Chitral Times

Jan 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سیاسی وغیر سیاسی اساتذہ۔۔۔۔ پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:


خلیفہ ہارون الرشید کے بیٹے اپنے استاد کے جوتے سیدھے کرنے کو باعث سعادت سمجھتے تھے۔ اب ایسے اساتذہ اور شاگردوں کا قحظ برپا ہو چکا ہے۔ہمارے نظام نے تعلیم و تعلم کو عزت و وقار، خلوص و محبت، رہنمائی و ہدایت تربیت و ہدایت، روحانیت اور ادب و احترام سے نکال کر کمرشلائیز کر دیا ہے۔جیسا دیس ویسا بھیس، جیسا نظام ویسا معاشرہ اور جیسے اساتذہ ویسے شاگرد۔ اساتذہ پر پولیس گردی کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے مگر ہم اکثر تصویر کا ایک رخ دیکھنے کے عادی ہیں۔ ہمیں تصویر کے دونوں رخ دیکھ کر انصاف کے ساتھ اپنی رائے قائم کرنی چاہیے۔

ہمارے ہاں باقی اقسام کی پروریوں کی طرح طبقہ پروری بھی کسی ناسور سے کم نہیں ہے۔ اس کو طبقہ پروری کہہ لیں یا طبقہ پرستی۔ ہم اپنے مخصوص طبقے کے لیے اپنی جیب میں ایک خاص عینک لیے پھرتے ہیں۔جب بھی کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے ہم اپنی وہ مخصوص عینک چڑھا کر پڑھنا، لکھنا، بولنا، سننا اور سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ عینک ہر طبقے کے پاس موجود ہے۔ یہ عینک دیسی اور ولایتی دونوں اقسام میں پائی جاتی ہے۔دیسی عینک کا استعمال کافی زیادہ ہے۔ جیسا کہ مذہبی عینک، سیکولر عینک،سرکاری عینک،لسانی عینک،مجرمانہ عینک،قانونی عینک، سیاسی عینک اورتعلیمی عینک۔ ہمارے کمزور نظام نے مختلف قبضہ گروپوں کو جنم دیا ہے۔عام طور پر ہم زمینوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرنے والوں سے واقف ہیں

مگر ہم یہ نہیں جانتے کے ہمارے ملک میں ہر شعبے میں قبضہ گروپ موجود ہے جو پریشر گروپ کے طور پر کام کر تے ہیں۔ ان تمام گروپس کو ہمیشہ اپوزیشن یا کسی اوراندرونی یا بیرونی طاقت کی شیر باد حاصل ہو تی ہے۔ آزادکشمیر میں اساتذہ پر ہونے والی پولیس گردی قانون والوں کے ہاتھوں ایک غیر قانونی عمل ہے مگر اس میں اساتذہ کو فرشتہ قرار دینا بھی ناانصافی ہے۔ احتجاج کرنے والوں میں سیاسی اساتذہ کی اکثریت ہے۔ ان میں سے زیادہ تر سیاسی یا رشوت کے زینے طے کر کے اس منصب پر فائز ہوئے ہیں۔کچھ اساتذہ میرٹ کا گلہ کاٹ کر بھرتی ہوئے ہیں اور کچھ سیاسی رہنماوں کی الیکشن کمپینز چلا کر بھرتی ہوئے ہیں۔ نظام تعلیم میں پروموشن اور اپ گریڈیشن کا ایک نظام موجود ہے اور بوقت تقرری اس شعبے کے اصول و ضوابط اور شرائط سے متفق ہو کر نوکری اختیار کی ہے۔

اب خلاف ضابطہ اپ گریڈیشن کے تقاضے غیر آئینی ہیں۔ماضی بعید میں اساتذہ غیر سیاسی ہوا کر تے تھے مگر اب غیر سیاسی استاد ڈھونڈنا اتنا ہی مشکل ہو چکا ہے جتنا کہ الہ دین کا چراغ۔ یہ اساتذہ قانونی راستہ اختیار کر تے مگر انہوں نے دھونس، دھاندلی اور لاقانونیت کا راستہ اختیار کیا۔ مستقبل کے یہ معمار اپنے علاقوں میں اپنے پرائیویٹ سکولز چلاتے ہیں۔ سرکاری سکولوں میں اپنے پرائیوٹ سکولز اور اکیڈمیوں کی مارکیٹنگ کر تے ہیں اور غریب والدین پر مالی بوجھ بنتے ہیں۔ اگر یہ اساتذہ سرکاری سکولوں میں ایمانداری سے پڑھائیں تو پرائیوٹ سکولز، اکیڈمیوں اور ٹیوشنز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پرئیویٹ سیکٹر اب ایک جن بن چکا ہے جو کہ سرکاری سکولوں، ان کے نظام اور سرکاری اساتذہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اپنے حقو ق کا نعرہ لگانے والے یہ اساتذہ پڑھانے کے بجائے اپنے کاروبارچلاتے ہیں اور سکولوں میں اپنی جگہ کسی رشتہ دار کو خانہ پری کے لیے بھیج دیتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے کے شعبہ تعلیم بھی ایک لحاظ سے ایک مافیا اور پریشر گروپ ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا۔

سرکاری سکولوں کی مراعات اور ان کی کارکردگی سے کون ناواقف ہے۔ اگر ان اساتذہ کو حقیقتتا ایسا لگتا ہے کہ ان کا معاوضہ ان کی خدمت کے مقابلے میں کم ہے تو نوکر ی سے استعفی کیوں نہیں دے دیتے۔ جب نوکری شروع کی تھی تب ان سب کو معلوم تھا کتنی تنخواہ ہے اور ترقیاب کیسے ہونا ہے۔ نوکری کے لیے لاکھوں روپے دی جانے والی رشوت،سیاسی پروگرامات کے خرچوں کو کہاں سے پورا کرنا ہے۔ اب یہ کسی شارٹ کٹ کے چکر میں ہیں کیونکہ نوکری بھی تو شارٹ کٹ فارمولے کے تحت ملی ہے۔اقتدار کے ایوانوں سے باہر بیٹھے افراد ان کی پشت پناہی کر رہے ہیں کیونکہ ان میں سے اکثریت ان اساتذ ہ کی ہے جنہیں پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کے دورحکومت میں بھرتی کیا گیا ہے۔

اپنا فریضہ چھوڑ کر سیاست کرنے والے اساتذہ قوم کے معمار نہیں ہو سکتے۔ اگر پھر بھی انہیں لگتا ہے کہ ان کے ساتھ ذیادتی ہو رہی ہے تو پرئیویٹ سیکٹر میں آئیں،مقابلے کی فضاء میں دوڑ لگائیں تو انہیں پتہ چلے گا استاد بننا کتنا کھٹن ہے۔ مگر میں یہ بات وثوق کے ساتھ کہتا ہوں جو سرکاری استاد 30000 تنخواہ لیتا ہے ا سے 50000 کی پیشکش کریں وہ 20000 کی سرکاری نوکری چھوڑ کر 50000 کیا وہ 70000 پر بھی آنے کو تیار نہیں ہوگا۔ حکومت کو لاٹھی چارج کے بجائے اس پریشر گروپ کے خلاف محکمانہ کاروائی کرنی چاہیے۔ حکومت کے پاس دوبہترین آپشنز موجود ہیں۔

نمبر ون آپشن یہ ہے کہ حکومت ان اساتذہ کی آسامیوں کو دوبارہ سے مشتہر کرے اور این ٹی ایس کے تحت امتحان منعقد کروائے جو پاس کر جائیں ان کو پاکستان کے اساتذہ کے مطابق معاوضہ پر بھرتی کر لیا جائے اور جوناکام ہو جائیں ان کوفارغ کر دیا جائے۔ یقین مانیے ان میں سے 80% فیل ہو جائیں گے اورپڑھے لکھے قابل نوجوانوں کے لیے جگہ بن جائے گی۔ دوسرا آپشن حکومت محکمانہ اصول و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کرواتے ہوئے نظام کے خلاف چلنے والے اساتذہ کو نوکری سے فارغ کردے۔اپوزیشن میں بیٹھی سیاسی پارٹیاں اپنے ادوار میں اساتذہ کے ساتھ کسی رحمدلی سے کام نہیں لیتی تھیں مگر اب وہ ان کے حقوق کی محافظ بن رہی ہیں۔

میاں وحید اور مفتی منصور صاحب نے ساری بھرتیاں سیاسی اور راشی بنیادوں پر بولیاں لگا کر کیں تھی۔ پیپلز پارٹی نے دینی شعبہ سے منسلک کنٹریکٹ پرکام کرنے والے ہزاروں اساتذہ کو نوکری سے نکال دیا تھا مگر اب اساتذہ کے حقوق کے لیے بیانات دے رہے ہیں۔ چور دروازے سے آنے والے اساتذہ کسی احترام کے مستحق نہیں ہیں۔ رشوت دے کر بھرتی ہونے والے کسی ادب کے حقدار نہیں ہیں۔ سیاسی مہمات، پروگرامات اور الیکشن کمپینز چلاکر بھرتی ہونے والے اساتذہ درحقیقت اس نسل کے قاتل ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے اس شعبے میں گھس چکے ہیں۔حکومت کو چاہیے پرائیویٹ سیکٹر والے سارے اصول و ضوابط سرکاری سکولوں میں نافذ کرے تا کہ ان کو پتہ چلے پڑھانا کسے کہتے اور گھر بیٹھ کر مفت کی تنخواہیں لینا کیسا ہو تا ہے۔ 


شیئر کریں: