Chitral Times

May 14, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مختصر تعارف….خاطرات: امیرجان حقانی

شیئر کریں:


خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ ﷺ کے بچپن کے دوست ہیں اور آپ ﷺ کے سفر و حضر کے ساتھی اور رفیق خاص ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے جب نبوت کا اعلان کیا تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پہلے مرد تھے جنہوں نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا اور اسلام قبول کیا۔یہ اعزاز بھی حضرت  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔


حضرت ابوبکر صدیق کا نام عبداللہ ہے۔ ابوبکر آپ رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے اور صدیق لقب ہے۔صدیق کے ساتھ عتیق بھی لقب ہے۔ یہ دونوں القاب حضرت  ابو بکرصدیق کو رسول اللہ ﷺ نے عطا کیے ہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے والدماجد کا نام عثمان ، کنیت ابوقحافہ بن عامر ہے۔ والدہ ماجدہ کا نام  سلمی اور کنیت اُم الخیر ہے۔اور آپ رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اُم رومان کے نام سے یاد کیا جاتا ہےـحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نسب اٹھویں پشت میں رسول اکرم ﷺ سے جاملتا ہے۔


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ولادت باسعادت عام فیل سے تین سال بعد 573 ع میں ہوئی ہے۔یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک سے دو سال کچھ مہینے بعد میں ہوئی ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بہت بڑے رحم دل تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا حلیہ مبارک بہت خوب صورت تھا۔آپ رضی اللہ عنہ کا رنگ سفید تھا ۔جسم مبارک لاغر تھا اور رخساروں پر گوشت کم تھا۔آپ رضی اللہ عنہ کی  پیشانی ابھری ہوئی اور بال سفید ہوگئے تھے۔


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان بہت ہی نرالی تھی۔رسول اکرم ﷺ کی رفاقت میں آپ سب سے سابق و فائق اور اعلی تھے۔آپ ﷺ کے جانشین مقرر ہوئے اور آپ ﷺ نے انہیں اپنا اولین وزیر منتخب کیا تھا۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ نے کے تین بیٹے تھے۔ایک کا نام حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ، دوسرے کا نام عبدالرحمان رضی اللہ عنہ اور تیسرے کا نام حضرت محمد رضی اللہ عنہ تھا۔اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ کی تین ہی بیٹیاں تھیں ـحضرت اسماء، یہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما  کی والدہ ماجدہ تھی۔حضرت اسماء اور ان کا صاحبزادہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا ذکر تاریخ اسلام میں انتہائی نڈر اور بہادر صحابہ میں کیا جاتا ہے۔


حضرت  ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دوسری بیٹی اُم المومنین سیدۂ کائنات حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ تھی۔ اور تیسری اُم کلثوم جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے وقت شکمِ مادر میں تھیں۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا::”میری امت میں سے میری امت کے ساتھ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ابوبکرؓ ہے ۔ “ ( ترمذی)


اللہ رب العزت نے  رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:
ثاني اثنين اذ ھما في الغار اذ يقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا فانزل اللہ سکينتہ علیہ( التوبہ)
 دو میں سے دوسرا جب غار میں اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غمگین مت ہو بے شک خدا ہمارے ساتھ ہے۔ پھر اللّٰه‎ نے اس پر سکینہ(اطمینان) نازل فرمایا۔
یہی خاص بات تھی کہ صدیق اکبر رسول اللہ کے یار غار کہلائے اور یہ ٹائٹل غیر معمولی ٹاٹئل ہے۔اللہ کے رسول ﷺ نے انہیں  حوصلہ دیا اور اللہ نے سکینہ اتارا۔ ایسا مرتبہ کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔
 حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
“ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جنت کے بڑی عمر والوں کے سردار ہیں سوائے انبیاء ومرسلین علیھم السلام”(ترمذی)


حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات 22 جمادی الثانی 13ہجری بروز دو شنبہ مغرب اور عشاءکے درمیان  ہوئی۔ 7 جمادی الثانی 13 ہجری کو حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰه‎ عنہ نے غسل  فرمایا ۔اس دن بہت سردی تھی جس کی وجہ سے آپ رضی اللہ کو شدید بخار ہوا۔ بخار کا یہ دورانیہ پندرہ دن تھا۔سیدنا  حضرت عمر فاروق رضی اللّٰه‎ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تدفین ام المومنین  سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک میں ہوئی۔یعنی آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ وفات کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی عمر 63 سال تھی


یہ تحریر ریڈیوپاکستان کی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیریز ، 2021کی  ٹرانسمیشن کے لیے خصوصی لکھی گئی ہے اور ریکارڈ کروائی گئی ہے۔ حقانی


شیئر کریں: