Chitral Times

Oct 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شیراور بکری کی کہانی….. محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


وفاقی وزیر خزانہ نے صوبائی حکومتوں کو چینی کی ذخیرہ اندوزی، مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی دستیابی اورصارفین کی سہولت کے لئے ملک بھر میں قیمتوں کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزارت خزانہ کے اجلاس کوبریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ انڈے، ٹماٹر، آلو، پیاز اور مرغی کی قیمتوں میں کمی آئی ہے،21 بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام جبکہ 7 اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی گئی کہ گندم کی صوبوں اور اضلاع میں روزانہ فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر نظر رکھنے اور قیمتوں کے فرق کو دور کرنے کے نظام کو فعال بنانے کے لئے صوبوں کو ضروری مدد فراہم کی جائے گی اورعوام کو مناسب قیمتوں پر آٹے کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے ایک جامع حکمت عملی تیار کی جائیگی۔اس لطیفہ نما خبرکو پڑھتے ہوئے سکول کے زمانے کی ایک کہانی یاد آگئی جو چوتھی جماعت سے میٹرک تک ہر امتحان میں پوچھی جاتی تھی۔کہانی یہ ہے کہ کسی جنگل میں شیر اور بکری ساتھ رہتے تھے۔ شیر کو کئی دنوں سے شکار نہ ملنے کی وجہ سے بہت بھوکا تھا۔ اتفاق سے دونوں ندی میں پانی پینے گئے۔موٹی تازہ بکری کو دیکھ کر شیر کے رال ٹپکنے لگے اور وہ بکری پرحملہ آور ہونے کا بہانہ ڈھونڈنے لگا۔جب کوئی دوسری ترکیب نہ سوجھی تو اس نے بکری کو متنبہ کیا کہ تمہارے سامنے جنگل کا بادشاہ پانی پی رہا ہے اور تم پانی کو گدلا کررہی ہو۔ بکری نے جواب دیا کہ بادشاہ سلامت!پانی آپ کی طرف سے بہہ کر نیچے میری طرف آرہا ہے میں نیچے رہتے ہوئے اوپر سے آنے والے پانی کو کیسے گدلا کرسکتی ہوں۔بھوک سے نڈھال شیر سے مزید برداشت نہیں ہوسکا اور یہ کہتے ہوئے بکری پر جھپٹ پڑا کہ تمہاری یہ مجال۔ کہ تم جنگل کے بادشاہ سے بحث کر رہی ہو۔

ہمارے وزیرخزانہ بھی اس جنگل نما ملک کے شیر ہیں وہ جو کہیں گے وہ پتھر پہ لکیر ہے اس سے دلیل کا تقاضا کیاجاسکتا ہے نہ ہی وہ بحث کو گوارہ کرے گا۔بلاشبہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر نظر رکھنا، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف کاروائی کرنا صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کے فرائض اور اختیارات میں شامل ہے۔ لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ پانی اوپر سے ہی گدلا ہوکر آرہا ہے۔نئے مال سال کے ابتدائی تین ہفتوں کے دوران بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں دو دو مرتبہ اور مائع پٹرولیم گیس کی قیمتوں میں ایک دفعہ اضافہ ہوا ہے، بجلی، تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اشیاء کی پیداواری لاگت اورنقل و حمل کے کرائے خود بخود بڑھ جاتے ہیں حکومت نے اوگرا، نیپرا جیسے غیر ضروری اداروں کو شتر بے مہار چھوڑا ہوا ہے ان اداروں کے حکام دفتروں میں بیٹھ کر عوام کا کچومر نکالنے کے بارے میں ہی سوچتے رہتے ہیں ہر مہینے ایک یا دو مرتبہ تیل، بجلی اور گیس کے نرخوں پر نظر ثانی کی جاتی ہے۔گذشتہ تین سالوں میں مہنگائی کی شرح میں تقریباً دو سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اوپن مارکیٹ میں بیس کلو گرام آٹے کا تھیلاساڑھے سات سو روپے سے چودہ سو روپے ہوگیا۔کھانے کا تیل 110روپے سے 220روپے، چینی 55روپے سے 105،پٹرول 65روپے سے 106، مرغی کا گوشت115روپے سے220روپے فی کلوہوگیا۔دالوں، مصالحوں اور سبزیوں کے دام بھی اسی تناسب سے بڑھ گئے ہیں۔مارکیٹ سے گندم اور گنا کی قیمت خرید وفاقی حکومت مقرر کرتی ہے۔ سارا گند شیر کی طرف سے بہہ کر نیچے آرہا ہے بیچاری بکری خود گدلا پانی پینے پر مجبور ہے۔ اسے مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہرانا چوری اور سینہ زوری کے مترادف ہے۔

ہمارے حکمران پانی گدلا ہونے سمیت ہر خرابی کی ذمہ داری ”شیر“پر ڈال کر بری الذمہ ہونے کی روایت پر گامزن ہیں مگر یہ حیلہ بازی اور بہانہ سازی مزید چلنے والی نہیں۔مہنگائی کی ہر لہر کے بعد حکمرانوں کی طرف سے یہ مژدہ جانفزاء سنایاجاتا ہے کہ اس سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا۔شاید حکمران اشرافیہ کو عام آدمی سمجھتے ہیں جن کے لئے مہنگائی بلاشبہ ایک مہمل اور بے معنی لفظ ہے۔نچلا طبقہ اپنے زخموں پر مزید نمک پاشی برداشت نہیں کرسکتا۔حکومت کو اپنی سیاسی بقاء کی خاطر اس طبقے کو ریلیف پہنچانے کے لئے فوری طور پر کچھ کرنا ہوگا۔بصورت دیگر حالات اور عنان اقتدارحکومت کے قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔


شیئر کریں: