Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پی ڈی ایم میں دراڑ۔۔ ؟……….قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آئین کے مطابق تحریک عدم اعتماد لانے کے لئے پی ڈی ایم کی تمام اعلیٰ قیادت کو مشورہ دیا ہے،  تحریک عدم اعتماد کے ذریعے پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی لانے کا بیان خلاف توقع نہیں تھا کیونکہ اپوزیشن اتحاد میں شریک پی پی پی کے حالیہ بیاینے سے  روزاوّل سے  آگاہ تھے کہ سابق صدر زرداری استعفیٰ آپشن، سندھ حکومت سے دست برداری سمیت ایسے اقدامات کا حصہ بننے سے گریز کریں گے، بالخصوص جس میں براہ راست اداروں سے تصادم یا جمہوری نظام کو کسی تیسرے  یا چوتھے آپشن سے نقصان پہنچ سکتا ہو۔ بلاول بھٹو زرداری نے غیر رسمی طور پر پی ڈی ایم میں شریک جماعتوں کو ایک مشورہ دیا ہے، اس پر متفق ہونے کے لئے باقاعدہ طویل نشست و تحفظات کے ساتھ سیاسی حکمت عملی کو کامیاب بنانے کا مرحلہ دشوار گذار ہے، کیونکہ پی پی پی و پی ایم ایل (ن) بخوبی اقف ہیں کہ تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنانے کے لئے ’چمک‘ کا مظاہرہ  کرنا ہوگا۔


 آئین میں گنجائش بھی ہے اور جمہوری روایات کے مطابق قدغن بھی نہیں کہ اگر اپوزیشن، حکمراں جماعت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تو تحریک عدم اعتماد طریق کار کے مطابق لاسکتی ہے، ویسے بھی پی ٹی آئی کی اپنی ذاتی حیثیت میں اکثریت نہیں رکھتی، چھوٹی سیاسی (صوبائی) جماعتوں کو مفادات کے تحت ساتھ ملا کر اکثریت پر اقلیت حکومت کررہی ہے، اس لئے یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ اکثریتی جماعت کو اقلیت میں تبدیل کرکے اِن ہاؤس کوئی تبدیلی لائی جا رہی ہے۔ بہرطور یہ تو ایک آئینی پوزیشن ہے جسے اسی مظاہر میں دیکھا جاسکتا ہے، تاہم صائب طریق کار خود حکومت کے پاس ہے، جو وہ استعمال نہیں کررہی کہ تمام سٹیک ہولڈرز جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے لئے لچک دار رویے کا مظاہرہ کرے۔ حکومتی ترجمانوں کے جارح بیانات اور احتسابی عمل میں ’لوٹی ہوئی دولت‘ کی واپسی نہ ہونے کے باعث ریاستی بیاینے کو پسپائی کا سامنا ہے، ان معروضات کی جانب جاتے ہی نہیں کہ اس کی بنیادی وجو ہ کیا ہیں، کیونکہ احتسابی عمل میں ڈھائی برس بعد بھی قومی خزانے میں رقم نہیں آسکی، مقدمات وغیرہ تو بھینس چوری و ٹوپی چرانے کے بھی بن جاتے ہیں، انصاف ایسا، جو ہوتا نظر آئے، مطلوب ہے۔


باشعور حلقے اس اَمر پر یقین رکھتے ہوئے، خواہاں ہیں کہ اداروں میں تصادم و خلیج نہ بڑھے، کسی ایسے ادارے کو سیاسی نہ بنا جائے کہ اقتدار میں واپسی کے لئے غلط فہمیوں کو فروغ دیا جائے، جمہوریت اور آئین کو کسی خطرے سے دوچار نہ کرنا، یقینی طور پر ملک و قوم کے لئے بہتر ہے، جمہوریت پر یقین رکھنے والوں کے لئے نظام کی بقا و استحکام کے حوالے سے حوصلہ افزا اَمر یہی ہونا چاہیے کہ نظا م ٹھیک چلتا رہے، آئین کے تحت کام کرنے والے ادارے اپنے دائرہ کار کے مطابق کام کو فوقیت دیں اور ان کے درمیان کسی بھی قسم کا کوئی تصادم و مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو۔


واضح رہے کہ اداروں کے درمیان کسی بھی معاملے میں اختلاف کا پیدا ہوجانا کوئی ایسا غیر معمولی اَمر بھی نہیں کہ ان اختلافات کو ختم کرنے کا راستہ نہ نکالا جاسکے، بعض قوتیں یقینا یہ ضرور چاہتی ہیں کہ عوامی سطح پر ایسا تاثر جائے کہ اداروں کے درمیان اختلافات شدید نوعیت کے ہیں، جنہیں دور کرنے کے لئے مکمل نظام کی تبدیلی ناگزیر ہے، ایسی قوتیں یہ بھی تاثر دینے کی کوشش کرکے ابہام پیدا کررہی ہیں کہ اداروں کے درمیان تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں، ضروری ہے کہ حکمراں و حزب اقتدار کی جماعتیں ان افواہوں کا زور توڑنے اور ابہام ختم کرنے کے لئے مثبت و درست سمت کوا پنائیں اور میانہ روی و ہوش مندی کا مظاہرہ کریں۔


دارصل اداروں کے تصادم اور فوج کو متنازع بنانے والی قوتیں وہی ہیں، جو اس ملک میں عوام کی حکمرانی قائم رکھنے پر یقین نہیں رکھتی، تاکہ اختیار و اقتدار ان کے ہاتھوں میں آجائے اور وہ قوم و ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بن کر ان کی قسمتوں سے کھیلتی رہیں، ان قوتوں کے مذموم عزائم اور مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے ہر ادارے و جماعت کو تحمل و برداشت کے ساتھ، اسٹیک ہولڈرز کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے پہل کا راستہ اپنانا ہوگا۔ حقوق کے حصول کے لئے سڑکوں پر آنا، احتجاج، جلسے جلوس اور مظاہروں کی اجازت آئین دیتا ہے، اس میں کوئی قدغن نہیں، تاہم ملکی معروضی حالات میں دباؤ کی نوعیت کو بڑھانے کے لئے  غیرسنجیدہ فیصلوں سے اجتناب کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔


حکومتی فیصلوں سے سیاسی جماعتوں و عوام میں اگراعتماد نہیں تو اس کے لئے آئین میں بڑی گنجائش و راستے موجود ہیں، بجائے اس کے کہ ملکی سیاسی درجہ حرارت کو کم کیا جائے، بعض عناصرکی جانب سے الٹے سیدھے بیانات ماحول کو مکدر بنارہے ہیں، پی ڈی ایم کے احتجاج اور بیاینے کو گیڈر بھبکھیاں سمجھنے کے بجائے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو کمزور سمجھنے کی غلطی ہر حکمراں جماعت سمجھتی ہے، شاید انہیں گمان رہتا ہے کہ سڑکوں و پارلیمنٹ میں فیصلے، اُن کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتے،تو اسے خام خیالی بھی تصور کیا جاسکتا ہے، موجودہ سیاسی حالات میں اداروں و فوج کے ساتھ تصادم کی صورتحال اگر پیدا ، نہیں ہو رہی تو اس موقع کا فائدہ اٹھانا چاہے، ناکہ اس کے برخلاف خود کو فروعی طاقت کا منبع سمجھ کر رعونت کا مظاہرہ کیا جائے۔


 سنجیدہ و باشعور عوام خواہاں ہیں کہ افواہیں پھیلا کر جمہوریت کی گاڑی کو ڈی ریل کرنے کے خواہش مند اپنے منصوبوں میں کامیاب نہ ہوں، تاکہ موجودہ نظام کو کسی بھی نوعیت کے عدم استحکام کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ امید کرنی چاہیے کہ سربراہ مملکت و موقر ادارے ملکی نامساعد حالات میں ایسے معاملات کو گفت و شنید و مذاکرات کے ذریعے حل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے، تاکہ مشکل حالات سے باہر نکلا جاسکے۔  تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کا عندیہ، پی ڈی ایم کے اجتماعی موقف میں کھل کر اختلافات ظاہر کررہے ہیں، تاہم یہاں بھی  حکومتی حلقوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ کسی سیاسی امتحان سے باہر نکل آئے ہیں، کیونکہ عوام کے صبر کا پیمانہ کو مزید آزمانے کی مشق حکومت کے گلے پڑ سکتی ہے، مہنگائی کا عفریت و بدترین معاشی و سیاسی حالات مثالی نہیں کہ ’سب ٹھیک ہے‘ پر یقین کرلیا جائے۔ یقین کرنے کے لئے مثبت اقدامات کی ضرورت ہے،جو سب کے حق میں بہتر ہوں۔


شیئر کریں: