Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بل منظور،خواتین پر تشدد کرنیوالوں کے خلاف 5 پانچ سال تک قید کی سزاء ہوگی۔وزیرسماجی بہبود

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر سماجی بہبود ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں خواتین پر گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل منظور کر کہ صوبائی اسمبلی سے پاس کرکے صوبے کے لیئے قانون بنادیاہے جس میں خواتین پر تشدد کرنیوالوں کے خلاف 5 پانچ سال تک قید کی سزاء ہوگی۔ صوبائی وزیر ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے مزکورہ بل کو انتہائی آہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشی، نفسیاتی و جنسی دباؤ خواتین پر تشدد کے ذمرے میں آئینگے اور بل کے تحت ضلعی تحفظاتی کمیٹی بھی بنائی جائے گی،کمیٹی متاثرہ خاتون کو طبی امداد، پناہ گاہ، معقول معاؤنت بھی فراہم کریگی۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد واقعات کی رپورٹ کیلئے ہیلپ لائن قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ تشدد ہونے کی صورت میں 15دن کے اندر عدالت میں درخواست جمع کرائی جائے گی۔ بل میں عدالت کیس کا فیصلہ 2 ماہ میں سنانے کی پابند ہوگی۔ ڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی پر 1سال قید اور 3 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بل پر علمدرآمد سے گھریلو تشدد کی واقعات میں کمی آئیگی۔

دریں اثنا وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلٰی تعلیم کامران بنگش نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین پر گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل پاس کرنے کے عمل کو پختونخوا میں خواتین کے معاشی و معاشرتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سنگ میل قرار دیا ہے۔ وہ جمعہ کو صوبائی اسمبلی فلور پر پختونخوا حکومت کی جانب سے پیش کئے جانے والے بلوں کے دفاع میں اظہار خیال کررہے تھے۔ معاون خصوصی نے بتایا کہ پختونخوا حکومت قانون سازی میں دیگر صوبوں پر سبقت برقرار رکھے ہوئے ہے اور اس مد میں آج ایک اور سنگ میل عبور کرلیا گیا ہے جو کہ پختونخوا حکومت کی تاریخی کامیابی ہے۔ معاون خصوصی نے خواتین پر گھریلو تشدد کی روک تھام کیلئے پیش کئے جانے والے بل پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ بل کے تحت ضلعی تحفظاتی کمیٹیاں بنائی جائینگی۔ کمیٹیاں متاثرہ خاتون کو طبی امداد، پناہ گاہ اور معقول معاونت کی فراہمی کو یقینی بنائیں گی۔ بل میں تشدد کی تعریف کو قانونی شکل دی گئی ہے جس کے تحت معاشی، نفسیاتی و جنسی دباو کو خواتین پر تشدد کے ذمرے میں شامل کیا گیا۔ اس بل کے تحت عدالت کیس کا فیصلہ دو ماہ میں سنانے کی پابند ہوگی۔ معاون خصوصی کامران بنگش نے مزید بتایا کہ خواتین ہمارے معاشرے کی نصف سے زیادہ کی آبادی پر مشتمل ہیں جن کا تحفظ حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے۔ ان کو معاشی اور معاشرتی طور پر مزید محفوظ اور طاقتور بنانے کیلئے حکومت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس بل کے تحت خواتین پر تشدد کرنیوالے کو پانچ سال تک قید کی سزاء ہوگی۔خواتین پر گھریلو تشدد کے واقعات کو رپورٹ کرنے کیلئے علیٰحدہ ہیلپ لائن قائم کی جائیگی جہاں گھریلو تشدد کی شکایات سنی اور ریکارڈ کی جائینگی۔ کامران بنگش کے مطابق تشدد ہونے کی صورت میں پندرہ دن کے اندر عدالت میں درخواست جمع کرائی جائے گی جبکہ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی پر بھی 1سال قید اور 3لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوگا۔ پختونخوا حکومت وہ واحد حکومت ہے جس نے کم مدت میں ریکارڈ قانون سازی کی ہے۔اس سلسلے میں گھریلو تشدد کا بل، اسمبلی سے پاس کرکے صوبے کیلئے قانون بنا دیا گیا ہے۔


شیئر کریں: