Chitral Times

Oct 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہلکی پھلکی خبریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

سرحدی جھڑپوں،دہشت گرد حملوں اور کرپشن کے داغوں کی خبریں پڑھ پڑھ کر دل ایک گونہ ملول تھا اچا نک ہلکی پھلکی خبر آگئی کہ امریکی خا تون سینتھیار چی نے سابق وزیر دا خلہ رحمان ملک کے خلا ف مقدمہ واپس لینے پر رضا مند ہو گئی ہیں جواب میں رحمان ملک نے بھی سینتھیار چی کے خلا ف مقدمہ واپس لینے کا عندیہ دے دیا ہے شنید یہ ہے کہ دونوں کے مشترکہ دوستوں نے کئی مہینوں کی کو ششوں کے بعد دونوں کے درمیان صلح کی راہ ہموار کی ہے اگر چہ عدا لتی کاروائی میں صلح کی دستا ویزات یعنی مقدمہ واپس لینے کی درخواستیں دائر ہو نے کے بعد دونوں مقدمات ختم ہو جائینگے تاہم امریکی خاتون، پا کستانی مرد اور ہمارے سر کاری دفترات کی جو تو ہین اور عزت شکنی ہوئی ہے اس کا حساب کو ن دے گا اس کا ازالہ کون کرے گا؟

قارئین کو یاد ہوگا گزشتہ سال امریکی خا تون سینتھیار چی نے الزام لگا یا تھا کہ سابق وزیر اعظم یو سف رضا گیلا نی کی حکومت میں وہ سر کاری مہمان کی حیثیت سے پا کستان میں مقیم تھی وزرارت داخلہ ، وزیر اعظم سکرٹریٹ اور ایوان صدر میں ان کا آنا جا نا تھا چند ما ہ وہ وزیر اعظم ہاوس میں رہا ئش پذیر بھی رہی تا ہم اکثر اوقات وہ سٹیٹ گیسٹ ہا وس میں رہتی تھی اور حکومت پا کستان کے لئے مختلف منصو بوں پر کا م کر تی تھی اس اثناء میں سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے ان کی عزت پر حملے کئے ان انکشا فات کے بعد رحمان ملک نے الزامات کی تر دید کر کے عدالت میں ازالہ حیثیت عرفی کا مقدمہ دائر کر کے ہر جا نے کا دعویٰ کیا جواب میں امریکی خا تون سینتھیار چی نے بھی رحمان ملک کے خلا ف ہراسمنٹ کا ٹھیک ٹھا ک مقدمہ دائر کر دیا دونوں مقدمات عدالت میں حسبِ معمول کچھوے کی چال چل رہے تھے تاہم منطقی انجام سے پہلے دونوں مقدمات مر گ مفا جات سے دو چار ہوئے فریقین نے آپس میں صلح کر کے مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا اگر دونوں مقدمات کی سما عت کا مر حلہ آتا تو دلچسپ حقائق سامنے آجا تے مثلا ً پا کستانی عوام کو یہ جا ننے کا مو قع ملتا کہ امریکی خا تون 8سال پہلے کس مشن پر ہمارے سر کا ری گھر وں میں رہتی تھی کس کس سے ملتی تھی؟ مثلاً ہمیں یہ بھی جا ننے کا موقع ملتا کہ 8سال بعد امریکی خا تون کس مشن پر پا کستان آئی ہے؟ کس کی مہمان ہے؟ کہاں رہتی ہے؟ اور کس کی خد مت کر تی ہے؟ پا کستان کے عوام کو ان مقدمات سے بڑی تو قعات وابستہ تھیں مگر ”بسا اے ارزو کہ خا ک شدہ!“

ایک اور ہلکی پھلکی خبر یہ ہے کہ گزشتہ 6مہینوں کے دوران پشاور میں 95لا کھ 90ہزار بچے پیدا ہوئے عالمی ریکارڈ کے مطا بق اس سلسلے میں پشاور پہلے نمبر پر رہا یہ اعزاز ممبئی، ملا ئشیا، لا ہور یا کر اچی کو نہیں ملا اس کے ساتھ جڑی ہوئی خبر یہ بھی ہے کہ انسداد پو لیو کے قطرے پلا نے کی مہم میں پشاور سب سے پیچھے رہا ظا ہر ہے جن لو گوں کی پوری تو جہ بچے پیدا کر نے پر مر کوز ہے ان کے پا س بچوں کو پو لیو کے قطرے پلا نے کی فر صت کہاں سے آئے گی!

اعداد شمار جمع کر نے وا لوں سے ہمارا شکوہ ہے اور شکوہ بھی بجا ہے یعنی 6مہینے کے اعداد و شمار جمع کر نے کی ایسی کیا جلدی تھی ایک ما ہ صبر کر کے 7مہینوں کا ریکارڈ اکٹھا کر تے تو بچوں کی تعداد ایک کروڑ سے تجا وز کر جا تی اور خبر بھی ایک کروڑ بچوں کی بن جا تی بڑی خبر ہوتی پوری دنیا کی نیو ز ایجنسیاں اس کو جلی سر خیوں میں جگہ دے دیتیں ویسے سچ پو چھیئے تو جلی سر خیو ں والی خبر اب بھی بن گئی ہے یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں یہ خبرا ب بھی جلی سر خیوں میں جگہ پا رہی ہے ان لو گوں کے لئے 6مہینوں میں 95لا کھ 90ہزار بچوں کی پیدا ئش بھی قابل تو جہ خبر ہے بیرونی دنیا کے اخبارات نے ضرب تقسیم کے ذریعے ایک مہینے کے اعداد و شمار نکا لے اور الگ سرخی جما ئی کہ ہر ما ہ سو لہ لا کھ 15ہزار بچے آرہے ہیں مزید ضرب تقسیم کے بعد ذیلی سر خی لگائی کہ روزانہ 58ہزار 834بچے پیدا ہورہے ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہمیں کیا فر ق پڑتا ہے بیرونی اخبارات جو لکھنا چاہتے ہیں وہ لکھ لیں ہم اتنا کر سکتے ہیں کہ اعداد و شمار کو چیلینج کریں اور اس کو پشاور کے خلا ف کسی گہری سازش کا نتیجہ قرار دے کر دل کا بوجھ ہلکا کریں دباؤ تناؤ اور شدید پریشر والی کئی خبروں کے بعد دو چار ہلکی پھلکی خبر یں تازہ ہوا کا جھو نکا ثا بت ہوا کر تی ہیں ہم خصو صی طور پر امریکی خا تون سنتھیار چی کے شکر گذار ہیں کہ سابق وزیر داخلہ رحما ن ملک کے ساتھ صلح صفا ئی کر کے ہما را ٹینشن کم کر دیا تا ہم ہمیں انتظار رہے گا کہ پا نچ چھ سال بعد امریکی یا ترا سے واپس آکر مو جو دہ وزیر داخلہ کے بارے میں اپنے زرین خیا لا ت سے پا کستانی قوم کو آگا ہ کرینگی۔


شیئر کریں: