Chitral Times

Apr 21, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

میٹرک سائنس اور ایف ایس سی ٹاپ کرنے والے طلباء کو ماہانہ وظیفہ دینے کا فیصلہ

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وفاقی وزیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی فواد چوہدری اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ خان بنگش کی زیرصدارت سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ میتھمیٹکس (سٹِم) ایجوکیشن، فیبرکس لیبز، سائنس کلب سمیت دیگر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی منصوبوں سے متعلق اجلاس منعقد ہوا.

اجلاس میں خیبرپختونخوا کے وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی جبکہ وفاقی سیکرٹری تعلیم، ڈائریکٹر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی خالد خان، ڈائریکٹر خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ عاصم جمشید اور دیگر افسران بھی اجلاس میں شریک تھے. اجلاس میں خیبر پختونخوا میں فیبرکس لیبز، سائنس کلب بنانے سمیت پائلٹ کے تحت صوبے کے 10 سکولوں میں سٹِم ایجوکیشن فوری شروع کرنے کا فیصلہ کیاگیا. وفاقی محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور محکمہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی خیبرپختونخوا کی جانب سے خیبرپختونخوا کے سکولوں میں سٹِم ایجوکیشن شروع کرنے کے تحت میٹرک سائنس میں ٹاپ کرنے والے طلباء کو 10,000 روپے ماہانہ اور ایف ایس سی میں ٹاپ کرنے والے طلباء کو 12 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ دینے کا بھی فیصلہ کیاگیا. وظیفے کا 50 فیصد صوبائی محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور 50 فیصد وفاقی محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ادا کرے گا. پروگرام کے تحت ہر تحصیل سے 10 سائنس ٹاپرز سکالرشپ کیلئے منتحب کئے جائیں گے۔ پائلٹ کے بعد پروگرام کو مزید وسعت دیکر 450 سکولوں میں سٹم ایجوکیشن شروع کیا جائے گا۔ ضیاء اللہ بنگش کا اجلاس میں کہنا تھا کہ اس سے قبل محکمہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی صوبے میں 156 سائنس لیبز تعمیر قائم کر چکی ہے جبکہ مزید سائنس لیبز بھی تعمیر کیے جائیں گے.

وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی نے اجلاس میں کہنا تھا کہ یہ ایک انقلابی پروگرام ہوگا جس سے سائنس انجنیئر نگ اور میتھمیٹکس کے ذہین طلباء کو ہائی لیول ایجوکیشن کے مزید مواقع ملیں گے۔ اور تحصیل لیول کے ذہین طلباء کی حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خیبر پختونخوا پہلے سے ہی میٹرک اور ایف سی لیول پر ”ستوری د پختونخوا ” پروگرام کے تحت ہر امتحانی بورڈ کے ٹاپ 20 طلباء کو سکالرشپ فراہم کر رہی ہیں اور اس نئے پروگرام سے مزید طلباء بھی مستفید ہوں گے۔


شیئر کریں: