفافیت، میرٹ اور قائدانہ صلاحیتوں کے حامل گریڈ 19 اور 20 کے اساتذہ کرام سے پچاس کالجوں میں پرنسپلز کی تعیناتی کے لئے درخواستیں طلب کر لی گئیں۔ اس سلسلے میں پرنسپلز کی تعیناتی کے لئے محکمانہ سرچ کمیٹی قائم کردی گئی۔معاون خصوصی
کامران بنگش نے معیاری اعلی تعلیم کے حصول کے لئے پرنسپلز اور اساتذہ کے کردار کو سراہا اور میرٹ پر تقرری کو قابل عمل بنانے کے لئے بہترین پرنسپلز کی تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ پرنسپلز کی تعیناتی بارے میں اجلاس میں یہ بات واضح کی گئی کہ سزا اور جزا کے عمل کی بنیاد پر اساتذہ کی تقرری اور تعیناتی کی جائے گی۔
بہترین پرنسپل چند ماہ میں متعلقہ کالجز کے معیار کو اوپر لے جائیں گے اور ایک معیار کے تحت ہی پرنسپلز کی تعیناتی ہوگی۔اس ضمن میں پچاس کالجوں میں پرنسپلز کی طعیناتیوں کیلئے معیار تیار کرلیا گیا ہے جس کے تحت پہلی مرتبہ انٹرویو اور میرٹ کی بنیاد پر کالج کے پرنسپلز کی تعیناتیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں: کامران بنگش


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعلی خیبر پختونخواکے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلی تعلیم کامران بنگش نے کہا ہے کہ پہلی دفعہ کالجوں میں پرنسپلز کی تعیناتی کیلئے محکمانہ معیار کے مطابق سیٹ کرائیٹیریا تیار کرلیا گیا ہے۔اس معیار کے تحت پچاس کالجوں میں پرنسپلز کی آسامیوں کو پُر کیا جارہا ہے جس سے تعلیمی اداروں کو قائدانہ صلاحیت کے حامل رہنما چلائیں گے۔ وہ محکمہ اعلی تعلیم کے کمیٹی روم میں اعلی سطح اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ اجلاس میں سیکرٹری اعلی تعلیم داود خان، ایڈیشنل سیکرٹری، ڈائریکٹر کالجز، کوالٹی اشورنس اور ڈائریکٹوریٹ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ پچاس کالجز کیلئے ڈائریکٹوریٹ آف ہائیر ایجوکیشن پرنسپلز کی آسامیوں کیلئے دلچسپی رکھنے والے امیدواروں سے درخواستیں وصول کرے گا۔ ان درخواستوں میں متعلقہ کالجوں کیلئے دلچسپی ظاہر کرنے والے امیدواروں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ جس کیلئے ڈیپارٹمنٹل سرچ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ درخواستوں کی جانچ پڑتال ایڈمنسٹریشن، کالج مینجمنٹ پلان اور مارکیٹ لنکجز سمیت دیگر اکائیوں پر ہوگی۔

\کامران بنگش کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ کالج پرنسپلز کی تعیناتیاں میرٹ اور طلبا کے وسیع تر مفاد میں کررہے ہیں۔ کالج پرنسپلز کیلئے بھی کرائیٹیریا بنادیا گیا ہے۔ پرنسپلز کی آسامی کے لئے خواہشمند امیدواروں کی پروفائل سکورنگ ہوگی۔ سکورنگ میں امیدواروں کے پچھلے کیرئیر، ایڈمنسٹریشن اور قائدانہ صلاحیت سمیت سافٹ سکلز اور مارکیٹ لنکجز جیسی بنیادی اکائیوں پر سکورنگ ہوگی۔ زیادہ سکور کرنے والے امیدوار ان آسامیوں پرتعیناتی کے اہل قرار دیے جائینگے۔ معاون خصوصی نے پرنسپلز کی آسامیوں کیلئے بھیجی جانی والی سمری کو یکسر مسترد کرتے ہویے کہا کہ آج سے محکمہ اعلی تعلیم میں کسی بھی طیناتی کیلئے معیار اور میرٹ کو اہمیت دی جائیگی۔ اداروں کو چلانے کیلئے کچھ کر گزرنے کے خواہش رکھنے والے قائدین چا ہییں۔خانہ پُری سے کام نہیں چلے گا۔ ہر کسی کو اپنے عہدے اور اختیارات کے مطابق ڈلیور کرنا ہوگا۔

معاون خصوصی کامران بنگش نے اپیل کی کہ جن اساتذہ میں قائدانہ صلاحیت ہے اور وہ مستقبل کا لائحہ عمل رکھتے ہیں اور محکمہ اعلی تعلیم میں طلبا کیلئے کچھ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں ان کیلئے سنہری موقع ہے کہ وہ آگے آئیں اور محکمہ میں جاری اصلاحات کا حصہ بن کر تعلیمی میدان میں اپنا لوہا منوائیں۔ کامران بنگش نے بتایا کہ میرٹ کی بالادستی اور میرٹ کے تحت تعیناتی پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا حصہ ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ کالجوں کے معیار کی بہتری بچوں کے مستقبل سے جُڑی ہے۔ پچاس کالجوں سے شروعات کی ہے۔ تین سو کالجوں میں پرنسپلز کی تعیناتیاں اسی عمل کے تحت کی جائیں گی۔ یونیورسٹیاں اور کالجز پاکستان کی سطح پر نہیں بلکہ دنیا کی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے طلبا کو تیار کریں۔ معاون خصوصی کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق وزیراعلی محمود خان کی قیادت میں تعلیمی اداروں کو مثالی بنارہے ہیں۔ پرنسپلز کی کارکردگی جانچنے کیلئے پیمانہ تشکیل دیا گیا ہے۔ جن میں کام کرنے کی لگن ہے وہ سامنے آئیں۔ سزا اور جزا کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ جو ڈلیور نہیں کرسکتا اس کیلئے محکمہ میں کوئی جگہ نہیں۔


شیئر کریں: