Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قوموں کے متمول ہیروز……محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


کاروبار و تجارت کے حوالے سے عالمی شہرت رکھنے والے ادارے بلومبرگ نے دنیا بھر کے مالدار ترین لوگوں کی فہرست جاری کی ہے جس میں اسپیس ایکس اور ٹیسلا جیسی مشہورکمپنیوں کے بانی امریکی صنعت کارایلون مسک 188 ارب ڈالر دولت کے ساتھ دنیا کا امیر ترین آدمی قراردیا گیا ہے۔ دنیا کے 500 مالدار ترین ارب پتیوں کی اس فہرست میں شامل پہلے 10 میں سے 8 کا تعلق امریکا سے ہے۔ جن میں سے 7 مالدار ترین لوگ ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں ایک سال پہلے ایلون مسک کی دولت صرف 29 ارب ڈالر تھی جو 2020 میں کورونا وباء کے باوجود بڑھتی ہوئی 188 ارب ڈالر پر پہنچ چکی ہے۔اس رپورٹ کی اشاعت کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ایلون مسک کی دولت مزید بڑھ کر 195 ارب ڈالر پر پہنچ گئی۔ایمیزون اور واشنگٹن پوسٹ جیسے اداروں کے مالک جیف بیزوز صرف 4 ارب ڈالر فرق کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کی موجودہ دولت 184 ارب ڈالر ہے۔مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اگرچہ دنیا کے متمول ترین لوگوں میں شامل ہیں لیکن بلومبرگ کی فہرست میں وہ ٹاپ ٹین میں جگہ نہیں بناسکے۔انگریزوں کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی ایک ایک پائی کا حساب صاف بتادیتے ہیں وہ ٹیکس چراتے ہیں نہ دولت چھپاتے ہیں۔

انسانیت کی خدمت کیلئے دنیا بھر میں فلاحی ادارے قائم کرتے ہیں بل گیٹس کی مثال ہمارے سامنے ہے جو دنیا سے پولیو کے خاتمے کے لئے سب سے زیادہ دولت خرچ کرتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی ارب پتی کھرب پتی لوگ موجود ہیں مگر ان کی دولت کا حساب وہ کسی کو بتاتے ہیں نہ ہی خود حساب رکھتے ہیں۔عرب شیوخ کے پاس ایلون مسک سے زیادہ دولت اور اثاثے ہوں گے مگر وہ ساری دولت صرف ذاتی عیاشیوں پر لٹاتے ہیں۔دین اسلام نے دولت جمع کرنے سے منع نہیں کیا لیکن دولت پر زکواۃ فرض قرار دیا تاکہ اس دولت سے غریبوں،ناداروں، بیواؤں اور یتیموں کو بھی فائدہ پہنچے ہمارے ملک پاکستان میں بھی ارب پتیوں کی کمی نہیں۔

1970کے عشرے تک ملک میں صرف 22خاندان کروڑ پتی شمار ہوتے تھے۔ جن میں حال ہی میں وفات پانے والے کراچی کے صنعت کار سیٹھ عابد بھی شامل تھے۔ یہ وہی سیٹھ عابد ہیں جن کا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی کامیابی میں بڑا ہاتھ ہے وہ جوہری ٹیکنالوجی کی مشینری سکریپ کے حساب سے خرید کر پاکستان لاتے رہے اور ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ایسے ہی مخیر دولت مندوں میں چترال سے تعلق رکھنے والے نوجوان کاروباری شخصیت انور امان بھی شامل ہیں جو امریکہ میں کاروبار کرتے ہیں اور درجنوں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک ہیں۔جب حکومت پاکستان نے اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تو انور امان نے سب سے پہلے لبیک کہا انہوں نے چترال شہر میں اپنی ماں کے نام سے فائیو سٹار ہوٹل کا منصوبہ شروع کیا ہے۔

بی جان ہوٹل میں چار سے پانچ ارب کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ چترال ائرپورٹ کے قریب سینگور کی چٹان کے اوپر تعمیر ہونے والا یہ اپنی نوعیت کا منفرد اوربلاشبہ ملک کا خوبصورت ترین ہوٹل ہوگا۔یہاں سینکڑوں افراد کو روزگار ملے گا۔ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو رہائش کی بہترین سہولت ملے گی۔ سیاحت کو فروغ ملے گااور ملک کو قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو گا۔ انور امان نے سیاحت کی ترقی کے لئے حکومتی پروگراموں میں ہاتھ بٹانے کے علاوہ کئی فلاحی منصوبے بھی شروع کئے ہیں جن میں نادار طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے لئے وظائف دینا، عبادت گاہوں کی تعمیر و تزین و آرائش اور ثقافت کے تحفظ اور فروع کے منصوبے شامل ہیں۔

انور امان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس صوبے اور ملک کے متمول لوگ بیرون ملک جائیدادیں اور آف شور کمپنیاں بنانے اور اپنی دولت زیادہ منافع کے لالچ میں غیر ملکی بینکوں میں رکھنے کے بجائے اپنے ملک کی ترقی کے لئے استعمال کریں تو یہ ملک دن دگنی رات چوگنی ترقی کرسکتا ہے۔ ملک و قوم کی ترقی اورانسانیت کی بہبود کے لئے اپنی دولت خرچ کرنے والے ہی اس ملک کے اصل ہیرو ہیں اور ان کا نام لوگوں کے دلوں اور تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔


شیئر کریں: