Chitral Times

May 14, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عقیدے کی عینک اور ہم ۔۔۔۔۔۔ طاہرہ ایوب راجپوت

شیئر کریں:

قراقرم انٹرنشیل یونیورسٹی طالبہ ہراسمنٹ کیس پر سوچتے ہوئے بہت بے چینی ہو رہی تھی کہ جہاں ایک بیٹی کی عزت داؤ پر لک چکی ہو اور وہاں بھی عقیدے کی بنیاد پر لوگوں کو بچایا جا رہا ہے تو ایسے معاشرے میں ایک عورت کیسے جی سکتی ہے۔ عبدالستار کا کالم نظروں سے گزرا۔ وہ کہتے ہیں:

“انسان کا کسی ایک وطن، مذہب، تہذیب، عقیدہ اور کسی مخصوص رنگ و نسل کی شناخت کے ساتھ پیدا ہونا محض ایک حادثہ اور اتفاق ہوتا ہے ، ان سارے مراحل میں اس کے اختیار اور خواہش کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ، اسی لیے اتفاق سے جس عقیدہ میں آپ کی پرورش ہوتی ہے وہی آپ کے لیے سچ اور صحیح ہوتا ہے جبکہ دوسرے عقائد اور مذاہب ہیچ اور جھوٹ ہوتے ہیں۔

لوگوں کے تصور و عقائد کی محض اتنی سی کہانی ہے اور اسی کہانی کی بنیاد پر انسان اتنی فرضی لکیریں کھینچ ڈالتا ہے کہ اس کو اپنے سچ کے آگے تمام سچ غلط اور فضول نظر آتے ہیں، وہ اسی ذہنی روش کی بنیاد پر انسانوں کے درمیان نفرت کی فصل کاشت کرتا رہتا ہے جبکہ حقائق اور علم کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور سچائی کو کسی ایک مخصوص خانے میں بند نہیں کیا جاسکتا ، یہ تمام مخصوص دائروں سے ماورا ہوتی ہے۔

عقائد و تصورات انسانی ورثہ ہوتے ہیں اور یہ ہر دور میں تبدیلی کے عمل سے گزرتے ہیں۔ انسانی سوچ ارتقائی مراحل طے کر کے ہی آج کے جدید دور میں داخل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے انسانی سوچ مختلف ادوار میں سے گزری ہے ، یہ سفر ڈارک ایج سے شروع ہوا ، پھر مڈل ایج میں داخل ہوا ، اس کے بعد نشاۃ ثانیہ سے ہوتا ہوا ، آج کی جدید ترین ایج میں داخل ہو چکا ہے۔ ان تمام ادوار میں انسانی سوچ نے بہت سے موڑ لیے ہیں مگریہ بات طے ہے کہ ہر دور میں انسانی سوچ ہمیشہ برتری اور ترقی کی طرف ہی گئی ہے اور یہ ارتقا ہی ایک خوبصورت انسانی مستقبل کا ضامن ہے۔”

لیکن ہماری بدقسمتی یہ کہ ہم نے کبھی سوچ کے دائرے کو وسیع کرنے کی کوشش نہیں کی اور ہر جگہ عقیدے کی بنیاد پر لوگوں سے سلوک روا رکھا۔ پھر صنفی امتیاز میں تو ہم ایوارڈ کے مستحق ہیں۔ اپنی بہن بیٹیوں کو چادر اور چار دیوری کی ترغیب دینے والے کسی اور کی بہن بیٹی کو اپنی غلیظ نگاہوں سے دیکھنا اور ان کا پیچھا کرنا بھی ثوابِ دارین سمجھتے ہیں۔ گلگت سے میری ایک سہیلی بتا رہی تھی کہ وہ ایک ٹیکسی میں بیٹھتی ہے اور اپنے گھر کے پاس اتر کے کرایہ دینے کی کوشش کرتی ہے تو ٹیکسی ڈرائیور کہتا ہے نہیں کرایہ سے کیا کرنا اپنا نمبر دیجیے تاکہ ہم بات کرسکیں۔ ہم ایک ایسے ماحول میں زندگی کے ایام کاٹ رہے کہ یونیورسٹی کے اعلیٰ آفیسر سے لے ایک تھرڈ کلاس ٹیکسی ڈرائیور تک عورتوں کو ہراساں کرنے کے پیچھے لگے ہوئے ہیں لیکن ہم ایسے لوگوں کو بچانے کے لیے ہمیشہ عقیدے کا سہارا لیتے ہیں۔ اللہ ہماری بیٹیوں کی عزت محفوظ رکھے۔ آپ حیران ہوں گے میں ڈائریکٹ اللہ سے دعا کیوں مانگ رہی ہوں کیونکہ ایسے لوگ ہمیشہ ملکی قانون کا مذاق اٹھاتے ہیں۔ لیکن ان کو نہیں پتہ کہ ملکی قانون سے بالاتر بھی کوئی ہستی ہے کہ جس کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔


شیئر کریں: