Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تلخ و شیریں….چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ …نثار آحمد

شیئر کریں:

گزشتہ شب رکنِ قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی کی طرف سے المرکز اسلامی پشاور میں چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کے اعزاز میں ایک پر تکلّف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ عشائیے میں گروپ ممبران کے علاوہ چترال سے تعلق رکھنے والے دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت فرمائی۔ اگرچہ گروپ ممبر ہونے کی وجہ سے خاکسار بھی عشائیے میں مدعو تھا تاہم “مقام ِ دعوت” سے کافی فاصلے پر ہونے کی وجہ سے شرکت سے معذور و محروم رہا۔ اس بیٹھک کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں چترال کے مختلف مکاتب فکر اور متنوّع شعبہائے زندگی کے افراد پر مشتمل وہاٹس ایپ گروپ کے ممبران شریک تھے۔

عشائیہ سے قبل المرکز اسلامی کے کانفرنس ہال میں گروپ کی کارگردگی کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اجلاس میں سابقہ کارگردگی پر اظہارِ اطمینان بھی کیا گیا اور آیندہ کے لئے پہلے سے بھی زیادہ فعّال ہو کر اہل علاقہ کی حسبِ استطاعت خدمت میں مصروف رہنے کا تہیہ بھی کیا گیا۔ پروگرام کے آخر میں محترم صادق امین مرحوم اور راجہ عادل غیاث مرحوم کو اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا۔

صادق امین مرحوم کی خدمات کی بابت تقریباً ہم میں سے ہر شخص واقف ہے۔ صادق صاحب نے زندگی بھر خدمت کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور خدمت کرتے کرتے چل بسے۔  البتہ راجہ عادل غیاث مرحوم کا نام شاید بہت سارے قارئین کے لئے  نیا ہو گا۔ گہکوچ گلگت سے تعلق رکھنے اس مرد ِ درویش کی کل وجہِ شہرت بھی خدمت ہی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسا آپ کی تخلیق ہی دوسروں کی خدمت کے لئے ہوئی ہو۔ محترم صادق امین کی شیلڈ ان بیٹے اور بہنوئی نے وصول کی۔ جبکہ راجہ عادل غیاث کی شیلڈ محترم محمد علی مجاہد نے ان کی نیابت میں حاصل کی۔ اسی طرح شاہی خطیب محترم مولانا خلیق الزمان کاکاخیل کو بھی حسنِ کارکردگی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔

 ایسی بیٹھکیں عموماً صرف نشستن و گفتن و برخاستن اور خوردن کی عملی تصویر ہوتی ہیں۔ اُن سے کسی مفید اور مثبت سرگرکی کی امید وابستہ نہیں کی جاتی۔ لیکن چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کی یہ نشست اس لئے اُن بیکار بیٹھکوں سے مستثنیٰ تھی کہ اِس میں چترال اور چترالیوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے  سیر ِحاصل ٹھوس گفتگو ہی نہیں ہوئی بلکہ مسائل کے حل کے لئے لائحہ ء عمل بھی تیار کیا گیا  جب سے یہ پلیٹ پلیٹ فارم وجود میں آیا ہے اِس سے چترالیوں کے لئے کسی نہ کسی شکل میں خیر کا سوتا ہی پھوٹا ہے۔ جس پلیٹ فارم کا قیام ہی اہل ِ علاقہ کے مسائل سے آگہی و واقفیت کے بعد اُن سے نمٹنے کے لئے لائحہ ء عمل  تشکیل دینا ہو اس کے افراد کا اجتماع اہل علاقہ کے حق میں سود مند ثابت نہ ہو، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ 

چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ کیا ہے؟ 

چترال انفارمیشن اینڈ ہیلپنگ گروپ چترال سے تعلق رکھنے والے مختلف مذہبی، سیاسی، ادبی، طبی، سماجی اور سرکاری اہلکاروں پر مشتمل ایک وہاٹس ایپ گروپ ہے۔ جس کا مقصد دستیاب وسائل کو بروئے کار لا کر انسانیت کی خدمت ہے۔ اس میں سیاست دان بھی ہیں اور سماجی کارکن بھی۔ نامی گرامی ڈاکٹرز ہیں اور صحافی بھی۔ لائق فائق بیورو کریٹ ہیں  اور ممتاز علماء کرام بھی۔ دانشور و وکلاء ہیں اور انتظامی امور کے زمہ داران بھی۔ عصبیت و منافرت کی کسی بھی شکل سے پاک اس وہاٹس ایپ گروپ کو اسلام آباد میں موجود ایک مثبت زہن کے حامل ایک مجاہد انسان نے تخلیق کیا ہے۔ یہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے جس  میں گروپ ایڈمن نے چن چن کر ہر قسم کی خوشبو سے معطر اور ہر رنگ سے مزیّن پھول پروئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس گلدستے کو قائم و دائم رکھے۔


شیئر کریں: