Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے 24سکیموں کی منظوری دے دی

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) صوبائی ترقیاتی ورکنگ پارٹی خیبر پختونخوانے صوبے کی ترقی کیلئے19112.937ملین روپے کی لاگت کی 24سکیموں کی منظوری دے دی ہے۔ یہ منظوری ایڈیشنل چیف سیکرٹری پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ خیبر پختونخوا شکیل قادر خان کی زیر صدارت پیر کے روز ویڈیو لنک کے ذریعے منعقدہ اجلاس میں دی گئی۔ جس میں پی ڈی ڈبلیو پی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں صوبے کی ترقی کیلئے سڑکوں، کثیر شعبہ جاتی ترقی، ڈی ڈبلیو ایس ایس، صحت، اعلیٰ تعلیم، ابتدائی و ثانوی تعلیم، زراعت، کھیل و سیاحت، بی او آر اور شہری ترقی کے شعبوں کی 31سکیموں پر تفصیلی غور و خوض کے بعد24سکیموں کو منظور جبکہ7سکیموں کو غیر موزوں ڈیزائن کی وجہ موٗخر کرکے متعلقہ محکموں کو اصلاح کیلئے واپس بھیج دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سڑکوں کے شعبوں میں ضلع ایبٹ آباد، ضلع ہری پور، صوابی اور ہنگو کے اضلاع میں مختلف سڑکوں کی فزیبلٹی سٹڈی، ڈیزائن بحالی اور تعمیر کی منظوریاں دی گئیں ہے۔اسی طرح کثیر شعبہ جاتی ترقی کے شعبے میں تیزی سے بڑھنے والی آبادی میں کمی کیلئے سی سی آئی کی سفارشات پر عملدرآمد کیلئے مربوط پراجیکٹ اور تحقیقی مطالعہ سروسز/تفصیلی ڈیزائن/فزیبلٹی سٹڈی کی فراہمی، خیبر پختونخوا میں کمانڈ علاقوں میں سمال ڈیمز کی ترقی کیلئے فزیبلٹی سٹڈی کیلئے کنسپٹ نوٹ کی منظوریاں دی گئیں ہے۔ اسی طرح ڈی ڈبلیو ایس ایس کے شعبے میں ضلع دیر بالا میں ڈسٹری بیوشن کے کام اور ڈبلیو ایس ایس سکیم اور حلقہ پی کے40،41ضلع ہری پور میں واٹر سپلائی سکیموں کی بحالی اور تعمیر کی منظوریاں دی گئیں۔اسی طرح صحت کے شعبے میں منظور کردہ منصوبوں میں ضم شدہ اضلاع کے طلباء کیلئے خیبر گرلز میڈیکل کالج پشاور کی اپ گریڈیشن / توسیع، خیبر پختونخواکے9نرسنگ سکولوں کی نرسنگ کالجز تک اپ گریڈیشن ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ٹی بی کنٹرول پروگرام، پشاور میں فاوٗنٹین ہاوٗس کا قیام اور پشاور میں خیبر انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال شامل ہے۔

پی ڈی ڈبلیو پی کے اجلاس میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں مردان میں وویمن یونیورسٹی کے قیام کی منظوری بھی دی گئی ہے۔ اسی طرح ابتدائی و ثانوی تعلیم کے شعبے میں ضم شدہ انفراسٹرکچر پروگرام کے تحت قبائلی ضلع مہمند میں 27عدد اورضلع باجوڑ میں 11عدد مکمل تباہ شدہ سکولوں کی دوبارہ تعمیر کی منظوریاں دے دی گئی۔ جبکہ زراعت کے شعبے میں سوات یونیورسٹی کے قیا م کیلئے اراضی کی خریداری اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ویٹرنری ایڈسروسز اور بیماریوں کی رپورٹنگ نظام کے استحکام کی منظوریاں دی گئیں۔اسی طرح کھیل و سیاحت کے شعبے میں یونین کونسل پیر سباق، پہاڑی کٹی خیل اور جہانگیرہ ضلع نوشہرہ میں سپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر اور ڈی آئی خان، کوہاٹ، چارسدہ اور اسلامیہ کالج پشاور میں ہاکی ٹرف کی فراہمی کی منظوریاں دی گئی۔ اسی طرح ریونیو کے شعبے میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے بورڈ آف ریونیو میں ای سٹامپ متعارف کرنے اور ریورس سنٹر کے قیام اور شہری ترقی کے شعبے میں مانسہرہ میں ترقیاتی کاموں کی منظوری دی گئیں۔


شیئر کریں: