Chitral Times

Mar 2, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت بلتستان میں سماجی ہم آہنگی اور قیام امن کے موضوع پرامیرجان حقانی کا تحقیقی پراجیکٹ مکمل

شیئر کریں:


گلگت(چترال ٹائمز رپورٹ) گلگت بلتستان میں سماجی ہم آہنگی اور قیام امن کے  موضوع پر امیرجان حقانی نے اپنا  تحقیقی پروجیکٹ مکمل کر لیا۔علامہ اقبال اوپن یونوسٹی  اسلام آباد کی فیکلٹی آف عرابک اینڈ اسلامک اسٹڈیز کے شعبہ فکر اسلامی، تاریخ و ثقافت سے پروفیسر ڈاکٹر محی الدین ہاشمی سے ایم فل کی تکمیل کی۔29 جنوری کو تھیسز کا کامیاب ڈیفنس کیا۔ایم فل وائیو میں بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کے اسلامک ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین بابر نے بطور ایکسٹرنل ممتحن کے حصہ لیا انہوں نے ہی تھیسز کا تفصیلی جائزہ لیا تھا۔بہاوالدین زکریا  یونیورسٹی کےڈیپارٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عبدالقدوس شعیب نے  بھی وائیوا میں خصوصی شرکت کی۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ڈین آف فیکلٹی پروفیسر عبدالحمیدخان عباسی، شعبہ مطالعات بین المذاہب کےپروفیسر ڈاکٹر حافظ سجاد،شعبہ قرآن اینڈ تفسیر کے پروفیسرڈاکٹر ثناء اللہ،شعبہ شریعہ اینڈ لاء کے ڈاکٹرہدایت خان اور ڈاکٹر طاہراسلام عسکری نے امیرجان حقانی سے تحقیقی کام پر تفصیلی سوالات کیے۔

سوال وجواب کی نشست چالیس منٹ پر مشتمل رہی۔گلگت بلتستان کے تمام اہم امور پر پروفیسروں نے سوالات کیے جن کا مفصل جواب امیرجان حقانی کی طرف سے دیا گیا۔ مجموعی طور پر  نشست کے تمام ممتحنین نے تحقیقی کام کو سراہا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔امیرجان حقانی نے اپنے تحقیقی پروجکٹ کے متعلق بتایا کہ عام طور پر لوگ پرانے اور غیر ضروری موضوعات پر ایم فل پی ایچ ڈی کرتے ہیں تاہم مجھے ایک زندہ اور نیا موضوع پر کام کرنے کا موقع ملا۔اور اپنے علاقے کی خدمت کا یہی بہترین طریقہ ہے کہ اہل علم تحقیق کی روشنی میں مختلف شعبوں کے لیے تجاویز دیں۔بہت جلد اس تحقیقی کام کو کتابی شکل دیا جائے گا تاکہ اہل علم کیساتھ عام لوگ بھی چار سال کی اس تحقیقی کاوش سے فائدہ اٹھا سکیں۔اس تحقیق میں گلگت بلتستان  کی اسمبلی، حکومت اور عوام نے گلگت بلتستان میں قیام امن کے لیئے جو امن معاہدات و ضوابط ترتیب دیے ہیں ، ان کا اسلامی تعلیمات اورآئین پاکستان  اور بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں خصوصی مطالعہ کیا گیا ہے۔ان معاہدات کے اثرات اور نتائج کا زیر بحث لایا گیا ہے۔

گلگت بلتستان کے امن معاہدات اور معاہدات نبوی ﷺ کا تقابلی جائزہ  لے کر اہم نکات پیش کیے گئے ہیں ۔ان معاہدات کی کچھ دفعات غیر اسلامی اور غیر آئینی وقانونی ہیں ان پر کام کرکے درستگی کی بات کی گئی ہے۔پانچ سو صفحات پر مشتمل اس  تحقیقی کام میں گلگت بلتستان کی تاریخ و ثقافت، آئینی پوزیشن، اسمبلی کے ارتقائی مراحل، گلگت بلتستان کے چار مکاتب فکر کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی گئی ہیں۔گلگت بلتستان میں 1982 سے 2012 تک اٹھ امن معاہدات ہوئے ہیں ان کا متن، پس منظر اور ان کا تجزیاتی و تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔سماجی ہم آہنگی  اور قیام امن کے متعلق ایک سوال کے جواب میں ریسرچ اسکالر امیرجان حقانی نے بتایا کہ سماجی ہم آہنگی اور رواداری کا مفہوم ،گلگت بلتستان میں سماجی ہم آہنگی کا مسئلہ،گلگت بلتستان میں بین المسالک ہم آہنگی کے فقدان کے سماجی اثرات،گلگت بلتستان میں بین المسالک ہم آہنگی نہ ہونے کے اسباب و علل ،سماجی، مذہبی اور علاقائی مشترکات اور دیگر موضوعات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس طرح قیام امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر قابل عمل منصوبوں کے خاکے پیش کیے گئے ہیں جن میں بین الاضلاع و المسالک مصالحتی کونسل کا قیام،گلگت بلتستان علماء مشاورتی کونسل کا قیام،امن جرگے کو قانون حیثیت دینا،محکمہ اوقاف کادائرہ کار گلگت تک پھیلانا اور  گلگت اسمبلی میں علماء و مشائخ  کی خصوصی نشتیں مقرر کرنے پر زور دیاگیا ہے۔

اسی طرح تحقیقی پروجکٹ کے آخر میں حکومت پاکستان اور گلگت بلتستان کے لئے خصوصی تجاویز دی ہیں  جن پر عمل پیرا ہونے سے گلگت بلتستان میں بہترین سماجی ہم آہنگی اور قیام امن ممکن ہوسکے گا۔انہوں نے گلگت بلتستان میں بدامنی کے اسباب کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس تحقیق میں وہ اسباب بیان کیے گئے ہیں جن کی وجہ سےبدامنی ہوتی ہے ان میں  مقدس شخصیات پر سب و شتم،سماجی دوریاں اور فاصلے،اشتعال انگیز چاکنگ،غلو اور تنقیص وتکفیر،اشتعال انگیزی اورتعصب،مفروضات و توہمات،تحقیق و مطالعہ کا فقدان،جہالت اور لاعلمی،افہام و تفہیم اور مکالمہ  سے گریز، الزام تراشیاں،علماء اور دانشور وں کی خاموشی، ذرائع ابلاغ اور اخبارات کی تقسیم،ریاستی اور انتظامی  امتیاز،فرقہ وارانہ تقسیم  پر مشتمل  تعلیمی ادارے اورنصاب تعلیم، پراکسی وار  میں ملوث ہونا،رفاہی اداروں کا کردار، فرقہ پرست تنظیمیں اور پارٹیاں، اورسوشل میڈیا کی شرانگیزیاں  قابل ذکر ہیں ان سے بچنے پر زور دیا۔

ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قیام امن اور سماجی ہم آہنگی کے لیےنسل نو کو تیار کرنا،مابین اضلاع ادبی و سماجی پروگرمات،سیاحتی اور مطالعاتی دورے اور بین الاضلاعی کھیلوں کا انعقاد،بین الاضلاعی ازدواجی رشتے اور آباکاری،مجرمین کی پشت پناہی سے اجتناب کرنا،علماء کرام اور دانشواروں کو مجرمانہ خاموشی سے گریز کرنا، میڈیا کا مبالغہ آرائی اور حقائق مسخ کرنے سے گریز کرنا،عشرہِ رسالت ﷺ کا انعقاد کرنا،تعلیمی اداروں میں مختلف مسالک و علاقوں کے طلبہ کے مخلوط  داخلے اور یکساں نصاب اور این جی اوز کو اپنا کردار بدلنے کی ضرورت ہے۔امیرجان حقانی نےاس تحقیقی کام میں  علمی اور تیکنیکی معاونت کرنے والے تمام اساتذہ کرام، احباب اور بالخصوص تنویر احمد ،قاضی نعیم اور محمد یوسف کا شکریہ ادا کیا۔


شیئر کریں: