Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پی پی اور ن لیگ کی تعلیمی کارکردگی کا تقابلی جائزہ۔۔۔۔۔پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

 لاکھ سے زیادہ کی آبادی پر مشتمل علاقے سے ہائیر سکینڈری اداروں میں اگر محض 7لڑکے اور 4لڑکیاں زیر تعلیم ہوں تو2 اکیسویں صدی میں اس سے بڑا تعلیمی لطیفہ نہیں ہو سکتا۔یہ لطیفہ نہیں حقیقت ہے اور یہ نایاب خطہ وادی نیلم آزاد کشمیر ہے۔ تعلیم غلامی اور جہالت کے قید خانوں سے نکلنے کی چابی ہے،قومیں تعلیم سے تعمیر کی جاتی ہیں۔تعلیم قوم کے مستقبل کی ضامن ہو تی ہے۔دنیا کو تبدیل کرنے کے لیے تعلیم سب سے بڑا ہتھیار ہے۔تعلیم ہمارے مستقبل کا پاسپورٹ ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے ہمارا پاسپورٹ قبضے میں لے کر ہمیں غلامی، جہالت، غربت، پس ماندگی، ناخواندگی، بے روزگاری، ناانصافی اور نفسیاتی قیدخانوں میں بند کر رکھا ہے۔

وادی نیلم میں پیپلز پارٹی نے تعلیم پر تیروں کی ایسی بارش کی ہے کہ دیکھ کر بھٹو مرحوم کی روح بھی کانپ اٹھے۔شیرکا تعلیم سے کیا واسطہ، اس کا کام تو کھانا ہے تعلیم کھاجائے یا تعمیر، سکول کھا جائے یا ہسپتال،میرٹ کھا جائے یاکمیشن، شیر کی مرضی ہے۔ بچپن میں ہندکو کی ایک کہاوت سنتے تھے شیر کی مرضی انڈے دے یا بچے۔میاں وحید صاحب اپنے ادوار میں تعلیم کے لیے وعید ثابت ہوئے۔پی پی کے دور میں 2015 تک لڑکیوں کے لیے 00جبکہ لڑکوں کے لیے 74مسجدسکولز تھے۔پرائمری سکولز بلترتیب 76/67،مڈل سکولز 9/25، ہائی سکولز 11/16،ہائیر سکینڈری سکولز01/00 تھے۔ مجموعی طور پر لڑکیوں کے 97 اور لڑکوں کے 182 سکولز کام کر رہے تھے۔ مسلم لیگ ن نے2016 میں تاریخی ووٹ بینک کے ساتھ حکومت بنائی جو اب چند ماہ کی مہمان ہے۔پی پی نے دہائیوں تک نیلم میں حکومت کی اور میاں وحید صاحب وزیر تعلیم بھی رہے۔

اس کے باوجود بھی تعلیم کے شعبے میں کوئی کارہائے نمایاں سرانجام دینے میں ناکام رہے۔ موصوف نے بطور وزیر تعلیم، تعلیمی ٹوکا چلاتے ہوئے مسجد سکولوں کے اساتذہ کو نوکریوں سے نکال کر تعلیمی خدمت کی۔موصوف نے 30سے 40ہزار اساتذہ کی تربیت کے لیے کوئی اقدام نہ کیا۔ سرکاری سکول کیا درست کر تے غریب عوام پر اپنی کمیشن کے لیے پرائیویٹ سکولز مسلط کیے۔ نہ صرف یہ بلک آزادکشمیر میں 100 سے زیادہ جونیئر اساتذہ کو سیاسی بنیادوں پر سینئر پر عارضی چارج کے زریعے مسلط کر کے نہ صرف سینئر اساتذہ کی حوصلہ شکنی کی بلکہ 100سے زیادہ صدر معلمین اور معلمات کی اسامیوں کے لیے بھرتیاں نہ کیں۔شاید موصوف کا خیال تھا اگلا پنج سالہ لگائیں گے اس کے لیے بھی کچھ رہنے دیں، مگر دھڑم تختہ ہوا اور وزیر تعلیم ہونے کے باوجود پی پی کو 68796 ووٹوں میں سے بمشکل18000 ووٹ ملے۔

مسلم کانفرنس کا تو بھرکس نکل گیا اور محض 4000ووٹ لے سکی جو 2016 کے آزاد امیدواروں کے ووٹوں سے بھی کم ہیں۔ مسلم لیگ ن نے وہ تعلیمی چمتکار کیے کے ہم دہنگ رہ جائیں گے۔ ن لیگ نے اب تک پرائمر ی سکولوں کو کم کیا ہے زیادہ نہیں۔ نیلم میں 2017 میں لڑکوں کے 128 اور لڑکیوں کے 74 سکولز تھے جو 2018میں بلترتیب 125/76 ہوگئے۔ شاید ن لیگ نے لڑکوں کے دو سکول لڑکیوں کے سکولوں میں بدل دیے او ر ایک مریخ پر بھیج دیا یا لڑکوں کے تین سکولز ختم کر کے لڑکیوں کے لیے 2 بنا دیے۔ بہر حال جو بھی کیا عام آدمی کو یہ چالیں سمجھ نہیں آتی، اعدادو شمار یہی کہتے آپ تصدیق کر سکتے۔شاہ صاحب کے دور میں 2016سے 2021 تک مڈل سکولوں کو 43پر پہنچ کر فل سٹاپ لگ گیا ہے۔

مڈل سکولوں میں کوئی تبدیلی نہیں لائی شاید انہیں تبدیلی پسند نہیں۔وہ پی ٹی آئی کو یہ موقعہ نہیں دینا چاہتے کے اندر سے وہ بھی تبدیلی کی طرف جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہائی سکولوں میں تو شاہ صاحب نے لاہور سے وہ پھونک مروائی کہ 2016میں 30ہائی سکولز تھے اور 2018میں کم ہو کر 29ہو گئے، پریشان نہ ہوں نیلم والوں کو پڑھا کر کیا کرنا ہے پھر تو وہ بیدار ہو جائیں گے اس لیے شاہ صاحب  نے 2021 تک یہ تعداد جوں کی توں رکھی ہوئی ہے۔ہو سکتا ہے سارا بجٹ کالے پائپوں، ٹینکیوں، نلکوں، فٹ پاتھوں اور گدی نشینوں کے واش رومز پر لگ گیا ہو۔ ہائیر سیکنڈری سکولوں کی سیر بھی کروا دیتا ہوں پھر میرا کالم لے جا کر شاہ صاحب کی میز پر رکھ دینا شاید کوئی سکیم مل جائے۔

۔۔2016-17میں 3ہائیر سکینڈری سکولز تھے، 2018میں معجزاتی طور پر 6ہو گئے۔2021 تک 6 ہی ہیں۔ایک کہاوت ہے زیادہ پڑھنے سے انسان پاگل ہو جاتا ہے۔ شاید ہمارے سیاستدان اسی لیے زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہو تے وہ عوام کو پاگل بناتے ہیں۔چلیے دیکھتے ہیں ان سکولوں میں تعداد کتنی تھی اور اب کتنی ہے۔ میری ناقص رائے میں تو داخلوں میں اضافہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہے اس میں نہ تو میاں صاحب کا کوئی کمال ہے اور نہ شاہ صاحب کا۔ وہ تو نیلم ویلی کے سرکاری سکولوں میں اپنے بچے پڑھاتے ہی نہیں ہیں ورنہ درجن بھر کا مزید اضافہ بھی ہو سکتا تھا۔ یہ وادی نیلم کے تمام حکمرانوں کی تعلیم دشمنی کاسب سے بڑا ثبوت ہے اگران سکولوں کا کوئی معیار ہوتا تو وہ اپنے بچے ان سکولوں میں پڑھاتے۔ پی پی کے دور میں پرائمر ی سکولوں میں لڑکوں کا داخلہ مسلسل تنزلی کا شکار رہا۔

2015میں پرائمری سکولوں میں جماعت اول میں 1768 لڑکے اور 1394لڑکیاں داخل ہوئیں، دوسری کلاس میں بلترتیب 1690/1357 پہنچے، تیسری میں /12681586،چہارم میں /1150 1554،اور پانچویں تک/1047 1539 رہ گئے۔ پرائمری میں کل 8137 لڑکے اور 6216لڑکیاں زیر تعلیم رہیں جبکہ نیلم میں لڑکیوں کی شرح پیدائش 52% اور لڑکوں کی 49%ہے۔مڈل سکولوں میں 3323لڑکے اور1782لڑکیاں زیر تعلیم رہیں۔ ہائی سکولوں میں 1389لڑکے اور 602لڑکیاں زیر تعلیم رہیں۔ ہائیرسیکنڈری میں 7لڑکے اور 4لڑکیاں زیر تعلیم رہیں۔ پی پی دور میں میاں صاحب وزیر تعلیم تھے اور داخلوں کا المناک زوال آپ کے سامنے ہے۔ یہ سرکاری اعدادوشمار ہیں آپ چاہیں تو تصدیق کر سکتے۔ن لیگ کی حکومت میں پرائمری سکولوں میں 9395لڑکے اور 4457لڑکیوں نے داخلہ لیا۔

2018میں آبادی میں مسلسل اضافہ بھی ن لیگ کی تعلیمی ناکامی کو سہار نہ دے سکا اور یہ تعداد کم ہو کر بلترتیب9543/3870رہ گئی۔2020میں یہ تعداد6636 6495/ ہو گئی لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ لڑکوں میں بتدریج تنزلی کا رجحان رہا۔یوں پرائمر ی سکولوں میں مجوعی طور پر 13129لڑکے اور لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔ مڈل سکولوں میں سال 2016میں 3462لڑکوں اور 1402لڑکیوں نے داخلہ لیا۔ 2018میں تعداد بڑھ کر بلترتیب 5468/1472 ہو گئی اور 2019-20میں یہ تعداد4884/2496ہو گئی جس کی وجہ آبادی میں اضافہ ہے نہ کہ ن لیگ کی تعلیمی حکمت عملی۔ مڈل سکولوں میں مجموعی طور پر 7380طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ہائی سکولوں میں ن لیگ کے دور میں 1361لڑکوں اور 564لڑکیوں نے داخلہ لیا۔ یہ تعداد 2018 میں بلترتیب 2261/1507 رہی اور 2019-20میں تعداد بڑھتی ہوئی بلترتیب9198/3189تک پہنچ چکی ہے۔

ہائیر سکینڈری میں ن لیگ کے دور 2016-17میں 487لڑکوں اور 318لڑکیوں نے داخلہ لیا جو 2018-19 میں بلترتیب1176/417 ہو گی اور 2019-20میں لڑکے کم ہو کر 338 رہ گئے اور لڑکیاں 788تک جا پہنچی۔ لڑکوں کی اچانک کم ہوتی تعداد سے گھبرائیں نہ باقیوں کو ن لیگ نے نوکریاں دے دی ہیں جو رہ گئے وہ دونوں پارٹیوں کے سوشل میڈیا سیل چلا رہے۔پھر بھی آپ نے گھبرانا ہے کیونکہ شاید شاہ صاحب وہاں چلے جائیں جہاں آ پ کونہ گھبرانے کا کہا جاتا ہے۔یوں ہائیر سیکنڈری سکولوں میں مجوعی طور پر 1126طلبہ و طالبات نے داخلہ لیا۔

اللہ کا شکر ہے شاہ صاحب وزیر تعلیم نہیں ورنہ پانچھ سال بعد بھی یہ تعداد 7 اور 4گیارہ ہوتی اور میاں صاحب 9 اور 2 گیارہ ہو چکے ہوتے۔ کر نا تو شاہ صاحب نے بھی یہی ہمارے ساتھ تو حاجی اورمفتی صاحب نے بھی یہی کیا ہے حالانکہ ہمیں یقین تھا کہ حج کیا ہوا ہے اور دوسرے صاحب مفتی ہیں۔حاجی صاحب  نے ہمیں ایسا سیاسی طواف کرایا کچھ احباب ابھی بھی چکر کاٹ رہے اور مفتی صاحب اپنا مفتا لگا کر چلتے بنے۔ پھر ہمارے وکیل صاحب نے ہمیں ایسے دیونی مقدمات والی تاریخیں دیں کے اللہ کی پناہ اب وہ بھی تسبی لیے پھرتے ہیں۔ رہ گئے شاہ صاحب تو شاہ صاحب سے ہم دم بھی نہیں کر وا سکتے وہ تو خود دم کروانے لاہور تشریف لاتے۔بس جاگتے رہنا حاجی، مفتی، میاں اور شاہ صاحب پر نہ رہنا ایسا نہ ہو کہ پھر کہیں کے نہ رہیں۔


شیئر کریں: