Chitral Times

Jan 27, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپنا اصلاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صوفی محمد اسلم

شیئر کریں:

کراچی سے ایک عالم دین سالانہ تراویح پڑھانے کی غرض سے جاپان جایا کرتا تھا. ایک دفعہ اس نے چاپانیوں کو دعوت اسلام دینا چاہا اور ایک جاپانی مسلم  سے اس کا تذکرہ کیا تو اس نے کہا کہ بھائ یہ پرکٹیکل لوگ ہیں. انہیں قائل کرنے کیلۓ عملی نمونہ درکار ہے. اپ کس کو پیش کروگے. وہ کہتا ہے کہ  پہلے تو پاکستانوں پر طنز سمجھ کر بہت برا لگا اور بعد میں ٹھنڈے  دماغ  سے سوچا کہ مسلمانوں سے  جاپانیوں کے معامات کہیں ذیادہ بہتر ہیں. جیسےطلب حسین نے لکھا تھا کہ جاپان میں نہ جگہ جگہ تبلیعی اجتماع ہوتے ہیں، نہ عمرہ حج کرنے والوں کا رش، نہ مساجد اور نہ مدارس،  نہ جمعہ کے خطبات،  نہ پیر نہ مرشد پھر بھی جاپان جنت نظیر، کوئ قتل نہیں ہوتا ، کسی پر ظلم نہیں ہوتا، کوئ بھوکا نہیں سوتا.


دیانت میں دنیا میں پہلے نمبر پر . کروڑوں روپے سڑک پر پھینک دے کوئ اٹھاتا نہیں. یہ دنیا میں سب سے زیادہ کام کرنے والا قوم ہے. کام اتنے کرتے ہیں کہ خود وزیر اعظم ہاتھ جھوڑ کر آرام کرنے کی استدعا کرتا ہے. پانچ منٹ ریل گاڑی  لیٹ ہوجاۓ تو پوری کمپنی بند. کسی کو کہنی لگے وہ اگے سے سر جھکا کر معزرت کیلئے تیار . ثقافت کمال کا، دونمبری کا سوچنا بھی محال. بازاروں اور سڑکوں پر گندگی نظر نہیں اتے. ان کے معاملات دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان پر حقوق العباد فرض کیا گیا ہے اور ہم پر صرف حقوق اللہ وہ بھی ہم ادھورا چھوڑ کر چلے جاتے. کوئ بھی مسلم نہیں مل رہا ہے جس کو نمونے کے طور پر پیش کرسکوں اور کیسے انہیں اسلام کی دعوت دوں.


ایک دن کسی پیج پر پوسٹ نظر سے گزری کہ ایک صاحب کہتا ہے کہ اخر اسلامی تعلیمات مسلمانوں کے اعمال میں نظر کیوں نہیں اتے ہیں. جن چیزوں کو اسلام نے منع کیا ہے مسلمانوں میں وہی ممنوعات عام نظر اتے ہیں. جیسے شراب، زنا، خیانت، کرپشن ، دھوکا بازی ، عیبت، جعلسازی ، چوری، جھوٹ، گالی گلوچ اور لعن طعن کرنا. مجھے اس پوسٹ کے ردعمل میں لفظ” افسوس“ کے سوا  لکھنے کو کچھ نہ ملا. وہ نماز جو اپکو کسی برائ سے نہ روک سکے ایسے نماز کی قبولیت کی امکانات بہت کم ہوتی ہے. 


اخر سوچنا چاہیں کہ ہم میں یہ برائیاں کیسے عروج پکڑلیں. کھبی اپ نے غور کیا کہ وہ کونسے وجوہات ہیں کہ ہمیں ہمارے نظروں کے سامنے رونما  ہونے والے برائیاں نظر نہیں اتے ہیں یا دیکھ کر نظرانداز  کرتے ہیں.


رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ ( مفہوم) اگر اپ کے سامنے کوئ بھی غلط کام ہورہا ہو تو اپنے ہاتھ سے روکو، اگر اپ اسے روکنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں تو زبان سے اسے روکنے کی کوشش کرو ، اگر یہ بھی نہ کر سکتے ہو تو کم ازکم  دل سے برا مان لو. یہ ایمان کا اخیری درجہ ہے.


کیا ہمیں اپنے ایماں کے فکر ہے بھی کہ نہیں. ہمارے  معاشرے میں کچھ اور ہی نظر اتا ہے. برائ پھیلانے والے کے خلاف ہاتھ کا استعمال یا زبان کا استعمال  تو دور کی بات کوئ دل سے بھی برا ماننے  والے نہیں ملتے ہیں. دیکھا جاۓ تو برائ کے جاۓ وقوعہ پر لوگ  پر لطف نظر اتے ہیں.  کوئ شکايت نہیں  کرتا. نہ اسے پکڑ کر پولیس کو حوالہ کرنا چاہتا ہے.


درج بالا حدیث کو  پیمانہ مان لیا جاۓ تو ہمارے ایمان کے قیمت کھوٹہ سکہ کے برابر بھی نہیں بچتی ہے. کہی ایسا تو نہیں کہ ہم اللہ تعالے کے عظيم صفات الرحمن اور الرحیم سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور  یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالی کے ایک اور صفت القہار بھی ہے. ہم رسول اللہ کی شفاعت کے بڑی امید میں رہتے ہیں . کیا رسول اللہ ایسے شخض کے  شفاعت فرمائے گا جو آپ کے اصولوں کو روندتے ہوۓ آگۓ ہوں.  یہ کیسا ہوسکتا ہے جو دنیا میں معاشرتی درجہ بندی کے لحاظ سے سب سے اخر میں انے والا اللہ تعالی  اور اس رسول  کے سامنے پہلے نمبر پر اۓ. 


حضرت عائیشہ رض رسول اللہ  کے حوصلہ افزائی کیلۓ جن الفاظ کو انتخاب کی وہ یہ ہیں کہ آپ یتیموں، مسکینوں ، مسافروں اور لاچاروں   کی مدد کرتے ہیں اللہ اپ کو کھبی بھی  اکیلا نہیں چھوڑے گا . اج ہم اکیلے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اکیلا چھوڑ دیا ہے.


ہم اپنےمعاشرےمیں نظر دوڑاۓ تو ناپ طول میں کمی، رشوت لینے دینے میں مہارت، یتیموں کے حق کھانے، بہن بٹیوں کو حق دینا تو دور کی بات کھبی کھبی اس جائیداد کے لالچ میں شادی تک نہیں کرنے دینے  ،اگر وہ اپنے پسند کی شادی کر بھی لے تو پورے انسانیت کو ختم کرنے میں دیر نہ کرنے جیسے صفات کے ساتھ جیتے ہیں. زبان پر الحمد اللہ، سبحان اللہ  سجائے رکھتے ہیں مگر جب وقت اتی ہے تو لومڑی کو حلال ثابت  کرنے  میں دیر نہیں کرتے.  ملاوٹ عادتاً کرتے ہیں. جھوٹ بولی کو ہم زمانے کا فن سمجھتے ہیں. بچوں کے ساتھ  زیادتی عام، منشيات ذہنی سکوں کا ذريعہ. ایسی کونسی برائ ہے جس کو ہم روزمره کے بنیاد پر نہ ازما رہیں ہیں. کسی کے ظلم و زیادتی سے زیادہ عدالتی انصاف سے ڈر لگتا ہے ایک کیس کی سماعت دس بیس سال چلتا رہتا ہے.


ہم مسلمانوں کو  اپنے اصلاح کیلۓ کہاں جانا ہوگا کہ ہمیں ہمارے اللہ تعالی دوبارا ملے اس کے لۓ اللہ تعالی کو منانا ہوگا . اللہ تعالی کے سامنے اپنے لاپرواہیوں کی معافی مانگنا ہوگا. برائیوں کو معاشرے سے دور پھینکنا ہوگا. 


شیئر کریں: