Chitral Times

Oct 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شیطان دلال؛ لالچی باپ؛ مظلوم بیٹی… ابوسلمان

شیئر کریں:

بحیثیت چترالی قوم ھمیں یہ سوچنا چاھیئے کہ آ خر ھم کب تک اپنی بچیوں کو یوں ظلم اور بربریت کا نشانہ بنتے دیکھتے رھیں گے آ خر کوئی نہ کوئی حل اس مسئلے کا ھونا چاھیئے ۔ھمارے بچیوں کی زندگیوں سے یہ کھلواڑ بند ھونا چاھیئے ھمیں ان عوامل کا ادراک ھونا چاھیئے کہ جن کی وجہ سے یہ سب کچھ ھوتا ھے ان اسباب اور وجوہات کو پرکھنا چاھیئے اور ان کے خاتمے کیلیئے سب ملکر اقدامات کرنا چاھیئے تقریبا ھر سال چترال کی بیٹی ضلع سے باھر قتل ھو جاتی ھے اور ھم چند دن واویلا کرنے کے بعد پھر خاموش ھو جاتے ھیں اور جب تک کوئی دوسرا واقعہ رونما نہی ھوتا ھم اس بارے میں ایک حرف غلط بھی زبان پر نہی لاتے ۔پورے سال میں کتنے بچیوں کی ضلع سے باھر شادی ھو جاتی ھے اکثروں کی بلکل خفیہ طریقے سے ضلع سے باھر شادی کرادی جاتی ھے کانوں کان کسی کو خبر تک نہیں ھوتی اور جب مظلوم بیٹی کی لاش آ تی ھے تب پتہ چل جاتا ھے بحیثیت ایک قوم تمام شعبہ ھائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس ناسور کو ختم کرنے کیلیئے مل بیٹھ کر لائحہ عمل تیار کرنا چاھیئے اور ٹھوس اقدامات کرنا چاھیئے اس سلسلے میں دو تین کام نہایت ضروری ھیں اگر ھم اپنے بچیوں کی زندگی کے بارے میں مخلص ھیں


1= ارندو سے بروغل تک جتنے بھی شیطان دلال ھیں اور جو بھی ھیں اور اس گھناونے کام میں ملوث ھیں انھیں عبرت کا نشان بنانا چاھیئے تاکہ کسی دوسرے کو دوبارہ یہ کام کرنے کی جرات نہ ھو۔


2= ھرعلاقے کے آ ئمہ مساجد؛ خطباء اور معززین علاقہ لوگوں کو یہ باور کرائیں اور آ گاھی مھم چلائیں کہ آ ئند ہ اگر کسی نے اپنی بیٹی ؛ بہن یا کسی بھی قریبی رشتے دار خاتون کی ضلع سے باھر کسی غیر چترالی سے شادی کرادی تو اس کا مکمل سوشل بائیکاٹ کیا جائے گا ۔


3= چونکہ نکاح ایک عبادت ھے اس کو تجارت نہ بنایا جائے اور ضلع کے اندر بھی شادی بیاہ کے مسئلے کو جس قدر مشکل اور گھمبیر بنایا گیاھے اسے اجتناب کیا جائے اور اس میں آ سانیاں پیدا کی جائیں اور سنت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو اپنانے کی پوری کوشش کی جائے ۔


اس طرح شیطان دلال اور لالچی باپ کے مکر وفریب سے ھماری مظلوم بیٹیاں بچ جائیں گی


شیئر کریں: