Chitral Times

Jan 27, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مریٹوکریسی۔۔۔۔۔تحریر : سردار علی سردارؔ اپر چترال

شیئر کریں:

                                                             

صلاحیت  کا یہ لفظ یا اصطلاح  لوگوں کےلئے کوئی نیا نہیں ہے۔معاشرے کا ہر فرد کسی نہ کسی طرح اس کے مطابق     اپنے آپ کو ڈھالنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جتنی بھی کوشش کی جائے پھر بھی اس کی اہمیت و افادیت میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس دنیا میں ہر چیز قابیلت و اہلیت کا تقاضا کرتی ہے۔خود خداوند تعالیٰ کو بھی بہترین پسند ہےجیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ۔95.4

ترجمہ: ہم نے انسان کو بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں سے بہترین کی توقع کرتا ہے۔ قرآن پاک کی اس پرحکمت آیت میں لفظ احسنِ تقویم  مریٹوکریسی کا وہ اعلیٰ پیمانہ ہے جس سے انسان کی قابیلیت اور صلاحیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خداوند تعالیٰ نے خلقتِ انسان ہی سے مریٹوکریسی کی بنیاد رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قابیلیت و اہلیت کی ضرورت ہر زمانے میں اور ہر سوسائٹی میں رہی ہے اور مریٹوکریٹک سوسائٹی میں سب سے زیادہ اہمیت انسانی قابیلیت کی رہی ہے جیسا کہ پرنس کریم آغاخان نے 15 اکتوبر 1992ء کو انڈیا ناکپور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےمریٹوکریٹک سوسائٹی کے مطلب کو یوں واضح کیا۔”مریٹوکریٹک سوسائٹی کا مطلب ہے ایک ایسا ماحول جس میں لوگ اپنی کارکردگی،اپنی لیاقت اور اپنے علم کی وجہ سے مالی اور پیشہ ورانہ طور پر  ترقی کرتے ہیں جس میں مہارت، علم، لیاقت اور نظم و ضبط کی زیادہ قدر افزائی ہوتی ہے”۔

اگر ہم اپنے ارد گرد کا تجزیہ کرے تو اندازہ ہوگا تو ہماری زندگی کا ہرلمحہ ہم سے مریٹوکریسی کا تقاضا کرتا ہے۔زرا سوچیئے کہ سکول میں بچے پاس تو ہوتے ہیں مگر تالیوں کی گونج اُس وقت اُنچی ہوتی ہے جب بچۤہ  پوزیشن لیکر گھر آتا ہے۔ مارکیٹ میں ہم کپڑا لینے جاتے ہیں تو کوشش ہوتی ہے کہ اچھا اور معیاری کپڑا لے لے ۔معاشرے کے ہر ایک کی فکر معیاری اور اچھی چیز پر ہوتی ہے لیکن اس مقام کو حاصل کرنے کے لئے سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے، سخت محنت کے ذریعےانسان محرومیوں کے باوجود اپنی صلاحیتیں منوالیتا ہے ۔زیادہ دور نہیں جائینگے حال ہی کی مثال لے لیجئے پنجاب کے اُس غریب بچے کی جس نے صبح سےشام تک تندور کے اوپر جانفشانی سے کام کرتے ہوئےگریجویشن کے امتحانات میں پنجاب یونیورسٹی بورڈ میں اۤول پوزشن حاصل کیا ۔ یہ انسان کے اندر مقابلے کا وہ رجحان ہے جو مسائل کا مقابلہ کرتے ہوئے کانٹوں کے بیج میں سے راہیں نکال کر انسان کو چمن تک پہنچانے کا راستہ دیکھاتا ہے۔یہ مقابلہ اور مسلسل محنت ہی کا نتیجہ ہے کہ انسان کو معاشرتی زندگی میں طاقت اور کامیابی نصیب ہوتی ہے ۔ یہی کامیابی کا راز ہے جو محنت کرنے والے انسان کو مشکلات اور مصائب کے بعد ملتی ہے۔

مشہور عالمِ دین مولانا وحید الدین کتابِ زندگی  میں  رقمطراز ہیں ” جب آدمی کسی سخت مشکل سے دوچار ہو اور اس سے دل شکستہ نہ ہو بلکہ غورو فکر کے ذریعےاس کا حل تلاش کرےتو اس نے اپنے اندر ایک نئی طاقت پیدا کی۔اس نے اپنے اندر اس صلاحیت کو جگایاکہ وہ ناموافق حالات کا مقابلہ کرسکے۔ وہ رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھتارہے۔ مشکل نادان آدمی کو برباد کرتی ہے مگر دانشمند آدمی کے لئے ترقی کا ذینہ بن جاتی ہے۔ایسی حالت میں موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے۔ وہ ہے ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچے۔ وہ کھوئے ہوئے امکانات پر غم نہ کرے بلکہ اپنی ساری توجہ ان امکانات پر لگادے جو اب بھی اسے حاصل ہیں جو ابھی تک برباد نہیں ہوئے”۔مولانا وحید الدین کی یہ رائے یقیناََ ہر دانشمند کے لئے ایک سبق ہے کہ وہ اس اصول کو اپنا کر ہی اپنے مستقبل کے دروازے کھول دیتا ہے۔مشکلات ہی آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہیں اور محنت و مشقت ہی سے انسان کامیابی کے معیار پر اترتا ہے۔

 اگر ہم فطرت کا بغور جائزہ لے لے تو ہمیں ایسی بہت ساری مثالیں ملتی ہیں جو صرف محنت اورمریٹوکریسی کے اصول پر چلتے ہیں جیسا کہ سرزمینِ ایران کے ایک صوفی شاعر حکیم ناصر خسروؒ اپنے ایک حکیمانہ کلام میں  فرماتے ہیں۔

کرم بسیار ولیکنت یکی کرم کند

حاصل از برگ شجر مایہ و بسیار حریر

ترجمہ: دنیا میں کیڑے مکوڑوں کی کمی نہیں  لیکن زندہ صرف ریشم کے کیڑے کو رکھا جاتا ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ ریشم ایسا کیڑا ہے جو آپ کے لئے کمخواب کپڑا بنانے کا سرمایہ فراہم کرتا ہے۔

اگر اس شعر کی روشنی میں دیکھے تو یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ان کیڑے مکوڑوں کو ختم کرتے ہیں جو ہمارے لئے گندگی یا بیماری کا باعث بنتے ہیں مگر ہم اُس کیڑے کو کبھی نہیں مار سکتے جو ہمارے لئے ریشم کا کیڑا تیار کرتا ہے۔ جیسا کہ ہم شہد کی مکھی کی پرورش کرتے ہیں اور عام مکھیوں پر اسپرے کرکے اُن کا خاتمہ کرتے ہیں۔ اسطرح درخت کی مثال سے بھی مریٹوکریسی کی اہمیت کو باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔ ایک پھلدار درخت کو اُس کا مالک کبھی بھی کاٹ کر نہیں جلاتا بلکہ اسکی حفاظت کے لئے ہر قسم کی کوشش کرتا ہےجبکہ بغیر پھل کے درخت کو کاٹ کر جلایا جاتا ہے کیا خوب فرمایا حکیم ناصر خسرو ؒنے ۔

بسوزند چوب درختانِ بی بر

سزا خود ہمیں است مربی بری را۔

ترجمہ: لوگ بغیر پھل کے درختوں کو اس لئے جلاتے ہیں کہ اس میں پھل بلکل نہیں ہوتے، ایسے بغیر پھل کے درختوں کو جلانے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کیونکہ اس قسم کے درختوں کی سزا یہی ہے۔

اہلِ دانش کو معلوم ہے کہ آج کی دنیا چیلنج کی دنیا ہے یہاں تعلیمی،معاشی، مذہبی ، ثقافتی اور سبقت کے دیگر میدانوں میں معاشرتی جنگ جاری ہے معاشرہ دن بند ترقی کی جانب رواں دواں ہے اور زیادہ سے زیادہ انتخاب اور اوپشنز  پیدا ہورہے ہیں ۔ایسے  معاشرے میں صرف مریٹ یعنی قابیلیت کی بنیاد پر ہی زندگی کے فیصلے کئے جاتے ہیں کیونکہ موجودہ دور ترقی کی شاہراہ پر تیز رفتاری سے گامزن ہے ۔ سائنسی ایجادات اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں روزافزوں ترقی ،تصوۤرِ عالمگریت اور دوسرے کئی واقعات نے دنیا کی کایاپلٹ دی ہے ترقی کی اس عمل نے جہاں انسانوں کے لئے بہت سہولیات اور فوائد پید اکردیئے ہیں وہیں اُن کو اندیشوں اور پریشانیوں میں بھی مبتلا کردیا ہے ۔اب سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں اپنے اپکو اور اپنی نسل کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم اہنگ کرتے ہوئے اگے بڑھنے کےلئے تیاری کیسے کیا جائے؟۔

اس کے لئے پہلا اصول یہ ہے کہ مریٹوکریٹک معاشرے میں انسانی اقدار کا خیال رکھنا ہوگا کیونکہ انسانی اقدار کے ذریعے سے معاشرے کو بے پناہ قوت حاصل ہوگی ۔

دوسرا  اصول مریٹوکریٹک معاشرے میں دین پر عمل کرنا شامل ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے ۔جہاں انسانی جسم کی ضروریات پوری کرنے کے لئے مختلف مادی وسائل کی ضرورت پڑتی ہے وہاں انسانی روح کی ضروریات پوری کرنے کیلئے روحانی وسائل کی بڑی اہمیت ہے جو عبادات،وبندگی اور نیک اعمال کی صورت میں کی جاسکتی ہیں۔

جبکہ تیسرا  اُصول ہر روز بہتری کی کوشش کرنا شامل ہے ۔ یہ فطری امر ہے کہ ایک بہترین چیز کو حاصل کرنے کیلئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی رہتی ہے خداوندتعالیٰ بھی اپنے بندوں سے یہی تقاضا فرمایا ہےکہ

 وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ۔53.39

 انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کے لئے اس نے کوشش کی ہو ۔سخت مخنت اور کوشش کے بغیر کوئی مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔

اسطرح سیرت طیبہ کا مطالعہ کرنے سے بھی یہ حقیقت وہاں ہمیں ملتی ہے جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ اِنَ اللہَ  یُحِبُ  المُومِنُ المخُتَرِفُ۔اللہ مومن صنعت کار کو پسند فرماتا ہے۔

جب ہماری زندگی کے ہر اجتماعی پہلو مستحکم ہوں گے تو ہم مریٹوکریٹک یعنی مقابلے والے معاشرے میں نہ صرف زندہ رہیں گے بلکہ اس سے اگے بھی بڑھتے رہیں گے۔ اس پہلو کو قرآن مجید نے بہت خوبصورت انداز سے یوں بیان کیا ہے إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ۔ (13.11)

ترجمہ:بےشک اللہ تعالیٰ نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی جس قوم کو خود اپنی حالت بدلنےکی جستجو نہ ہو۔ موجودہ دور میں جہاں زندگی کے ہر پہلو میں ترقی اور تبدیلی آرہی ہے ہر فرد ہر معاشرہ اپنی بقا کے لئے کوشش کررہا ہے تو ایسے میں قرآن پاک کی ہدایات کی روشنی میں مریٹوکریسی ہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے سے ہی کامیابی ممکن ہے ۔مختصر یہ کہ قابیلیت تعلیم کے میدان میں زاتی زندگی کے ہر پہلو میں معاشرے اور افراد کے تعلقات میں اور سب سے بڑھکر مذہبی فرائض کی ادائیگی یہ سب عناصر مل کر مریٹوکریسی کے مفہوم کو مکمل کرتے ہیں۔

لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ آج کل کے نوجوانوں کو قابیلیت و اہلیت کو اپنی زندگی کا حصّہ بنانا چاہیئے اور انے والے صنعتی دنیا کے نئے چیلنجیز کو حکمت عملی اور قابیلیت و صلاحیت سے  ہی مقابلہ کرتے ہوئے  مستقبل کیلئے اپنے آپکو تیار کرنا چایئے۔ کیا خوب فرمایا کسی شاعر نے۔

تند باِ دِ مخالف سے نہ گھبرا  ا ے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے انچا اُڑانے کیلئے


شیئر کریں: