Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میری ڈائری کے اوراق سے——( حسن علی شاہ کا کنبہ ایک اعلیٰ تربیت گاہ)…تحریر: شمس الحق قمر ؔ

شیئر کریں:

یہی کوئی پانچ فٹ آٹھ انچ کا سیڈول، متناسب اور بے حد جاذب نظر قد کاٹھ ، قدرے گول اور ہر پل مُسکراتی آنکھوں کے اوپر سنگم سے گھنی لیکن کناروں سے ہلکی اور سُنڈ مُنڈ  آبرو، کشادہ ماتھا، سرپر پتلے پرت بال ، بھرا چہرا، اُبھرے رخساراور دائیں رخسار پر تل ۔ لیجئے یہ ہیں چترال کے جنت سنوغورکے باسی اور نوجواں بنکر حسن علی شاہ۔ ایبٹ آباد میں رہتے ہیں ۔

Hassan Ali Shan

            یہ میری موصوف کے ساتھ پہلی ملاقات تھی جس میں آپ کی شخصیت کی کچھ ایسے پہلو دیکھنے کو ملے کہ مجھے اُن کی ہر بات پردلچسپی کے ساتھ توجہ دینی پڑی ۔ انگریزی میں ایک کہاوت مشہور ہے کہ First impression is last impression ۔ یہ تجربہ آپ کا بھی ضرور رہا ہوگا کہ کچھ لوگوں کے ساتھ پہلی ملاقات میں ہی آپ کو بلا وجہ غصہ آنے لگتا ہے۔ برعکس اس کے  کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پہلی ملاقات اورپہلی نظرہی میں آپ کے دل میں اُتر آتے ہیں ۔ حسن علی شاہ سے میری پہلی ملاقات اُنہیں مؤخر الذکر لوگوں کی صف میں دیکھنے کا سبب ثابت ہوئی۔ ہماری ملاقات کیسے ہوئی اور کیوں کر ہوئی ؟ ایئے یہ گتھتی بھی سلجھاتے ہیں۔ میں گزشتہ دوعشروں سے گلگت میں مقیم ہوں معمول کچھ ایسا ہے کہ سردیوں میں 10 یا 15 دنوں کے لیے اسلام آباد میں رہنے والے بہن بھائیوں سے ملاقات کے بہانے گرم مرتوب آب و ہوا کا لطف بھی اُتھا تا ہوں   ۔

طریقہ واردات یہ رہا ہے کہ گلگت سے لیکر اسلام آباد تک کی طویل سفرکے دوران راستے میں آُن جگہوں پر پڑاؤ ڈالتا ہوں اور گھوڑا بیچ کے سوتا ہوں جہاں ہمارا کوئی نہ کوئی تعلقدار بسا کرتا ہوں۔ اس بارلب شاہراہِ ریشم آباد ، بہت سے رفقأ کو فون پر اطلاع دے رکھی تھی کہ جہاں شام ہوگی وہاں آرام ہوگا لہذا میرا قیام اور طعام کا بندوسبت ہو جائے ۔ گوکہ میں نے حسن علی شاہ کے بارے میں سنا تو تھا کہ وہ ایبٹ آباد میں رہتے ہیں، اچھا آدمی ہے اور تپاک سے ملتے ہیں بلکہ مجھے سابق ایم پی اے پیر سید سردار حسین صاحب نے یہاں تک کہا تھا کہ جب بھی ایبٹ آباد سے گزر کے کہیں جانا ہو تو حسن بھائی کو نہیں بھولنا  لیکن میں ایک اعلیٰ منصب پر فائز بنکر کے دفتری معمولات میں مخل ہونا ہر گز نہیں چاہتا تھا لہذا اس بار اسلام آباد جاتے ہوئے ایبٹ آباد سے کسی کو کان و کان خبر کیے بغیر گزرگیا لیکن اسلام آباد سے واپسی پر میری گاڑی میں تھوڑا سا فتورآیا تو مجھے  ایبٹ آباد میں کسی مکینک کے پاس جانا پڑا چونکہ میرے ساتھ فیملی تھی لہذا میں نے مناسب یہ جانا کہ بجائے کسی ہوٹل میں جانےکے حسن علی شاہ صاحب کو فون پر اطلا ع دی جائے کہ گاڑی مرمت ہونے تک ہم کچھ گھنٹوں کےلئے اُن کے گھر قیام کریں گے ۔

ایبٹ آباد کے قریب پہنچ کر ہم نے حسن بھائی کو فون کیا اور درخواست کی کہ اپنے گھر کا محل وقوع گوگل میپ پر بھیجدے تاکہ ہم آُن کے گھر پہنچ جائیں  لیکن انہوں نے ہمیں شاہراہ کے ساتھ ہی ایک جگہے کی نشاندہی کی اور وہاں آکر ہمیں اپنے گھر لے جانے کا  فیصلہ کیا ہمارا بہتیرا مانع ہونے پر بھی اپنی ضد جاری رکھی۔ ہم مقررہ جگہے پر جاکے جیسے ہی رکے تو پیچھے سے ایک سفید کارآکر کھڑی ہوئی ۔ ایک سانولا سلونا سا نوجواں اترے شہر میں زیادہ رہنے کی وجہ سے چال ڈھال سے شہری بابو لگ رہے تھے۔ لیکن ابتدائی مسکراہٹ میں بلا کی اپنائیت تھی۔ مصافحہ سے قبل ہی میں بے تکلف ہو چکا تھا کیوں اُن کی طرف سے نکلنے والی بے تکلفی اور اپنائیت کی  شعاعیں میرے دل کے آر پار ہو چکی تھیں ۔ یہ صبح کے 9 بجکر 30 منٹ کا وقت تھا  یعنی اُن کی دفتری حاضری کا انتہائی حساس وقت ۔ جس جگہے میں آکر انہوں نے ہمارا استقبال کیا تھا وہ آپ کے گھراور دفتر دونوں سے خاصے طویل مسافت پر واقع تھی ۔ ہم نے سطحی طور پر اُن کی پُر تکلف اندازِ مہمان نوازی پر شکریے کے دو الفاظ بولنے کی ناکام کوشش کی تو انہوں نے کہا ” بھائی یہ دفتری کام وغیرہ تو دنیا داری کے کام ہیں آپ میرے لئے قابل اہمیت و تکریم ہیں آپ کو اتنا وقت بھی نہیں دے سکا تو پھر ایسی ملازمت انسان کے اوپر بوجھ کے علاوہ کچھ نہیں ”  ہم جب اُن کے گھر پہنچے تو اُن کے اعلیٰ تربیت یافتہ بچوں کے انداز نشست و برخواست اور طرز تخاطب و تکّلم سے اندازہ ہوا کہ ہم آج ایک غیر معمولی شخصیت کے یہاں مہمان ٹھہرے تھے کہ جن کے خاندان چترالی روایات کا امین ہے ۔

ہمارے اُن کے گھر پہنچنے سے پہلے آپ کا بچہ محلے کی گلی سے نکل کر مین روڈ پر ہمارے استقبال کے لئے آیا ہوا تھا جبکہ ہمارے پہنچتے ہیں  آپ کی بچی نے گھر کا دروازہ کھولا اور ہم سے خالص کھوؤ انداز میں مصافحہ کیا۔  ہم جب چھوٹے تھے تو ہمارے ماں باپ ہمیں ایسے ہی پر خلوص تربیت سے گزارا کرتے تھے لیکن جب ہم والدین بنے ہیں تو یہ روایات عنقا ہوئیں ۔ ہم جب باہر سے آتے ہیں تو ہمارے بچے  تعظیماً کھڑے  ہونے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے تسلیمات بجا لانے کی توقع تودور کی بات ہے ہم جب چھوٹے ہوتے تھے تو بڑی تکلفات میں زندگی گزارتے تھے جیسے کوئی بڑا بات چیت کرتے تو خاموشی سے سننا ، بڑے کی تزریف آوری پر تعظیماً کھڑے ہونا، کھانہ کھاتے وقت بڑوں کا انتظار کرنا، اگر کوئی مہمان گھر پر تشریف لائے تو اُسے وقت دینا وغیرہ ہماری تہذیب کا حصہ تھے لیکن آج یہ تمام اقدار غارت ہیں ۔   لیکن ایک واحد گھر میں نے حسن بھائی کا دیکھا جس کا ماحول  شہر میں رہنے کے باوجود بھی چترالی تہذیب کا آینہ دار ہے۔ میں بڑے غور سے اس گھر میں موجود دو بچوں کا مشاہدہ کرتا رہا  ، بچوں کے پاس موبائل تو تھے لیکن ہمارے سامنے اُنہوں  نے مبائل سے کھیلنے کی قطعی طور پر کوشش نہیں کی۔ بچے تو بڑوں سے سیکھتے ہیں ۔ بچوں کو نصیحت سے سکھایا نہیں جاتا بلکہ وہ ہماری حرکتوں سے سیکھتے ہیں ۔ ہمیں بچوں کی تربیت کا طریقہ حسن علی شاہ سے سیکھنا چاہئے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ کوئی جائے اُن کے گھر اور دیکھے کہ جب  زندگی سادگی اور علاقائی اقدار کے ساتھ گزاری جاتی ہے تو کتنی پر سکون ،  پر لطف اور رنگین نظر آتی ہے۔

            حسن علی شاہ کی جس خصوصیت نے مجھے بے حد متاثر کیا وہ اُن کی سادہ مزاجی اور اپنائیت تھی۔ وہ لوگوں کی ظاہری نمود نمائش کا رونا روتا رہتا ہے لیکن نقار خانے میں طوطے کی آواز کوں سنتا ہے۔ موصوف حبیب بنک کے ڈپٹی جنرل منیجر ہیں جوکہ  ایک معتبر عہدہ ہے لیکن ٹھاٹ باٹ والی زندگی سے کوسوں دور ہیں  ۔ اُن کی کامیاب زندگی کا ایک ہی راز ہے جوکہ اُن کے  انداز گفتگو سے چھلکتا ہے ۔ آپ یہ الفاظ تکیہ کلام کے طور پرہمیشہ  استعمال کرتے ہیں  ” جو آدمی گردن میں  ہمیشہ سریا ( دھات کی سلاخ) لے کے چلتا ہے اُس کی شخصیت سکڑ جاتی ہے ” یعنی تکبر اور غرور کا سر ہمیشہ نیچا ہوتا ہے ۔ وہ خود بھی کسی آسائش پر گھمنڈ نہیں کرتے اور نہ گھمنڈ کرنے والوں کو اچھا سمجھتے ہیں ۔ اس پر بھی مستزاد یہ کہ قوم قبیلے  کے بکھیڑوں سے بہت دور اور انسان کو انسان کی کسوٹی پر ناپنے کے ہامی ہیں ۔ ہماری بہت ساری بات چیت ہوئی ۔ ہم رات دیر تک محو گفتگو رہے ۔ ہمیں چونکہ صبح سویرے یعنی چار بجے نکلنا تھا ۔ سونے سے پہلے انہوں نے ہم سے جاگنے اور ناشتہ کرنے کا وقت پوچھا ہم نے ہزار بار روکا کہ ہم صبح سویرے نکلیں گے اور راستے میں کہیں ناشتہ کریں گے لیکن ہم صبح ساڑھے چار بجے اٹھے تووہ ہم سے پہلے اُٹھ کر ہمارا انتظار رہے تھے اور ناشتہ بھی تیار تھا ۔ ہم نے ناشتہ کیا اور حسن سمیت اُن کے جملہ خاندان نے ہمیں رخصت کیا ۔ میرے اس کہانی کو تحریر میں لانے کا جو اصل مقصد ہے یہ ہےکہ ہمارے معاشرے میں خاندانی روایات اب بھی باقی ہیں ۔ ہمیں ایک دوسرے کو وقت دینا چاہئے اور ایک دوسرے  سے سیکھتے ہوئے اپنی اچھی روایات کو زندہ رکھنا چاہئے۔  حسن علی شاہ کے گھر  قلیل قیام مگر طویل تہذیب سیکھی ۔  میں یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہوں کہ حسن علی شاہ کا کنبہ ایک اعلیٰ تربیت گاہ ہے ۔


شیئر کریں: